جتنے زیادہ ممبران ہوں گے، اتنی ہی جماعت کی قوت اور صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
زیادہ سے زیادہ ممبر بننے کے لئے جمعیتہ العلماء تلنگانہ کی اپیل
حیدرآباد 19/ جون(مشرقی آواز جدید): جمعیت علماء ہند ایک اصولی اور دستوری جماعت ہے، اس کا اپنا ایک دستور منشور ہے نظام کا ر لائحہ عمل ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے سو سال پورے مکمل ہو چکے ہیں۔ اس طویل مدت میں نصیب میں نظری و فکری توافق اور تسلسل اس جماعت کا طرہ امتیاز ہے، ایثار و قربانی اور جہد مسلسل کی جوتا بناک تاریخ اور کام کی جو وسیع زمین جمعیت کے پاس ہے وہ کسی کے پاس نہیں ہے فکری وعملی اس سلسلے کو ہمیں آگے بڑھاتا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی فعال قیادت قوم وملت کے فلاح و بہبود کے لئے سرگرم ہے جمعیتہ علماء ہند کی ہمہ جہت جہد وجد اور اس کے دائرہ عمل کی وسعت کو دیکھتے ہوئے تنظیمی استحکام کے لئے مزید فعالیت کی ضرورت ہے ۔ جمعیہ کے دستور اساسی میں مذکورہ تعمیری و اصلاحی پروگرام مسلسل اور باقاعدگی سے عمل کیا جانا چاہئے تنظیمی استحکام کے تعلق سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جمعیت علما ء ہند کا اور تنظیمی اور اسکی مضبوط امبر سازی ہے، دستور کے مطابق ہر دو سال میں ممبر سازی کا نظام ہے۔ یہ باہمی ربط اور جوڑ پیدا کرنے کے لئے ہے تا کہ شخصی نظام کے بجائے جمہوری نظام کو برتری حاصل ہو تنظیمی استحکام کیلئے باہمی ربطہ ضروری ہے ہر تنظیم میں مختلف افراد کام انجام دیتے ہیں، اگر ان کے مابین ربط نہ ہوتو تنظیم کا مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا افراد کے باہمی اشتراک و تعاون سے ہی مفید و موثر نتائج برآمد ہوتے ہیں کسی بھی جماعت کا وجود اور استحکام اس کی ذیلی تنظیموں اور اکائیوں کے وجود و استحکام پر منحصر ہوتا ہے۔ ذیلی تنظیمیں اور اکائیاں جتنی مؤثر اور فعال ہوں کی تنظیم بھی اتنا ہی متحرک کردار ادا کر سکے گی ۔ جمعیۃ علما ء ہند اپنی ذیلی تنظیموں اور اکائیوں کو مؤثر اور امت مسلمہ کے لیے مفید تر بنانے کے لیے ممبر سازی کو انتہائی ضروری سمجھتی ہے۔ یہ حقیقت ہے جماعت اپنے متحرک اور فعال ارکان کی تعداد میں اضافے سے مضبوط ہوتی ہے۔ جتنے زیادہ ممبران ہوں گے ، اتنی نکی جماعت کی قوت اور صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں، جہاں فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے تعداد کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ جمعیت کی طاقت بڑھے گی تو وہ مساجد، مدارس اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جد و جہد مزید پر اعتماد ہو کر جاری رکھ سکے گی ۔ جماعتی اکائیوں کا وجود گاؤں اور وارڈ کی سطح تک ہونالازمی ہے تا کہ جماعت کے حقیقی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ موجودہ حالات میں اس کے بغیر ارتداد اور لادینی سے ملت کے افراد کو بچانا امر محال ہے۔ ممبر سازی مہم دراصل مسلمانوں کے ہر گھر اور ہر فرد تک جمعیۃ علماء ہند کی آواز اور پیغام پہنچانے کا سنہرا موقع ہے تا کہ مسلمانوں کے قلوب میں ملی روح تازہ ہو ، وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں اور حقوق مذہبیہ و قومیہ کے حصول کے لیے صبر و استقامت اور جہد مسلسل کا مظاہرہ کریں۔ جمعیہ کی قوت میں اضافہ در حقیقت ملت کی اجتماعی طاقت اور حیثیت میں اضافے کے مترادف ہے۔
اپیل کنندگان میں حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب مدظلہ صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ مولانا سید احسان الدین صاحب نائب صدر جمعیة علماء تلنگانہ مولانا عبد القوی صاحب نائب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ مولانا خالد امام صاحب نائب صدر جمعیة علماء تلنگانہ مولانا خواجہ کلیم الدین صاحب نائب صدر جمعیة علماء تان د مولانا عبد الستار صاحب قاسمی خازن جمعیة علماء تلنگانه مولا نا مفتی محمد یونس صاحب قاسمی رکن عاملہ جمعیة علماء تلنگانہ مفتی الیاس احمد حامد قائمی رکن عامل۔ جمعیه ماما مانگانه مولانا عبد العظیم صاحب قاسمی رکن عاملہ جمعیة علماء تلنگانہ مولا نا مصدق القاسمی صاحب رکن عاملہ جمعیة علماء تلنگانہ مولانا عبد اللہ اظہر صاحب قامی رکن عاملہ جمعیة علماء تلنگانہ مولانا مسیح الدین صاحب قاسمی رکن عاملہ جمعیت علماء تلنگانہ مولانا سعید صاحب رکن عاملہ جمعیة علماء تلنگانه محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب جنرل سکریٹری مفتی اسلم سلطان صاحب قاسمی رکن عاملہ جمیعت علماء تلنگانہ اور دیگر اراکین عاملہ ضلعی صدور جنرل سکریٹری اور د معاونین خصوصی جمعیت علماء تلنگانہ۔۔۔۔

