494 کروڑ کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح و سنگ بنیاد رکھا. اور ایک عوامی اجلاس سے خطاب بھی کیا

ظہیرآباد 23 /مئی (مشرقی آواز جدید): چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر اے ریونت ریڈی نے آج حلقہ اسمبلی ظہیر آباد کا مصروف ترین دورہ کیا. چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد ظہیر آباد کا پہلا دورہ کیا. حلقہ اسمبلی ظہیر آباد ،نارائن کھیڑ، حلقہ اسمبلی اندول اور سنگاریڈی کے کانگریس پارٹی کے قائدین اور کارکنان اور عوام سے جلسہ گاہ تنگ دامنی کا شکوہ کر رہا تھا. چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے دوپہر ٹھیک ایک بجے خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ظہیرآباد پہونچے. رکن پارلیمنٹ ظہیرآباد و رکن اسمبلی ظہیر آباد نے ان کا استقبال کیا.
چیف منسٹر نے پہلے موضع ہگیلی کے حدود میں نو تعمیر کردہ بسویشور کے مجسمہ کا افتتاح انجام دیا. اس کے بعد انہوں نے قومی شاہراہ سے نمز تک کی چار رخی شاہراہ جو تقریباً 100 کروڑ کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے افتتاح انجام دیا. اس کے بعد انہوں نے جھرہ سنگم منڈل کے حدود میں موضع ماچنور میں نو تعمیر شدہ کندریہ ودیالیہ کی جدید عمارت کا افتتاح انجام دیا. جو 13 کروڑ کے صرفہ سے تعمیر کی گئی ہے. چیف منسٹر نے ریلوے فلائی اوور بریج کا بھی افتتاح انجام دیا. بعد ازاں انہوں نے موضع پستہ پور کے حدود میں منعقدہ ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت اپنے اقتدار کے صرف 18 ماہ میں تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار بے روزگار نوجوانوں کو سرکاری و خانگی شعبوں میں روزگار فراہم کیا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ علیحدہ تلنگانہ کے قیام کا ایک اہم مقصد یہاں کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی بھی تھا.
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے. کانگریس حکومت خواتین کو خود مختار بنانے کے لیے انہیں جنگی خطوط پر روز گار فراہم کر رہی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو پٹرول بنکس کی منظوری اور سولار پاور تیاری پلانٹ کی منظوری کا اعلان کیا. انہوں نے مزید کہا کہ حلقہ اسمبلی ظہیر آباد کے نیالکل منڈل میں نمز پراجیکٹ میں اپنی زرعی اراضی سے محروم 5612 خاندانوں کو اندرماں اسکیم کے تحت مکانات کی فراہمی کا اعلان کیا اور اس کے لئے فوری لائحہ عمل تیار کرنے ضلع کلکٹر کو ہدایت دی. انہوں سابق رکن اسمبلی مسٹر جگاریڈی کو ہدایت دی کہ وہ ارارضی سے محروم خاندانوں کو اندرماں مکانات کے پٹہ تقسیم کرنے کی تقریب کو قطعیت دیں. چیف منسٹر نے ضلع میدک کو ایک تاریخی ضلع قرار دیا اور کہا کہ آنجہانی اندرا گاندھی نے ضلع میدک کی رکن پارلیمنٹ رہتے ہوئے ہی شہید ہوئی تھی. انہوں نے ظہیرآباد میں کانگریس پارٹی سے خدمات انجام دینے والے سیاسی قائدین مسٹر باگا ریڈی اور محترمہ ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کی خدمات کی ستائش کی۔ لیکن انہوں نے کانگریس سے ایم ایل اے اور منسٹر رہے مرحوم فرید الدین صاحب کا تذکرہ نہیں کیا۔
چیف منسٹر نے مزید کہا کہ کانگریس کے دور اقتدار کے پہلے سال ہی کسانوں کے قرضے معاف کئے گئے اور انہیں مفت بجلی سربراہ کی جا رہی ہے اس کے علاوہ خواتین کی ترقی و بہبود کے لئے ریاستی حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے۔خواتین کو اب تک مفت بس فراہمی اسکیم کے تحت ریاستی حکومت 5500 ہزار کروڑ روپے صرف کر چکی ہے انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہنے والے قائدین کے ہاتھ مضبوط کریں۔انہوں نے کہا کہ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد فارم ہاؤس تک محدود رہنے والے قائدین سے ہوشیار رہیں۔واضح رھےکہ چیف منسٹر نے ٹھیک 2 بجکر 30 منٹ پر تقریر کا آغاز کیا اور ٹھیک 3 بجے تقریر ختم کی۔آخر میں یہ بھی اعلان کیا وہ گنے کے کسانوں کے لئے شوگر فیکٹری کے احیاء کےلئے جنگی خطوط پر اقدامات کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے