سہارنپور(احمد رضا): ملک اور بیرون ممالک میں قابل احترام علمی اور فکری شخصیت  کے مالک محبوب عالم دین خلیفہ مفتی اعظم و مجاہد ملت حضرت علامہ عبد القدوس کشمیری صاحب قبلہ رحمۃ اللّٰہ علیہ جنہیں ان کی بے باکی اور دلیری کی وجہ سے شیر ملت کے نام سے بھی خوب جانا اور پہچانا جانا جاتا ہے آپ حضرت عبدالقدوس کشمیری نے آدھی صدی تک ہانڈی والی مسجد ممبئی 3 میں امامت وخطابت کے فرائض انجام دینے کے ساتھ قومی ملی مذہبی رفاہی فلاحی خدمات بھی بہ خوبی انجام دئےہیں جنکو ہمیشہ ہی یاد رکھا جائے گا مولانا عبد القدوس جماعتی سطح پر گہری نظر رکھنے والے عالم دین و مدبرانہ قیادت کے حامل تھے جہاں جاتے اپنے علمی و فکری نقوش چھوڑآتےتھے آپ میں ملت کے لئے خد مات کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا در اصل آپکی محنت اور کوششوں سے ملک کے عوام نے بہت کچھ علمی اور سماجی شعور حاصل کیا ہے آپکا یہ کارنامہ ملک اور ملت کے لئے لائق تحسین عمل ہے! حضرت والا کے 17 ویں عرس مبارک ہر اپنے خیالات کا اظہار آج آپ کےشہزادہ و جانشین حضرت علامہ اعجاز احمد کشمیری صاحب خطیب و امام ہانڈی والی مسجد نے منقعدہ تقریب فاتحہ خوانی میں کرتے ہوئے فرمایا کہ والد گرامی نے مسلم مسائل پر کبھی بھی ارباب اقتدار سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق گوئی و بیباکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہرجگہ مسلم مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کام کرنے اور کرانے کی کوششیں کی  ہیں جس کا واضح ثبوت 92میں ممبئی فساد میں آپکی بیباک بہادرانہ کر دار اور ہندو مسلم فسادات کے دوران  ملی اتحاد اور بہائی چارہ کیلئے بے حد پیچیدہ حالات میں قوم کی حفاظت اور بہتری کی خا طر حق پر قائم ودائم رہتے ہوئے اس طرح کے ہزاروں  معاملات اور مسائل آپ نے اپنی حق پسندانہ اور مخلصانہ قیادت کے ذریعہ حل کرا ئے ہیں جو ایک سچے رہبر اور قائد کی لاثانی نظیر ہے ! اسلامی مفکر عالم دین حضرت مولانا اعجاز احمد کشمیری نے مزید کہا کہ حضرت شیر ملت کا دل ہر وقت قوم و ملت کیلئے دھڑکتا تھا رات دن میں وہ گہری سوچ میں پڑ ے رہتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی چاہے وہ فساد کے ذریعے ہو یا حکومتی سطح پر اقلیتوں کو نظر انداز کرنے کی آپ نے مختلف تنظیموں کمیٹیوں کے ساتھ مل کر قومی ملی خدمات انجام دیئے ۔ آخر تک تصلب فی الدین بالخصوص تعلیمات اعلیٰ حضرت پر عمل پیرا رہے اس معاملے میں انہوں نے کبھی کسی سے نہ سمجھوتہ کیا نہ ہی کسی کا پرواہ وہ اپنے مسلک و جماعت کے موقف کے ساتھ کام کرتے رہے جس سے مسلمانوں بہت سارے مسائل حل ہوئے۔
آج جب ممبئی شہر سمیت پورے ملک میں مسلمان سنگین مسائل سے دو چار ہیں ایسے موقع پر حضرت شیر ملت کی ہمت و حوصلے سامنے نظر آتے ہیں کہ کاش آپ ہمارے درمیان موجود ہوتے تو اپنی بصیرت و بصارت کے ذریعے حکومتی سطح پر پہنچ کر کام کراتے تھے دارالعلوم حاجی علی خانقاہ قادریہ محمد رفیع نگر گوونڈی میں تقریب فاتحہ خوانی سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل قاری محمد اشرف رضا برکاتی نے کہا کہ حضرت شیر ملت عزم واستقلال کے کوہ ہمالیہ تھے وہ کبھی بھی ارباب اقتدار سے مرعوب نہیں ہوئےبلکہ سیاسی رہنما حضرت کے سامنے بولنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔
آج اکثر مسلم لیڈران حضرت شیر ملت کی تحریک سے متاثر ہیں جو انہیں یاد کرتے ہیں!
آہ افسوس علم و فضل دانش و حکمت کا وہ پیکر نہ رہا جس کا احساس پوری جماعت اہلسنت کرتی ہےحضرت قاری محمد سلیمان رضوی بانی دارالعلوم گلشن مدینہ گوونڈی نے بھی حضرت کشمیری صاحب قبلہ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ذات بے مثال تھی اپنی بات منوانے کا ہنر جانتے تھے اس لیے بڑے بڑے سیاسی رہنما آپ کی باتیں سنتے تھے۔ دارالعلوم اہلسنت ضیاء النبی رفیع نگر کے حضرت مفتی محمد عثمان اشرف اشرفی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علامہ عبد القدوس کشمیری صاحب قبلہ کئ جہتوں سے متعارف تھے بہترین خطیب اعلیٰ اوصاف کے ساتھ امام بہترین دانشور اور مدبر و سربراہ تھے آ پ برزگوں کی بارگاہ کے ادب شناس تھے بریلی شریف کے حضرت مفتی اعظم ہند سے خلافت حاصل تھی اور رئیس اعظم اوڈیشہ حضرت علامہ حبیب الر حمٰن المعروف حضرت مجاہد ملت کے بھی محبوب و پسندیدہ خلیفہ تھے چاہتے تو آپ بھی کثرت سے مرید فرماتے مگر آپ نے قومی ملی مذہبی خدمات خدمات کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا تھا۔ اور آخری دم تک اسی مشن پر گامزن رہے آج بھلے حضرت علامہ عبد القدوس کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں مگر وہ اپنے مخلصانہ کاموں کی وجہ سے اپنے چاہنے والوں کے درمیان زندہ و تابندہ رہیں گے بالخصوص آپ کے جانشین و صاحبزادہ حضرت علامہ اعجاز احمد کشمیری صاحب قبلہ ہمت و شجاعت اور دلیری اپنے والد سے ورثہ میں پائی مستقبل میں جماعت اہلسنت کی بڑی امیدیں آپ سے وابستہ ہیں اللّٰہ صحیح معنوں میں مخلص اور ملنسار اور خوش دلی سے قیادت و رہنمائی کے لئے شیر اسلام حضرت اعجاز احمد کشمیری کو مزید مضبوطی فراہم کرے! آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے