مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں میں انجمن الاصلاح کے عہدے داران کا انتخاب نو

(محمد رضوان گوہر ندوی)

مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں ضلع سنت کبیر نگر شاخ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں سال رواں انجمن الاصلاح کا افتتاحی پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں انجمن الاصلاح کے عہدے داران کابھی انتخاب نو عمل میں آیا جس میں جنید احمد بن اقبال احمد عالیہ اولی شریعہ کو انجمن الاصلاح کا ناظم ، محمد ذیشان ثانویہ خامسہ کو نائب ناظم، محمد ندیم بن قاری صدر الدین کو امین العام اور محمد مکرم عالیہ اولی شریعہ (عربی پنجم) کو نائب امین العام مقرر کیا گیا، معتمد دار الکتب عہدہ کے لئے ابرار احمد ثانویہ ثانیہ ،نائب کے لئے عبد الرحمن ثانویہ رابعہ اور معاون کے لئے عبد الخالق ثانویہ خامسہ کا انتخاب کیا گیا ، اسی طرح معتمد بزم صحافت کے لئے محمد ریحان عالیہ اولی ان کے نائب کے طور پر محمد سفیان اور محمد حذیفہ کو کثرت رائے کی بنیاد پر منتخب کیا گیا جب کہ معتمد بزم ثقافت محمد ساجد اور نائب محمد شکیل اور اسعد اللہ کو متعین کیاگیا- اس کے علاوہ جداری پرچے ماہنامہ نوید صبح، شاہین، البدر، وائبریشن آف پین اور اجول بھوشیہ کے ایڈیٹران، ان کے نائبین، امناء صفوف، امناء غرف، ارکان اور ہر بزم کے سرپرست بھی منتخب کئے گئے۔
اس موقع پر مولانا منیر احمد ندوی مہتمم مدرسہ نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 25 سال سے طلبہ کی بزم "انجمن الاصلاح” قائم ہے، جس کے زیر اہتمام طلبہ ہر ہفتہ اپنے اساتذہ کی نگرانی میں کوئی نہ کوئی تعلیمی ثقافتی اور تربیتی پروگرام کرتے رہتے ہیں، مختلف زبانوں میں منتخب موضوعات پر تقریروں کی مشق کرتے ہیں، کبھی سنن و آداب اور دعاؤں کے حفظ میں مسابقہ کرتے ہیں، تو کبھی کبھی نحو و صرف کبھی تجوید و قرات کی بزم سجتی ہے، کبھی فقہی مسائل، معلومات عامہ، بیت بازی، حمد و نعت اور مضمون نویسی و مقالہ نگاری میں اپنے جوہر دکھانے اور امتیازی پوزیشن حاصل کرنے پر داد و تحسین حاصل کرتے ہیں، پورا سال انہماک، لگن، دلچسپی اور دل جمعی کے ساتھ اساتذہ کی نگرانی میں حصہ لیتے ہیں ہمیں امید ہے آپ تمام طلبہ اس انجمن الاصلاح کے اس اسٹیج سے خوب خوب فائدہ اٹھائیں گے کیونکہ موجودہ دور میں قوت بیانی کی سخت ضرورت ہے تاکہ فرقہ پرست طاقتوں اور ظلم کے خلاف زبان وبیان اور تحریر کے ذریعہ مقابلہ کیا جا سکے، طلبہ وقت کے قیمتی لمحات کو ضائع نہ کریں۔

صدر مدرس مولانا غفران احمد ندوی نے کہا کہ زبان و بیان کی اہمیت و افادیت ہر دور میں مسلم رہی ہے، تقریر و تحریر کے ذریعہ دنیا کا محبوب ترین مقام حاصل کیا جا سکتا ہے، گناہوں کے بوجھ سے بے حال، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی انسانیت کو بچایا جا سکتا ہے، معاشرہ سے بے حیائی، بے غیرتی، فسق و فجور اور منکرات کو دور کیا جاسکتا ہے، تقریر دعوت الی اللہ، اصلاح امت اور دفاع اسلام کا بہتر ذریعہ ہے۔ طلبہ کے لئے ضروری ہے کہ مدارس سے صرف نرا عالم بن کر نہ جائیں بلکہ عالم کے ساتھ مخلص مبلغ اور فکر مند داعی بن کر جائیں اور اپنے گھر اور اپنے محلے علاقے والوں میں اللہ اور اسکے رسول کا پیغام پہنچائیں۔

اس موقع پر مفتی محمد عاصم ندوی معتمد تعلیمات ،مولانا ذکی احمد ندوی، قاری محمد ارشد قاسمی، مولانا محمود احمد قاسمی ندوی ،مولانا انیس الرحمن ندوی، قاری ولی الدین ندوی ،قاری عظمت اللہ ،حافظ علاء الدین، حافظ وسیم اختر،قاری محمد انیس قاری محمد رضوان ندوی خاص طور پر موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے