مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
ہندوستان میں صدر جمہوریہ اور گورنر کا عہدہ ایک قانونی عہدہ ہے، اس عہدہ پر قائم افراد سے ہمیشہ سے یہ توقع کی جاتی رہی ہے کہ وہ کسی خاص سیاسی پارٹی، یاحکمراں کے لیے کام نہیں کریں گے، لیکن بدقسمتی سے بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی سے ہی اس معاملہ میں صدر اور گورنر کا رویہ جانب دارانہ دیکھنے میں آتا ہے، 1977ء میں جب جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو مرکزی حکومت کے اشارے پر گورنروں نے کئی ریاست کی منتخب حکومت کو برطرف کرکے صدر راج لگا دیا تھا، بعد میں وہاں انتخابات کرائے گیے، ادھر 2014 سے اس معاملہ میں بہت تیزی آئی ہے، جن ریاستوں میں بی جے پی کے علاوہ کی حکومت ہے، وہاں اسمبلی سے پاس شدہ قرار دادوں کو گورنروں کے ذریعہ سرد بستے میں ڈال دینے اور لٹکا کر رکھنے کی روایت اس قدر عام ہوگئی ہے کہ سپریم کورٹ کو ان دونوں عزت مآب کو سخت ہدایت دینی پڑی کہ گورنر اسمبلی سے پاس کسی بھی قرارداد (بل) کو ایک ماہ سے زائد اپنے پاس نہیں روک سکتے، یاتو دستخط کردیں، یانظر ثانی کے لیے واپس کردیں، یہ کیا معاملہ ہے کہ دس دس ماہ تک اپنے پاس روک کر رکھا جائے، صدر جمہوریہ کے لیے یہ مدت تین ماہ مقرر کی گئی ہے اور گورنر کے لیے ایک ماہ عدالت کا احساس ہے کہ ان باوقار عہدوں کی عزت کو جماعتی سیاست سے اوپر اٹھ کر ہی بچایا جاسکتا ہے۔
اس صورت حال میں سپریم کورٹ نے یہ رولنگ تامل ناڈو کے گورنر آر این روی کے طریقۂ کار پر سخت تنقید کرتے ہوئے دی ہے، روی صاحب نے تامل ناڈو اسمبلی سے پاس دس قرارداد (بل) کو اپنے پاس روک رکھا تھا، تامل ناڈو اسمبلی نے گورنر روی کو 2020 سے اپریل 2023 کے درمیان دستور کی دفعہ 200 کے تحت گورنر کو بارہ قراردادیں اسمبلی سے پاس کراکر ان کی منظوری کے لیے بھیجی تھیں، لیکن گورنر اسے لٹکا کر بیٹھ گیے، مجبوراً تامل ناڈو سرکار نے 2023 میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو گورنر نے دو منظور شدہ قراردادیں صدر جمہوریہ کو بھیج کر خاموشی اختیار کرلی، تامل ناڈو کی ریاستی حکومت نے اسے دوبارہ اسمبلی سے پاس کراکر گورنر کے پاس بھیجا، تب انہوں نے سبھی کو صدر جمہوریہ کے پاس بھیجا، صدر جمہوریہ نے ایک (1)کو منظوری دی اور بقیہ سات (7)کو خارج کردیا، دو (2)پر غور بھی نہیں کیا۔
سپریم کورٹ نے تمام قراردادوں کو دستور کی دفعہ 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے منظوری دیدی اور گورنر، صدر جمہوریہ کے طریقہ کار پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ گورنر کے پاس ویٹو پاور نہیں ہے کہ وہ جس بل کو چاہے روک لے اور جس بل کو چاہے صدر جمہوریہ کو بھیجے، یہ تاریخی فیصلہ جسٹس جے بی پارڈی والا اور آر مہادیو کی بنچ نے 8/اپریل کو دیا، اس فیصلے میں عدالت نے واضح کردیا ہے کہ گورنر کے ذریعہ صدر جمہوریہ کو منظوری کے لیے بھیجے گیے بل پر تین ماہ کے اندر فیصلہ لینا ہوگا، اگر اس میں دیر ہوتی ہے اور صدر جمہوریہ متعینہ مدت میں فیصلہ نہیں لے پاتے تو اس کی مناسب وجہ رکاڈ میں درج کرنی ہوگی اور متعلقہ ریاست کو اس کی اطلاع بھی دینی ہوگی، غیرمتعینہ مدت تک بل کو دباکر رکھنے کا دفعہ201 میں کوئی پاکٹ ویٹو یامکمل ویٹو کا اختیار صدر جمہوریہ کو نہیں ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ریاستی سرکاروں اور گورنروں کے بنچ کی تناتنی یقینی طورپر جمہوریت کے لیے سخت نقصان دہ ہے، ابھی کچھ دن قبل کی بات ہے گورنروں نے مرکزی حکومت کے اشارہ پر ریاستی سرکاروں کو برخواست کرنے، صدر راج نافذ کرنے کا بھی کام کیا ہے اور مرکزی حکومت کے من پسند شخص کو راتوں رات وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہونچانے میں وہ مددگار رہے ہیں، مہاراشٹر کی کہانی ابھی لوگوں کے ذہن سے نکلی نہیں ہے، تامل ناڈو کے علاوہ کیرل، جھارکھنڈ، تلنگانہ، مغربی بنگال اور پنجاب کے گورنروں کا ریاستی حکومتوں کے ساتھ رسہ کشی جاری ہے، گورنروں کے طریقہ کار پر سپریم کورٹ کی یہ پہلی رولنگ نہیں ہے، پنجاب کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے پہلے بھی سخت تبصرہ کیا تھا، اس وقت کے گورنر بن باری لال پروہت نے پنجاب کی عاپ سرکار کے ذریعہ اسمبلی سے پاس قراردادوں کو روک لیا تھا، چنانچہ پنجاب سرکار کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اس وقت کے جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ کی صدارت والی سہ رکنی بنچ نے تبصرہ کیا تھا کہ گورنروں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ عوام کے ذریعہ منتخب نمائندہ نہیں ہیں۔
گورنر کے مرکزی حکومت کے اشاروں پر چلنے کی وجہ سے ان کے کام کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگنے لگے، ریاستی سرکاروں سے مشورہ کیے بغیر ناپسندیدہ اور مخالف شخص کو گورنر بنایا جانے لگا، توقع کی جاتی ہے کہ مستقبل میں سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان قانونی عہدوں کے وقار واعتماد کو بحال کرنے کا کام کرے گا، بشرطیکہ گورنروں نے اپنی روش کو بدلنے کا کام کیا، ورنہ مرکزی حکومت کے کٹھ پتلی گورنروں سے کوئی توقع رکھنا فضول ہی ہوگا۔
