ظہیرآباد9/جون(ایجنسی): سابق ایس سی کارپوریشن چیئرمین وائی نروتم نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوۓ کہا کہ ریاستی کابنیہ میں توسیع کرتے ھوئے مزید تین نئے وزراء کو شامل کیا گیا، جن میں جی ویویک وینکٹ سوامی، ادلوری لکشمن کمار، اور سری ہری شامل ہیں ۔ لیکن اس مرتبہ بھی کسی مسلمان کو وزارت میں جگہ نہیں دی گئی، جو ریاست کے تقریباً 12.5 فیصد سے ذیادہ مسلمان آبادی رکھتے تھے ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کی کانگریس پارٹی میں بڑی توہین کی بات سمجھی جا رہی ہے لیکن مسلمان لیڈر غائب رہے جس سے مسلمانوں میں شدید ناراضگی ظاہر کی جارہی ہے متحد آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی تاریخ میں ہر حکومت نے ریاستی کابینہ میں مسلم کو کابینہ میں شامل کیا جاتا تھا۔ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی حکومت میں مسلم کو ڈپٹی چیف منسٹر اور وزرات کا دو مرتبہ کابینہ میں وزرات قلمدان دیا گیا۔ اور کے سی آر کے بعد واحد مسلم وزیر نے حلف لیا تھا اور 4 مسلم کو ایم ایل سی کا عہدہ دیا۔
مسلمانوں کے ووٹوں سے کامیاب ہونے والی کانگریس پارٹی چیف منسٹر اے ریونت ریڈی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی قابل مذمت ہے۔ مسلمان کو وزارت نہ دینے سے کانگریس کو آنیوالے انتخابات میں اقتدار سے محروم ہونا پڑے گا۔ موجودہ کابینہ کے ارکان سب نئے منتخب ایم ایل اے ہیں اور کوئی مسلمان ایم ایل اے کانگریس ٹکٹ سے منتخب نہیں ہوا، اس لیے مسلمان نمائندگی نہ ہونے کا بہانہ دیا گیا، تاہم مسلمانوں کو ایم ایل سی کے ذریعے منتخب کرنے سے کابینہ میں جگہ دی جاسکتی تھی ریاست کے 119 رکنی اسمبلی میں سے 18 وزراء کے لئے جگہ دستیاب ہے۔ اس وقت کابینہ میں چھ نشستیں خالی ہیں، مگر پچھلے 17 ماہ میں کوئی مسلمان نمائندہ وزارت میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس مواقع پر محمد سلیم یوتھ جنرل سیکرٹری بی آریس پارٹی سہیل پرویز بی آریس پارٹی قائد نبی پٹیل جئے پال ودیگر موجود تھے۔۔۔۔
