اٹوا(سدھارتھ نگر): بزمِ اربابِ ادب اٹوا کی 100 ویں ماہانہ طرحی نشست جناب جمال قدوسی کی سرپرستی، جناب اسراراحمدفاروقی کی صدارت اور جناب ڈاکٹرایازاعظمی کی نظامت میں بطورچشن جنتا ٹینٹ ہاؤس پر منعقد کی گئی جس میں جناب عبدالباری صاحب کو "نشان ِ اردو ادب "ایوارڈ سے نوازا گیا، نشست کا آغاز سید عزیز الرحمان نے تلاوتِ قرآنِ کریم کےذریعہ اور صغیررحمانی صاحب نےتعت رسول ِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ کرکیا،اور تمام شعرآء نے اپنے اپنے کلام پیش کیے۔ چنندہ اشعار،ادب نواز،علم دوست،باذوق قارئین کی نذر ہیں۔
ظلِ سبحانی کی شہہ ملتی نہ جو
اتنی نفرت پھولتی پھلتی نہیں
جمال قدوسی
مبتلا ہیں جو غرور زہد میں
ان فرشتوں سے مری بنتی نہیں
عبدالاول سنگرام پوری
ایک دشمن نےدیاہےیہ سبق
آستیں میں دوستی پلتی نہیں۔
ڈاکٹررضوان الرضا (رضوان علیگ)
ہوتے ہو مغرور کیوں پا کر عروج
ایک سی حالت سدا رہتی نہیں
ڈاکٹرایازاعظمی
کہہ رہی تھی لاش اک مزدور کی
موت سستی، زندگی سستی نہیں
ہدایت اللہ شمسی
عڑم و ہمت خود میں تو پیدا کریں
خود بخود زنجیر پا کٹتی نہیں
ظہیر رحمانی
جس کی خو طرز ادا جچتی نہیں
اس صنم سے دل لگی اچھی نہیں
صغیر رحمانی
علم کی جب تک شمع جلتی نہیں
زندگی کو زندگی ملتی نہیں
برہم دیوشاستری پنکج
ہیں ہماری زندگی کے کچھ حدود
یہ ہراک ماحول میں ڈھلتی نہیں
ابرق ساجدی
رب کی عظمت کا جسے ہے کچھ خیال
وہ جبیں ہرگز کہیں جھکتی نہیں
شکیل ضاغط
خون پیتی ہے سیاست کی زمیں
تشنگی اس کی مگر بجھتی نہیں،
ارشد اقبال
جس طرف دیکھو نظر آۓ دھواں
دل کی یہ بستی کدھر جلتی نہیں
سیدعزیزالرحمان عاجز
زر،زمین وزن کا گرلالچ نہ ہو
شمشیربھائی بھائی میں چلتی نہیں
التجاحسین نورصدیقی
چار دن کی ہے جوانی ناز کیوں؟
عمر کس کی عمر بھر ڈھلتی نہیں
محمد جمال اجمل
صبر کرلو مشکلوں کا دور ھے
دیر پا مشکل گھڑی رہتی نہیں
عبدالرب اسد بستوی
گر خلیل اللہ سا ایمان ہو
آگ ہو کر آگ بھی جلتی نہیں
مسعودالحق رحمانی
یوں ملا ہے باغبانی کا صلہ
دل کی کوئی بھی کلی کھلتی نہیں
جنیدفرہادلٹیاوی
فقر میں دریا دلی جچتی نہیں
جھوٹ سے سچائی بھی چھپتی نہیں
عبدالرب جوہر
ہےکرم اللہ کا ہر ایک پر
صرف مشرق سےہواچلتی نہیں
شفیق شہپر
کیسے دریا پار کرکے جاؤ گے
پاس دریا کے کوئی کشتی نہیں
شمشادحشمت نیپالی
پوچھتا ہے مجھ سے دل یہ باربار
شامِ غم آخر یہ کیوں ڈھلتی نہیں
افروزسدھارتھ نگری
ہے دعاؤں کا اثر اپنی جگہ
پر قضا تدبیر سے ٹلتی نہیں،
عباس شاداب افریقہ
دے دیا ہے زندگی خیرات میں
اب طلب سنسار کی رہتی نہیں
ضمیراحمدضمیرقاسمی
جس سے بجھ جائے مرے دل کا چراغ
ایسی آندھی یا ہوا چلتی نہیں
عبد المبین مبیں
جو اشارے سے کرے شق چاند کو
اس جہاں میں ایسی اب ہستی نہیں
ڈاکٹرجاویدکمال صدیقی
مغربی زد میں ہے بیٹی آتی وہ
شرم کے سانچے میں جو ڈھلتی نہیں
سلمان حنیف
کیا خبر کس حال میں رہتا ہوں میں
میری خود سے آج کل بنتی نہیں
عبدالماجد ماجد
سامنے سیلاب ہے اور دل میں آس
سر پہ بارش ہے کہ اب ٹلتی نہیں
ڈاکٹرقمراقبال
ان کے علاوہ نعیم ارشدالقاسمی ،انوار پارسا بستوی،شمشادحشمت نیپالی، بلرام ترپاٹھی،راکیش ترپاٹھی،امیرحمزہ وغیرہ نے بھی اپنےکلام سے نوازا۔
اس موقع پرسراج احمد، برکت اللہ فلاحی، ڈاکٹرنادرسلام، ڈاکٹرمزمل حسین، ماسٹراکرام محمد، مولانااقبال، مولانا شاہدجنیدمدنی، ڈاکٹرعبدالقدوس،
محمد شعبان، سلمان کبیرنگری وغیرہ خصوصیت سے شریک رہے۔
