ابو احمد مہراج گنج
یہ سوال بہت پرانا ہے کہ "قوموں پہ زوال کیوں آتا ہے ” اور اس کے بے شمار جواب بھی دئیے گئے ہیں ۔اور اب بھی دئیے جارہے ہیں ۔اگر اس سوال کا جواب کسی مذہبی اسکالر/عالم دین ، سے پوچھا جاۓ تو وہ یہی فرماتے ہیں کہ "کسی قوم پر زوال جب آنا شروع ہوتا ہے جب وہ اللہ رب العزت کی نافرمانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔رب کے بتائے ہوئے طریق زندگی کے بجائے ،اپنی من چاہی زندگی بسر کرنے لگتے ہیں ،اور نافرمانی کا یہ مزاج”dddd جس کسی قوم میں جس قدر عام ہوتا جاتاہ "ے ۔زوال اس قوم کا مقدر بن جاتا ہے ۔یہی سوال کہ "قوموں پہ زوال کیوں آتا ہے ” جب کسی فلاسفی اور علوم عقلیہ سے لبریز شخصیت سے پوچھتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ قوموں پر زوال کی ابتداء کسی قوم کے افراد کی قوت فکر وعمل کے فنا ہونے شروع ہوتاہے اور اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔جیسا ڈاکٹر ،علامہ محمد اقبال نے فرمایا ہے کہ
قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے
پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے
مطلب یہ کہ جب کسی قوم کے افراد کی فکری سطح منجمد ہوکر رہ جائے۔اور عمل یعنی انسانی حقوق اور معاملات کو درست طریقہ پر انجام دینے کی قوت فنا ہونے لگے ۔تو پھر اس قوم کے زوال کاآغاز ہوجاتا ہے۔اور یہی سوال کہ "قوموں پر زوال کب آتاہے” جب دور حاضر کے ایک بے باک شاعر راحت اندوری سے پوچھتے ہیں تو وہ گویا ہوتے ہیں کہ
بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے
بس انھیں راہوں سے قوموں پہ زوال آتا ہے۔
راحت اندوری کا یہ شعر اوپر مذکور علماء اور فلاسفہ کے آراء کا نچوڑ ہے ۔جب معاشرے کا کوئی فرد رب العالمین کے بتائے گئے اصول زندگی سے انحراف کرتا ہے ۔اور اپنے نفس کے سجھائےہوئے راستے پر چلنے لگتا ہے تو معاشرے کے اس فرد کا "قوت فکر وعمل "فنا ہوگیا ۔کیونکہ اگر اس کے اندر قوت فکر وعمل باقی ہوتا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تو فرمان احکم الحاکمین کے مقابل اپنے سمجھ اور اپنے من کی نہ کرتا۔اپنے من کی کرنا ہی قوت فکروعمل کے فنا ہونے کی نشانی ہے ۔
اور جب کسی فردبشرکے اندر سے قوت فکروعمل فنا ہو جاتا ہے۔تو بے حسی اور مردہ دلی اس فرد بشر کی لازمی صفات بن جاتی ہیں ۔بے حس اور مردہ دل انسان اپنے بے حسی اور مردہ دلی کو چھپانے کیلئے رقص، شراب ،اور نغموں کا سہارا لیتا ہے ۔مطلب یہ کہ جس شخص سے قوت فکر فنا ہو جاتی ہے وہ بے حس ،مردہ دل ،ہوکر اپنی زندگی کے بقیہ ایام رقص،شراب اور نغموں کے حوالے کر دیتا ہے ۔اور جب معاشرے کے فرد سے لیکر افراد تک اس بدعملی کا شکار ہو جائیں تو پھر زوال آنا ہی ہے
کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطہ زمین پر
وہی خطہ زمین ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں
