بزرگان دین کا بچھڑنا ملت اسلامیہ کے لئے صدمہ عظیم!

سہارنپور(احمد رضا): معروف علمی اور روحانی شخصیت کے علمبردار شیخ الحدیث مولانا سید محمد عاقل سہارن پوری ناظم اعلی جامعہ مظاہر علوم سہارن پور کا انتقال پر ملال اہل اسلام کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے اللہ تعالیٰ حضرت عاقل صاحب رح کی مغفرت فرماتے ہوئے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین! واضع ہو کہ شیخ جامعہ مظاھر علوم کے شیخ الحدیث و ناظم اعلی شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور داماد، بہت سی تحقیقی علمی دعوتی کتابوں کے مصنف ومرتب اور مشہور عالم دین  ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاق حسنہ اور ملنسار ی کا پیکر تھے آپکے رحلت فرما نے سے ملت اسلامیہ کو جو خسارہ پہنچا ہے اس کا بیان کرنا ممکن ہی نہیں مولانا سید محمد عاقل سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پر ملال کے بعد سے ہی پوری دنیا سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے آپکی وفات پر عاشقِ ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی (قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل) نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الحدیث مولانا سید محمد عاقل کے انتقال کی خبر دل گرفتہ کرنے والی ہے۔ مولانا عاقل نہ صرف جامعہ مظاہر علوم سہارن پور کے روحِ رواں تھے بلکہ اکابر واسلاف کے علوم و فنون کے سچے امین اور علم و عمل کا حسین پیکر تھے۔ آپ کی علمی، دعوتی، تصنیفی اور تحقیقی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ بالخصوص شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کے علوم و معارف سے جس انداز میں آپ نے استفادہ کیا اور ان کے مشن کو آگے بڑھایا، وہ لائق تحسین ہے۔ آپ کی مشہور تصنیف "الدر المنضود” ابوداؤد شریف کی شرح کے طور پر علمی حلقوں میں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ ملک و بیرونِ ملک ہزاروں افراد آپ کے علمی فیض سے بہرہ ور ہوئے۔
اللہ رب العزت مولانا کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی (مہتمم جامعہ رحمت، گھگھرولی) نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ مولانا سید محمد عاقل کی وفات علمی دنیا کا عظیم خسارہ ہے۔ آپ کی زندگی علمی، ادبی، دعوتی اور انتظامی خدمات کا روشن باب ہے۔ مولانا نہایت محنتی، منتظم، بیدار مغز اور متواضع شخصیت کے حامل تھے۔ آپ نے مظاہر علوم میں تدریسی خدمات کے ذریعے ادارہ کو علمی ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
مولانا کو شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی سے والہانہ تعلق اور علمی مناسبت حاصل تھی، اسی نسبت سے آپ ان کے خلیفہ اور داماد بھی تھے۔ ان کی مجلس علم و حکمت کا خزینہ ہوتی تھی، جہاں ہر خاص و عام مستفید ہوتا اللہ تعالیٰ مولانا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے علمی، دعوتی و تحقیقی مشن کو جاری رکھنے کی توفیق وارثین اور متعلقین کو عطا فرمائے آمین مولانا سید محمد عاقل کے انتقال پر جامعہ رحمت گھگھرولی میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی، جس میں مرحوم کے لئے ایصالِ ثواب اور دعاءِ مغفرت کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ نشست میں طلبہ و اساتذہ نے شرکت کی اور مولانا کے علمی و روحانی کارناموں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کی گئیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے