بیدر۔ 29؍مئی (محمدیوسف رحیم بیدری): 28؍مئی اتوارکو حیدرآباد کے مانصاب ٹینک کے خواجہ منشن میں اردو صحافیوں کی ایک قومی کانفرنس تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی جانب سے زیرصدارت جناب ایم اے ماجد سابق رکن پریس کونسل آف انڈیا اور صدر تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن منعقد ہوئی ۔ جو صبح 10 بجے سے شام5بجے تک مختلف دانشور، مختلف زبانوں کے سینئرصحافی ، صحافتی ماہرین اور سیاست دانوں کی تقاریر ، سوالات ،اور ویڈیو فلم پرمشتمل رہی۔ کانفرنس کے اختتام پر تلنگانہ ، کرناٹک ، مہاراشٹرم، گجرات ، چھتیس گڑھ اور آندھراپردیش کے اردوصحافیوں کی جانب سے قراردادیں پیش کی گئیں جو ہاتھ اٹھاکر منظور کی گئیں۔ اس وقت شہ نشین پر فیڈریشن کے صدر ایم اے ماجد ، سید غوث محی الدین جنرل سکریڑی، ایم اے محسن خازن ، نائب صدور سید عظمت علی شاہ ، جناب عبدالقادر فیصل، جناب سید احمد جیلانی ، جناب حبیب علی الجیلانی ، تنظیمی سکریڑی جناب سید واجد حسینی ، جناب محمد شبیر علی سابق وزیر اور سابق ایم ایل سی ، سری رام کرّی ایڈیٹرانگریزی روزنامہ’’ دکن کرانیکل‘‘ حیدرآباد اور دیگر شخصیات موجودتھیں۔

محترمہ ساجدہ بیگم ایگزیکٹیو ممبر نے کرناٹک کی درجِ ذیل قرار دادیں پڑھ کر سنائیں جسے ہاتھ اٹھاکر کانفرنس کے شرکاء نے منظوری دی۔ (۱) اردو صحافیوں اور ان کے اہل وعیال کے لئے ہیلتھ انشورنس کی سخت ضرورت ہے۔ اس طرف فوری حکومت ِ کرناٹک متوجہ ہو۔اسی طرح اگر کوئی صحافی اچانک فوت ہوجائے یا بیمارہوکر فوت ہویاپھرڈیوٹی پر کسی حادثہ میں جاں بحق ہوان کے اہل وعیال کو 10؍لاکھ روپئے کی رقم حکومت اداکرے۔ (۲) اکریڈیشن کارڈ رکھنے والے کرناٹک کے اردو صحافیوں کے بچوں کی سرکاری فیس میں پرائمری تا اعلیٰ تعلیم رعایت دینے کااعلان کیاجائے ۔ صحافی کی دو لڑکیوں کی شادی میں حکومت فی شادی 5لاکھ روپئے جاری کرے۔ (۳) ایسے صحافی جو اکریڈیشن کارڈ نہیں رکھتے ،اور ضلع میں کام کررہے ہیں ، انہیں بس پاس کی سہولت کرناٹک کی سدرامیاحکومت دے۔ ایک اخبار کے تین سے زائد صحافیوں کو بس پاس جاری ہوں (۴) صحافیوں کو دی جانے والی تربیت میں ٹیکنالوجی اور جدید ضروریات سے متعلق تربیت کو حکومت کرناٹک شامل کرے۔تربیتی کے اختتام پر مفت لیپ ٹاپ ؍موبائل ؍اورکیمرہ دیاجائے۔(۵)ایسے اقلیتی زبانوں کے طلبہ خصوصاًاُردو صحافتی طلبہ جو صحافت کے ذریعہ ریاست کرناٹک اور اپنے ملک بھارت کی خدمت کرناچاہتے ہیں انہیں ایک سالہ یادوسالہ اسٹائفنڈ جاری کیاجائے (۶)حکومت کرناٹک کی جانب سے ریاستی سطح پردئے جانے والے میڈیا اکیڈمی کے اعزازاور ایوارڈ میں اُردو صحافیوں کوبھی شامل کیاجائے۔اور یہ اعزازدینے سے متعلق تین رکنی پینل اسلئے ضروری ہے تاکہ اردو صحافیوں کی شمولیت میں تکنیکی آسانی ہو۔اوراس پینل کاکوئی اردو صحافی بھی رکن ہو۔(۷) تلنگانہ حکومت کی طرح کرناٹک کی حکومت بھی صحافیوں کیلئے ڈبل بیڈ روم اسکیم شروع کرے۔ (۸) کرناٹکا اردو اکادمی سال میں دومرتبہ صحافیوں کے لئے کارگاہ کا نظم کرے ۔ اوراردوصحافیوں کی جانب سے لکھی جانے والی کتابوں کی اشاعت کااہتمام کرے۔اسی طرح اردو صحافیوں کے علاج ومعالجہ کے لئے فی صحافی 25ہزار روپئے رقم جاری کی جائے ۔ (۹)اکریڈیشن کارڈ رکھنے والے صحافیوں کے لئے حکومت کرناٹک ماہانہ پنشن جاری کرتی ہے۔لیکن سبھی صحافیوں کے پاس اکریڈیشن کارڈ ہو یہ ممکن نہیں ہے۔ اس لئے کوئی صحافی اگر 10-15سال سے صحافتی خدمات انجام دے رہاہو ، اس کو اسی سرویس گراؤنڈ پر پنشن جاری کیاجائے ۔(۱۰) فری لانس اور انڈیپنڈنٹ جرنلسٹس کے لئے بھی اکریڈیشن کارڈ جاری کئے جائیں۔(۱۱) مختلف ریاستوں سے کرناٹک میں آنے والے اردو اخبارات کو میڈیالسٹ میں شامل کرتے ہوئے اکریڈیشن کارڈ جاری کیاجائے ۔

تلنگانہ اردوورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی 28؍مئی 2023کوحیدرآباد میں منعقدہ یہ قومی کانفرنس مذکورہ تمام قرار دادوں کی پرزور تائید کرتی ہے۔ اور حکومت کرناٹک سے ان مطالبات کوپوراکرنے کی سفارش کرتی ہے۔ واضح رہے کہ بیدر سے سینئر صحافی سید یداللہ حسینی ، محمد شجاع الدین ، محمد امین نواز، محمد عبدالصمد منجووالا، محمد یوسف رحیم بیدری، محمد علیم الدین بندہ نوازی ، عبدالقدیرلشکری ، مولانا مفتی افسرعلی ندوی نعیمی ، محمد امجد حسین، محمد فراست عمران خان ، محمد کلیم الدین روشن ، محمد سراج الحسن شادمان ، محمدسلطان ، اور گلبرگہ سے مبین احمدزخم وغیرہ اس ایک روزہ قومی اردو کانفرنس میں شریک رہے۔ کانفرنس کے اختتام پر تلنگانہ اردوورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی جانب سے شرکاء میں مومنٹو تقسیم کئے گئے ۔ کانفرنس بے حد کامیاب رہی۔ تلنگانہ ، کرناٹک ، مہاراشٹر، آندھراپردیش ، گجرات اور چھتیس گڑھ سے 800سے زائد اردو صحافی تقریب میں شریک رہے۔

2 thoughts on “حیدرآباد میں منعقدہ اردو صحافیوں کی قومی کانفرنس میں کرناٹک کے اردو صحافیوں سے متعلق قراردادیں منظور”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے