محمد رفیع الدین نعمانی
مہراجگنج یوپی
اسلام ایک عالمگیر اور آفاقی مذہب ہے جو ساری کائنات کے امن وسکون کا پیغام لےکر جلوہ گر ہوا ہے اسلام ہی وہ نظام حیات ہے جو اپنے مستحکم فطری قوانین کے باعث دوسرے مذاھب پر فوقیت رکھتا ہے۔ قرآن مجید میں کہیں اجمالی تو کہیں تفصیلی طور پر حقوق اللہ کے بیان کے بعد حقوق العباد کا بھی ذکر آیا ہے انہیں حقوق العباد کے ضمن میں ایک مہتم بالشان پہلو خدمت خلق کا بھی ہے جس کی وجہ سے حسد ،بغض ،عداوت تعصب ،نفرت ،حرص ،عہد شکنى، مطلب پرستی ،بخل اور ان جیسے بہت سے روحانى مرضختم ہوجاتے ہیں ۔
وہیں دوسری جانب مودت ، ،محبت ،الفت و اخوت مروت روادارى ،وفاشعارى سخاوت ،ہمدردى ،خلوص وللہیت جیسے عمدہ عادات واخلاق والے صفات کى آبیارى ہوتی ہے۔ ” خدمت خلق "انسان کے رنج والم ،کلفت وپریشانی اور مشکل حالات میں شامل ہوکر اس کہ حاجت برآرى کرنے کا نام ہے۔ خدمت خلق وہ انمول گوہر ہے کہ جس کے ذریعہ سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے باشندوں کے دلوں پر اسلام کا سکّہ جمایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالى علیہم اجمعین جیسی مقدس جماعت کو اپنا دلدادہ اور گرویدہ بناکر دنیا کے رو بروایک لا فانی اور انمٹ نظیر پیش کیا ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اپنے اساسی عقیدہ توحید ورسالت وتقدیرو آخرت کو مبرہن کرنے کے بعد دو خاص اور اہم امرکی طرف توجہ دلائی ہے اول یہ کہ بندوں کا تعلق رب سے غیر متزلزل طور پر استوار ہو کہ وہ صرف اپنے خالق حقیقی کی ہی عبادت کریں اور کلی طور پر اسی ذات واحد سے منت و سماجت کریں اور اس کے سوا کسی غیر کے آستانے پر جبین نیاز کو خم کرنے سے گریز کریں دوم۔ یہ کہ وہ تمام بنی نوع آدم کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئیں لوگوں کے حقوق کی پامالی نہ کریں بلکہ ان کے حقوق کی صحیح ڈھنگ سے ادائیگی کو اپنا مطمح نظر بنائیں والدین کے حقوق کا خیال کریں رشتہ داروں، ہمسایوں، یتیموں، بیواؤں، راہگیروں اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کریں خدمت خلق کی اہمیت کے بنا پر جابجا اللہ تعالی نے غربا و مساکین کو اطعام طعام اور ضرورت مندوں اور یتیموں کے سلسلے میں مکمل خیال رکھنے کی ترغیب دلائی ہے اس عالم فانی میں کچھ افراد ایسے بھی ہیں جنہیں تمام تر سہولیات وآسائش میسر ہیں مگر بیشتر لوگ ایسے ہیں جو ضروریات زندگی کی سہولیات سے محروم ہیں ۔ اسی لیے قرآن کریم نے پہلی قسم کے انسانوں کو متوجہ کیا ہے کہ دوسری قسم کے انسانوں کی دامے درمے قدمے سخنے بلا معاوضہ امداد واعانت کریں اور ان کے دکھ درد میں دستگیری کریں اور ان کے حیات افسردہ کو خوش آئند بنائیں۔
اگرہمارے دل میں حاجت مند کی حاجت روائی اور خدمت کا جذبہ قلب میں موجود نہ ہوتو اس کا مطلب یہ ہےکہ ہمارا قلب سکون سے خالی اور احساس کمتری کا شکار ہے ۔قرآن نے اس احساس کمتری پر زبردست مواخذہ کیا ہے اور قیامت کے دن ہولناک نتائج سے آگاہ کیا ہے ۔ گویا جس شخص نے بھی خدمت خلق کے اہم فریضے کو ادا کردیا اس نے حقوق العباد کے احکام کی بجا آوری سے اپنے رب کو راضی کرلیا یہ بات یاد رہے کہ خدمت خلق کے سلسلے میں کسی ذات برادری اور علاقائیت کا تذکرہ نہیں ہے ۔ خدمت خلق کے سلسلے میں بھی کثرت سے احادیث موجود ہیں۔جن میں بھوکوں کو کھانا کھلانا پیاسوں کو پانی پلانا مظلوموں اور لاچاروں کی مددکرنا بے لباس کو لباس فراہم کرنا معذوروں کی خدمت کرنا قرض داروں کو قرض کی ادائیگی کے لیے روپئے پیسے دینا اور ہر طرح سے امداد وتعاون کرنےکا حکم ہے اور یہ سب ضروری اعمال ایک سچا نیک دل مسلمان بننے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اگر انسانی زندگی میں خدمت خلق کی اہمیت نہ ہوتی تو کفار ومشرکین یہود ونصاریٰ اس قدر تیزی سے حلقہ بگوش اسلام نہ ہوتے یہ خدمت خلق ہی کا نیک ثمرہ ہے کہ مکہ مدینہ سے لاکھوں میل دور رہنے، بسنے والے اربوں کی تعداد میں غیر مسلموں نے اسلام کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسلام کی دولت سے مالا مال ہوکر اپنی دنیا وآخرت کو سنوار لیا ۔
