ابو احمد مہراج گنج
آج کل جب آپ بازار کو نکلتے ہوں گے تو بازار میں ایک پھل اپنی جاذبیت اور پرکشش رنگت سے آپ کو دعوت نظارہ دے رہا ہوگا۔ اور آپ بھی اس کی محبوبیت اور مرغوبیت کے اسیر ہوکر اپنا جھولا اس کے سامنے سرنگوں کر دیتے ہوں گے ۔ میں بات کر رہا ہوں بھارت کے راجہ مہاراجہ ۔شعراء ادبا، فصحاء کے دلوں پر راج کرنے والے پھلوں کے امام یعنی آم کی ۔
آم اپنے مختلف رنگت، متنوع لذت۔ اور دل میں گھر کر لینے والی نکہت کے بدولت سب کو اپنا اسیر بنالیتا ہے۔ کیا بچہ کیا بوڑھا۔ کیا عروسہ، کیا دوشیزہ، کیا رئیس شہر اور کیا فقیر شہر، سب اس کے شیدائی ہیں اور جو کچھ اسے پسند نہیں کرتے وہ بھی اس کے تماشائی ہیں ۔
آم طبی لحاظ سے بہت فائدہ مند ہیں تو سیاسی لحاظ بھی کچھ کم نہیں ہوتے۔ لوگ ناراض حاکم کو خوش کرنے کے لیے بھی آم کا تحفہ پیش کرتے ہیں تو کچھ عاشق مزاج معشوق سے دوری کی تشنگی کو رسیلے آم چوس کر تسلی دے لیتے ہیں ۔
آم کسی بھی قسم کا ہو لنگڑا ہو، دشہری ہو، چوسا ہو، سفیدہ ہو، گورجیت ہو۔ یہ سبھی دوست اور دشمن دونوں کو پسند رہے ہیں ۔ بھارت میں مغلوں نے آم کے پھیلاؤ میں بڑا دلچسپی رکھا تھا ۔ بابر، اکبر، ہمایوں ، اورنگزیب سب کو آم بہت پسند تھے ۔ اکبر نے تو ایک لاکھ آم کے درختوں کا باغ دربھنگہ کے نواح میں لگایا تھا۔ جہانگیر نے اس وقت دلی کے مہرولی نامی گاؤں میں آم کا باغ لگایا تھا۔ کہتے ہیں کہ ملکہ نور جہاں کو آم اور اس کا مشروب بہت پسند تھا۔
مغلوں سے برسرپیکار راجا مہا رانا پرتاپ ،شیواجی مہاراج وغیرہ آم کو پسند کرتے تھے یا نہیں یہ تحقیق کا موضوع ہے ۔ اور بھگوا برگیڈ کے رہنماؤں کو اس پر شودھ کرکے ایک کلیری فیکیشن جاری کرنا چاہیے ۔
آم کا ذکر ہو اور غالب چچا کو نہ یاد کیا جاۓ یہ ممکن نہیں کہتے کہ غالب کو آم حد درجہ پسند تھے ، پسںند تو ان کو انگور کی بیٹی بھی زیادہ تھی ،لیکن وہ پورے سال غالب سے اٹھکھیلیاں کرتی اور بےچارے لنگڑے آم کو غالب کی محفل میں پہنچنے میں آٹھ نو مہینے لگ جاتے تھے۔
سنتے ہیں کہ اکبر آلہ آبادی نے بھی آم کی مدح میں نظم لکھا تھا وہ کچھ اس طرح تھا۔کہ
نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے
اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے
ایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں
پختہ اگر بیس تو دس خام بھیجئے
آم کا اگر ذکر ہو اور ذکر ملیح آ باد نہ ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ بھار ت میں جو آم ہوتے ہیں ان میں ملیح آبادی آموں کو خصوصی مقام حاصل ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ آموں میں ملاحت ملیح آباد کی وجہ سے ہے یا ملیح آباد کی وجہ سے؟ آم ملیح بھی ہیں ۔
بھارت میں کچھ دوست سوسالہ محنت کے بعد ایک نو رتن تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، انھیں نورتن سے کسی مسخرے نے پوچھ لیا کہ آپ آم کاٹ کر کھاتے ہیں یا چوس کر؟ ان کا جو بھی جواب رہا ہو، مجھے اس سے کیا غرض مجھے تو بس اتنا معلوم ہے کہ انگریزی دور حکومت میں بھی کچھ لوگ تھے جو انگریزی سرکار میں بھی ملائی آموں کی طرح کاٹ کر کھاتے تھے اور کچھ تو انگریزوں کو ہی آموں کی طرح چوستے تھے ۔ اب نورتن جی کے پرکھے کس میں تھے؟ چوسنے والے گروہ میں یا کاٹ کر کھانے والے گروہ میں؟ یہ فیصلہ تاریخ دان ہی کرسکتے ہیں۔ آپ کو تحقیق میں اپنا مزاج اور دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں، أپ جائیے اور بازار سے چند کلو خوش ذائقہ رسیلے آم لاکر اسے بوس و ہم کنار کرکے لطف تمام حاصل کیجئے ۔
آم یہ تیری خوش نصیبی ہے
ورنہ لنگڑوں پہ کون مرتا ہے؟
