بیدر۔ 15؍ مئی(ع ن): ۔ضلع انچارج سکریٹری ڈی رندیپ نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ رواں مانسون سیزن کے دوران کسانوں کو بیج اور کھاد کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی نہ آنے دی جائے۔ وہ ضلع پنچایت ہال میں مختلف محکموں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جون کے پہلے ہفتے میں مانسون کی آمد متوقع ہے، اس لیے بیج اور کھاد کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ بیجوں کی تقسیم کے لیے مناسب مراکز کی نشاندہی کی جائے اور کسی بھی طرح کی الجھن سے بچنے کے لیے واضح منصوبہ بندی کی جائے۔ڈی رندیپا نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے بجٹ میں اعلان کردہ ترقیاتی پروگراموں کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران سے کہا کہ درج فہرست ذاتوں، قبائل، اقلیتوں اور دیگر طبقات کے لیے ہاسٹل اور دیگر سرکاری عمارتوں کی تعمیر کے لیے اراضی کی نشاندہی کی جائے۔ضلع ڈپٹی کمشنر شلپا شرما نے اجلاس میں بتایا کہ انہوں نے اور ضلع پنچایت کے سی ای او نے پہلے ہی مختلف محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے۔ زرعی اور باغبانی فصلوں کو ڑالہ باری سے نقصان پہنچا ہے۔جوائنٹ ڈائریکٹر زراعت ضیاء اللہ نے کہا کہ ضلع میں سویابین کی مانگ سب سے زیادہ ہے، جبکہ تور، ادو، نیم اور جوار کے بیجوں کی فراہمی کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 76120 کوئنٹل بیج کی طلب موصول ہوئی ہے اور اس کے لیے سیڈ کمپنیوں کو انڈینٹ بھیج دیے گئے ہیں۔ بوائی کا ہدف 4.21 لاکھ ہیکٹر رکھا گیا ہے، جس میں 2.22 لاکھ ہیکٹر پر سویابین اور 1.33 لاکھ ہیکٹر پر کپاس کاشت کی جائے گی۔ بیج کسان رابطہ مراکز پر فراہم کیے جا رہے ہیں اور 115 اضافی مراکز کھولے جائیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع میں 37.106 میٹرک ٹن کھاد کی ضرورت ہے، اور اس کی دستیابی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔سماجی جنگلات کے ڈپٹی کنزرویٹر اے بی پاٹل نے بتایا کہ مانسون کے دوران 150 کلومیٹر سڑک کنارے، 50 کلومیٹر شہری سبزہ زاروں میں اور 330 بلاکس میں شجرکاری کی جائے گی۔ کسانوں کو ان کی زمینوں کے لیے سبسیڈی پر پودے بھی فراہم کیے جائیں گے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شیوکمار شیلوانتھ نے بتایا کہ گزشتہ سال کسانوں کی خودکشی کے 75 کیسز میں معاوضہ تقسیم کیا گیا، جبکہ 2021-22 کے 13 کیسز کا معاوضہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر زیر التوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ضلع ڈپٹی کمشنر کے پی ڈی اکاؤنٹ میں 18 کروڑ روپے کی رقم موجود ہے۔ مختلف فلاحی اسکیموں کے تحت 349 معذور افراد، 238 بیواؤں اور 580 بزرگ شہریوں کو پنشن دی جا رہی ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر ہارٹیکلچر نے بتایا کہ ژالہ باری کے باعث 217 ہیکٹر پر مشتمل آم، ٹماٹر اور تربوز کی فصل کو نقصان پہنچا ہے، جس کی مشترکہ سروے رپورٹ پیش کی جا چکی ہے۔ضلع ڈپٹی کمشنر شلپاشرما نے مزید بتایا کہ "جنتا درشن” کے دوران موصول ہونے والی تمام درخواستوں کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔ ضلع میں پانچ گارنٹی اسکیموں کے تحت 7.81 لاکھ مستفیدین کو فائدہ پہنچایا گیا ہے، جس پر 2280 کروڑ روپے کا مالی خرچ آیا ہے۔انچارج سکریٹری ڈی رندیپا نے تعلیمی میدان میں بہتری کے لیے پی یو سی اور ایس ایس ایل سی نتائج بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر نئے پروگرام تشکیل دینے کی ہدایت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع میں 344 جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر کی تجاوزات ختم کر دی گئی ہیں، اور 108 چھوٹی آبپاشی جھیلوں کی حدود کی نشاندہی کی گئی ہے۔میٹنگ میں خواتین و اطفال، صحت، تعلیم اور دیگر محکموں کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ضلعی سطح کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے