میربیدری، بیدر،کرناٹک

خود کوستائے گھوم رہا ہوں
اپنے بجائے گھوم رہا ہوں

مجھ کو کرنا پڑا یعنی میں
سرکوہٹائے گھوم رہا ہوں

رزق ہے میرا، مجھ کو ملے گا
چہرہ اُٹھائے گھوم رہا ہوں

رب کی دنیا میں بندوں سے
پیارجتائے گھوم رہا ہوں

وہ تو آبیٹھا ہے دِل میں
دل کو لُٹائے گھوم رہا ہوں

آج پرائی دیواروں کو
کان لگائے گھوم رہا ہوں

بندے کے دعوے پہ ہے حیرت
خود کو مٹائے گھوم رہا ہوں

میں کہ کمان سے اپنی ہوں محروم
تیر بچائے گھوم رہا ہوں

ایسے نہ دیکھو، بدلا ہوں اتنا
گوشت گلائے گھوم رہا ہوں

جس کوغرض مجھ سے نہیں کوئی
اس کو ستائے گھوم رہاہوں

خود کو یخ بستہ سردی میں
آگ لگائے گھوم رہا ہوں

دس دِن پہلے اُٹھ چکا بستر
اُس پہ لِٹائے گھوم رہا ہوں

اُخروی دوڑ ہے ، دوڑ کے اندر
خود کوبھگائے گھوم رہا ہوں

دیکھو خوشبو کا میر ؔاثر ہے
منہ کو بنائے گھوم رہا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے