میربیدری، بیدر، کرناٹک
مفتی کافتویٰ ڈرا دیتاہے
مولوی کا سجدہ ڈرا دیتاہے
میں نے جس کو دیکھا ہے دن رات
ایک وہی سپنا ڈرا دیتاہے
دھنا سیٹھوں کے منصوبے سے
دیش کو یہ پیسہ ڈرا دیتاہے
خواجہ سراؤں کی اس بستی میں
ہم کو تو چھکا ڈرا دیتاہے
تم تونظام کے وارث بھی نہیں ہو
آج تمہیں گونگا ڈرا دیتاہے
شاہی بگھی اور عام آدمی تم
بیٹھتے ہی تانگا ڈرا دیتاہے
آدھی عمر ہوئی ہے ایسے میں
آنکھوں کا لفڑا ڈرا دیتاہے
جسم سے دے کے نکلنے کی دھمکی
جسم کا ہی چھلکا ڈرا دیتاہے
خوف سے جیتاجارہاہے ، اس کو
دولہے کاگھوڑا ڈرادیتاہے
اس کو عوامی نمائندہ کہیں گے
جوکر بھی ہاہا ڈرادیتاہے
مرنے والے انساں کا ہے حال
قبرکا ہر نقشہ ڈرادیتاہے
یاربڑوں سے دوستی ہے اُس کی
بچوں کو بیوڑا ڈرا دیتاہے
بے پردا رہنے والوں کومیر
لڑکی کاپردا ڈرا دیتاہے
