میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
علی ؓ کے گھر سے نجیب آتے ہیں کربلا کے
توچار جانب رقیب آتے ہیں کربلا کے
قدم بڑھانے نقیب آتے ہیں کربلا کے
لُٹا کے خود کو غریب آتے ہیں کربلا کے
ہوئے جو بیمار، تھی مشیت خدا کی یارو
مریض بن کے طبیب آتے ہیں کربلا کے
کوئی بھی دوجا نہیں کھڑاخاندان کے ساتھ
فراز آئیں ،نشیب آتے ہیں کربلا کے
جولکھا تاریخ نے ہی روتے وہ مرثیہ آج
پڑھانے پڑھنے،ادیب آتے ہیں کربلا کے
وہاں جو سر کٹ گیا، ہواسربلند کیسے
یہ دیکھنے کو نصیب آتے ہیں کربلا کے
پتہ جو چل جاتاہے حسینی قبیلے کا میرؔ
تبھی منافق قریب آتے ہیں کربلا کے
