، تلنگانہ دکنی اکادمی کے قیام میں مرکزی رول ادا کرنے دکنی شاعر میربیدری نے کیاپرخلوص مطالبہ

بیدر۔ 15؍مئی (پریس نوٹ): دکنی شاعر جناب میربیدری ، (بیدر۔کرناٹک) نے روزنامہ ’’سیاست‘‘ حیدرآباد میں دکنی لہجہ کو لے کرشائع مسرت آمیز خبر پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ’’ دکنی بولی کے ایپ کی تیاری سے آئندہ ہزاروں سال کے لئے دکنی لہجہ (زبان )کا تحفظ ممکن ہے۔ اور یہ سہراAIٹیکنالوجی کے سرتو باندھاہی جائے گالیکن اس کاز کے لئے آگے آنے والی سافٹ ویرکمپنی shaip(شائپ ) ہم دکنیوں کے شکریہ کی مستحق ہے جو دکنی بولی کاایپ تیار کرے گی۔ اس کے لئے روزنامہ ’’سیاست‘‘ سے یادداشت مفاہمت پر دستخط کرنے کی اطلاع بھی ایک اہم اقدام ہے۔ دوہفتوں کے دورانیہ میں دکنی لہجہ میںshaip(شائپ ) کمپنی میں 10سکنڈریکارڈنگ کیلئے 500روپئے معاوضہ دیاجانا مناسب ہے ۔ میربیدری نے shaip(شائپ )سافٹ ویر کمپنی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے تیقن دیاہے کہ کمپنی کوبھرپور اور حوصلہ افزاء تعاون ملے گا۔
جناب میربیدر ی نے shaip(شائپ )سے یہ بھی کہاہے کہ حیدرآباد ہی دکن کامرکز نہیں ہے بلکہ دکنی زبان تلنگانہ کے نظام آباد، ورنگل ، عادل آباد ، میدک جیسے شہروں میں بھی بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آندھراپردیش ،ٹمل ناڈو، کرناٹک ، اور مہاراشٹرمیں بھی دکنی زبان عام ہے۔ ہرطبقہ کے لوگ دکنی بولتے ہیں اور دکنی زبان اور لہجہ اس قدرمتعدی ہے کہ سنتے ہی زبان ودل پر چڑھ جاتاہے۔ یوپی اور بہار خصوصاً بہار وبنگال کے کئی ایسے لیبر ہیں جو یہاں کام کرتے ہوئے دکنی بولتے ہیں اور اس زبان کے لئے اپنی خوشی کااظہار کرتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ دکنی ایک عوامی زبان ہے ۔ جناب میربیدر ی نے شعراء، ادیب اور انشاء پردازوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ دکنی زبان میں اپنی تحریروں کومنظر عام پر لائیں اور ہوسکے تو جناب عامرعلی خان مدیراعلیٰ سیاست اور MLCتلنگانہ ، سیاست کے ای ایڈیشن میں روزانہ ایک صفحہ دکنی خبروں کیلئے مختص کریں۔ اس سے دکنی زبان مزید ترقی کرے گی ۔ بلکہ محترم عامر علی خان تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کریں کہ دکنی زبان کا مرکز حیدرآباد ہے ، اس زبان کے تحفظ کے لئے حکومت ’’دکنی بورڈ‘‘ یاپھر ’’تلنگانہ دکنی اکادمی ‘‘ قائم کرے۔ مجھے توقع ہے کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی فوری طورپر تلنگانہ دکنی اکادمی قائم کرنے کے لئے GOجاری کردیں گے۔ واضح رہے کہ سافٹ ویرکمپنی
شائپ (Shaip)نے دکنی بولی سے متعلق روزنامہ ’’سیاست ‘‘ حیدرآباد میں شائع خبر میں رابطہ کیلئے 9704159542 نمبر بھی درج کیاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے