اعداد: محمد وسیم راعین
تعلیمی اداروں میں گرمی کی مناسبت سے سالانہ چھٹی ہونے والی ہے یا ہو چکی ہے ۔ طلبہ و طالبات روٹینی کلاسوں سے کچھ دنوں کے لئے فرصت پاتے ہیں اور انہیں نظامی درس سے ایک بڑی چھٹی کی شکل میں فرصت کے ایام ہاتھ آتے ہیں۔
فرصت کے ایام و لمحات شرعی اعتبار سے غنیمت ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُهُ: ” اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هِرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَغِنَاءَكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ(المستدرك :7846)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: "پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جان لو جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے ، فرصت کے اوقات کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے "۔
بلکہ اکثر لوگ تو فرصت کے اوقات سے متعلق دھوکہ میں ہیں : "نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ "(صحيح البخاري:6412) ’’ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں ہیں صحت اور خالی اوقات ‘‘۔
ایک مؤمن کی زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے ۔ قیامت کے دن ہر ہر لمحہ کے بارے میں سوال ہونے والا ہے ۔اسی لئے ہمیں اپنی زندگی کے پَل پَل کی قدر کرنا چاہیے ۔
ایک طالب علم کے لئے طلبِ علم کا مرحلہ بڑا ہی قیمتی ہوتا ہے ۔یہ مرحلہ خود کو بنانے اور سنوارنے کا ہوتاہے۔اس ناحیہ سے ان کے لئے چھٹی کے لمحات بڑے ہی قیمتی ہیں ۔ان کو مفید کاموں میں استعمال کرنا چاہیے۔
جب ہمارے پاس کوئی قیمتی چیز ہوتی ہے تو ہم اس کے تئیں کس قدر احتیاط برتتے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن بتانا یہ ہے کہ وقت کے سلسلہ میں ہمیں اس سے کہیں زیادہ حفاظت و احتیاط کی ضرورت ہے۔
فرصت کے اوقات کے تئیں عمومی طور پہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ ہوتے ہیں جو اسے ضائع کرتے ہیں اور ایسے ہی افراد کی کثرت ہے۔دوسرے قسم کے وہ ولوگ ہوتے ہیں جو فرصت کے اوقات کو غنیمت جانتے ہیں اور اس قسم کے لوگ بہت ہی کم ہیں۔ہمیں اسی آخری قسم کے افراد میں شامل ہونے کی فکر کرنا چاہیے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ فرصت کے أیام کو ہم کن مفید کاموں میں استعمال کر سکتے ہیں:
۱۔ قرآن کا حفظ و مراجعہ: قرآن اللہ کی طرف سے انسانیت کے نام آخری کتاب ہدایت ہے ۔ ایک مسلمان اس سے کسی بھی ناحیہ سے مستغنی نہیں ہو سکتا ہے ۔ وہ قابل مبارکباد ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے سینے میں قرآن کو محفوظ کرنے کی توفیق بخشی ہے ۔ لہذا اس بابرکت گروہ کے زمرے میں شمولیت کی فکر ہر مسلمان کو ہونی چاہیے ۔ نہیں تو کم سے کم اتنا تو ضرور کرنا چاہیے کہ جو یاد ہے اسے دوبارہ سے یاد کیا جائے اور اس کی جانب توجہ دی جائے۔
۲۔سابقہ پڑھی ہوئی کتابوں کا مراجعہ:طالب علم کے لئے علم میں پختگی اور مضبوطی کے لئے ضروری ہے کہ وہ گزرے ہوئے سالوں میں پڑھی ہوئی کتابوں کا مراجعہ کرے کیونکہ وقت کے گزرنے کے ساتھ معلومات ذہن سے غائب ہوجاتی ہیں ۔لہذا چھٹی کےایام کو اس کام کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔بہتر تو یہ ہے کہ تمام ہی مادےکا مراجعہ ہو یا کم سے کم کسی خاص فن یا مادے کا مراجعہ کیا جاسکتا ہے ۔
یاد رہے کہ مراجعہ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا کیونکہ امتحان کے دنوں میں آدھے سال میں پڑھے ہوئے نصاب کو ایک دو دن میں یاد کرلیتے ہیں تو اسی طرح یہاں بھی ہوسکتا ہے۔
۳۔مختلف علمی کورس میں شمولیت: عصری اداروں کے طلبہ کے لئے سمر کورس کے نام سے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کورس کا انعقاد عمل میں آتا ہے ۔ انہیں مختلف سہولتیں دی جاتی ہیں ۔ طلبہ کو اس سے استفادہ کے لئے آگے آنا چاہیے۔سعودی عرب میں ایسا دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی گرمی کی چھٹی شروع ہوتی ہے ویسے ہی مختلف مناطق میں دورہ صیفیہ کے نام سے متعدد کورسوں کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ہندوستان میں شرعی علوم سے متعلق کورسوں کے انعقاد کے سلسلہ میں مجھے کوئی معلومات نہیں ہے ۔
۴۔مطالعہ :جس طرح جسم کی نشو نما کے لئے غذا کی ضرورت ہے اسی طرح علم و فکر کی پختگی‘ مختلف علون و فنون میں ارتقاء اور صلاحیتوں میں اضافہ کے لئے مطالعہ بہت ضروری ہے ۔ علم سے جڑے افراد کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے ہر فرد کے لئے مطالعہ ایک لازمی جزء ہے ۔ ترقی یافتہ قوم اس کی جانب توجہ دیتی ہے اور اس کا خصوصی اہتمام کرتی ہے ۔
چونکہ ہر فرد کا رجحان اور میلان مختلف ہوتا ہے اسی لئے اپنی پسند کے اعتبار سے مطالعہ کے لئے مختلف مضامین اور فن کا انتخاب کیا جا سکتاہے اور اس سلسلہ میں اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
۵۔ ہنر سیکھنا:طلبہ ہوکہ طالبات سب کو تعلیم کے ساتھ اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ وہ اس فرصت کے اوقات میں اپنی رغبت اور میلان کے اعتبار سے کوئی ہنر سیکھنے کی کوشش کرے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس کے پاس جتنا ہنر ہوگا وہ اسی قدر مقام ومرتبہ کا حامل ہوگا۔آج کے مقابلہ جاتی دنیا میں تعلیم کے ساتھ مختلف ہنر والوں کو ترجیح حاصل ہوتی ہے ۔چہ جائے کہ ہنر کی وجہ سے فرد کی خود اعتمادی اور موقع ومناسبت سے کاموں کو انجام دینے میں سہولت ہوتی ہے۔
۶۔ جائز سیر و تفریح کرنا :اللہ سبحانہ وتعالی نے قرآن مجید میں ہمیں سیر و تفریح کا حکم دیا ہے ۔اسی طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ بھی سیر و تفریح کے لئے نکلا کرتے تھے ۔
۷۔ رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے جانا:بالخصوص ایسے رشتہ دار جو دور دراز کے علاقوں میں آباد ہوں ۔ان سے ملنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کے لئے سفر ناگزیر ہو تو ایسی صورت میں گرمیوں کی چھٹیوں سے اس نیک کام کے لئے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔
۸۔ اپنی صلاحیت و قابلیت کے اعتبار سے امر بالمعروف کا کام کرنا: مسلمانوں میں دینی علم کی شدید کمی پائی جاتی ہے ۔ عبادات و معاملات جو ضروری ہیں ان کے سلسلہ میں بھی ان کے پاس شرعی علم کی کمی ہے ۔مزید یہ کہ مختلف برائیوں میں متعدد وجوہات کی بنیاد پہ ملوث ہیں ۔ ایسی صورت حال میں دین کا علم رکھنے والے طلبہ وطالبات کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے علم کے حدود میں رہتے ہوئے اپنے آس پاس کے لوگوں میں دین کی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کریں۔
۹۔ نفلی عبادتوں کا اہتمام کرنا:انسان کا وجود رب کی بندگی کےلئے ہے ۔جو سانس کے رکنے تک جاری وساری رہنی چاہیے۔فرائض کے علاوہ کچھ عبادات ایسی ہیں جنہیں انجام دینے میں بہت سے لوگوں کو دقت پیش آتی ہے ۔ جیسے کہ تہجد کا اہتمام کرنا اور روزے رکھنا لہذا فرصت کے یہ أیام ان عبادات کے لئے بہت ہی موزوں ہیں ۔
۱۰۔ محرمات سے اجتناب:ویسے تو محرمات سے اجتناب کسی دن ،مہینہ ،سال یا موسم کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ ليكن فرصت کے اوقات میں اکثر افرادحرام کا ارتکاب بآسانی کرتے ہیں ۔شیطان کو یہاں گمراہ کرنے اور محرمات میں ملوث کرنے کا بڑا میدان ہاتھ آتا ہے ۔ لہذا اپنے دشمن کو پہنچانتے ہوئے شر سے دور رہنےکی فکر کرناچاہیے کیونکہ شر سے اجتناب کرنا بھی صدقہ ہے۔.
الله تعالی ہمیں فرصت کے اوقات کو غنیمت سمجھنے کی توفیق عطافرمائے آمین۔

