(تاریخ پیدائش: ۱۹۶۰)
ڈاکٹر عبداللہ فیصل
سدھارتھ نگر کی مردم خیز بستی نے جن مایہ ناز ہستیوں کو جنم دیا ہے , جو آج بھی اپنی ہمہ جہت شخصیت اور ہمہ گیر خدمات کا لوہا منوائے ہیں ایسی عظیم شخصیات میں ایک نام سر فہرست ہے، اور وہ نام ہے مولانا عبدالعظیم اختر عالیاوی صاحب کا ـ اللہ تعالی نے ان کو بے پناہ صلاحیتوں اور گوناگوں خوبیوں و کمالات سے نوازا ہےـ گزشتہ چالس ۴۰ سالوں سے مسلسل مختلف شعبوں میں مفید و کارآمد ملک و قوم ملت کی خدمات انجام دے رہے ہیں ـ مولانا بیک وقت کئی خوبیوں و صلاحیتوں کے مالک ہیں، وہ ایک مشفق استاد بھی ہیں اور ایک قادر الکلام، کہنہ مشق شاعر بھی ہیں ـ فن خطاطی میں بھی انہیں کمال حاصل ہے ـ انہوں نے چالس (۴۰) سال تک مدرسہ مبدء العلو م پنڈت پور (ضلع سدھارتھ نگر یوپی) میں درس وتدریس کے فرائض انجام دئے اور صدر المدرسین کے عہدے تک پہنچے ـ انہوں نے مدرسہ کی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں ـ
محترم مولانا عبد العظیم اختر عالیاوی جنہوں نے اپنی عمر کے قیمتی و جوانی کے ایام ۱۹۸۰ سے مدرسہ مبدء العلوم پنڈت پور کی تعمیر و ترقی میں صرف کر دی اور مدرسہ مبدء العلوم ہی میں طویل عرصے تک گزار دی ـ ان کے کارنامے ناقابل فراموش ہیں ـ وہ ایک باصلاحیت، فعال و متحرک شخص ہیں ـ درس و تدریس ،صحافت وخطابت میں منفرد انداز ہے ـ خطابت میں سنجیدہ گفتگو کرتے ہیں ان کی خطا بت میں شگفتگی ، سنجیدگی، متانت و گہرائی ہے ـ موصوف صرف علمی ، ادبی ، شعری ذوق ہی نہیں رکھتے ہیں بلکہ وہ ایک ممتاز "شاعر وادیب ” بھی ہیں ـ ان کے تدریسی، علمی و شعری خدمات کم و بیش چالیس پینتالس سالوں پر محیط ہیں ـ ایک ہی جگہ چار دہائیاں گزار دینا کسی عجوبے سے کم نہیں ہے ـ یہ ان کی مقبولیت و ہر دلعزیزی کی دلیل ہے ـ دیہات میں اتنا طویل عرصہ گزارنا جہاں ان پڑھ ،جاہل، گنوار، اجڈ، بے شعور، دور اندیش ، معاملہ فہم کم ہی لوگ ہوں، ان کے بیچ رہ کر کوئی ادارہ چلانا ، علمی، تدریسی و تخلیقی کام کرنا کتنا مشکل ہے، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ـ کس طرح سے مولانا نے لوگوں کو جھیلا ہوگا؟ کیسے کیسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہوگا؟ کیسے کیسے حالات آئے ہوں گے؟ ان کو دور اندیشی سے حل کیا ـ لوگ موصوف کو ان کے آبائی گاؤں سے کم اور پنڈت پور سے زیادہ جانتے ہیں، ان کو عام طور پر لوگ پنڈت پور گاؤں کا ہی سمجھتے ہیں جبکہ ان کا آبائی گاؤں "سپرا بلوہی” ہے لیکن ان کی شہرت و تعارف مدرسہ مبدء العلوم پنڈت پور سے ہی ہےـ
اللہ کے فضل و کرم سے وہ ایک اچھے طبیب بھی ہیں ـ موصوف نے طبابت میں اتنی مہارت حاصل کر لی ہے کہ وہ پریکٹیکل ڈاکٹر ہیں ـ الحمد للہ آج تک ان سے کوئی کیس خراب نہیں ہوا، اکثر مریض شفایاب ہی ہوتے ہیں ـ
خطابت:
فن خطابت میں بھی کمال حاصل ہے، ان کی گفتگو عالمانہ، مدلل ، اور سنجیدہ ہوتی ہے ـ اشتعال انگیزی اور ہیجان خیزی میں یقین نہیں رکھتے ـ مولانا عبدالعظیم صاحب انتہائی با اخلاق منکسر المزاج اور حد درجہ ایماندار ، دیانت دار شخص ہیں ـ
صحافت میں بھی طبع آزمائی کی ہے، آپ کے علمی، ادبی و شعری مضامین ملک کے موقر جریدوں، رسالوں میں شائع ہوتے رہے ہیں، ماہنامہ نوائے اسلام دہلی، جریدہ ترجمان دہلی میں شائع ہوتے تھے ـ
کتابت:
فن کتابت میں انہیں کمال حاصل ہے ـ کتابت میں جو مہارت حاصل کی ہے وہ لاجواب ہے ـ کمپیوٹر آنے سے پہلے کاتب حضرات کا کمال تھا کہ وہ ضخیم سے ضخیم کتابیں ہاتھ سے ہی لکھ ڈالتے تھے، اور بہت ہی باریکی سے نوک پلک درست کرتے تھےـ کمپیوٹر عام ہونے سے اب بڑی آسانی ہوگئی ہے ـ سارا کام انگلیوں کی حرکت سے ہوتا ہے۔ key Board کے بٹن پر دباتے ہی غلط لفظ کو صحیح اور اعراب بھی لگا سکتے ہیں ـ اسکرین (Screen) پر ساری چیزیں واضح طور پر نظر آئیں گی ـ اس وقت آدمی تصور کرے کہ کیسے کتابت ہوتی تھی ، تو ذہن و دماغ سمجھنے سے قاصر رہے گا ـ
شعر و ادب:
مولانا عبدالعظیم صاحب "اختر” تخلص رکھتے ہیں، آپ کے شعری و ادبی خدمات ہیں ـ آپ کے کلام کا شعری مجموعہ جلد از جلد منظر عام پر آنے والا ہے ـ حمد و نعت غزل ، ہزل، رباعی و دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کی ہے ـ
مولانا عبدالعظیم صاحب ایک گہری سازش کے شکار ہوئے اور مدرسہ مبدء العلوم سے علیحدگی اختیار کر لی ـ پڑوس کے گاؤں کوئری ڈیہہ میں ملازمت کر لی اور اپنا مطب بھی جاری رکھا ہے ـ
مدرسہ مبدء العلوم نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں ـ کچھ شر پسند عناصر نے کئی بار مدرسہ کو زبردست نقصان پہنچایا اور تعلیم کا سلسلہ بھی بند ہوگیا تھاـ مدرسہ کے ناظم حاجی محمد زماں کو بھی ہٹا دیا گیا تھا ـ جبکہ محمد زماں کی ادارہ کے لئیے قربانی ناقابل فراموش ہے ـ انہوں نے مدرسہ کے لئے نیپال اور دور دراز گاؤں سے چندہ کے لئے جاتے تھے اور کبھی عار محسوس نہیں کی، دین کی خدمت سمجھ کر کرتے تھے ـ
مدرسہ میں عربی درجات قائم تھے پچاس، پچیس بچے داخل تھے ، قیام وطعام کا انتظام تھا ـ گاؤں کے کچھ لوگوں کی آپسی نااتفاقی اور شدید مخالفت سے مدرسے پر منفی اثر ہوا، عربی درجات بند ہوگئے ـ
مدرسے پر کچھ دنوں تک ایک گروپ کا ناجائز قبضہ تھا، وہ من مانی کر رہے تھے ـ کسی طرح سے ان کے قبضہ سے مدرسہ کو آزاد کرایا گیا ـ
اللہ کے فضل وکرم سے حاجی محمد زماں کو تیار کیا گیا اور انہوں نے نظامت کی ذمہ داری قبول کی، نسواں اسکول کا قیام ہوا، مکتب بھی جاری ہے اور ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے ـ الحاج محمد زماں کے بیٹوں عبدالسلام سمانی برادران (فیمس کلاتھ اسٹور سونا پور بھانڈوپ ممبئ ) نے نسواں اسکول کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں ـ گاؤں کے اہل خیر حضرات کے تعاون سے ادارہ شاندار طریقے سے چل رہا ہے ـ اور حاجی محمد زماں ضعیفی کے عالم میں بھی ادارہ کے انتظام وانصرام میں لگے ہوئے ہیں ـ اللہ انہیں مزید توفیق دے ـ
آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس بجہا بازار:
آپ کا سب سے عظیم کارنامہ "عظیم الشان آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس” کا بجہا بازار میں انعقاد ہے ـ آپ بجہا حلقہ جمعیت اہل حدیث کے ناظم تھے ـ اس کانفرنس میں ملک کے جید و معزز علماء کرام شریک ہوئے تھے ـ مولانا عبدالقیوم رحمانی، مولانا عبدالسلام مدنی، مولانا رحمت اللہ اثری، مولانا انجم جمال اثری، مولانا ابوالعاص وحیدی، مولانا عبدالرحیم امینی وغیرہ وغیرہ
بجہا بازار کانفرنس کے اصل محرک معروف شخصیت عربی زبان وادب کے ماہر سابق پرنسپل (جامعہ دارالہدیٰ یوسف پور) مولانا عبدالرحیم امینی صاحب تھے جنکی تحریک سے مولانا عبدالعظیم عالیاوی، مولانا شمیم احمد فیضی ششہنیاں (جو اب ہمارے درمیان نہیں ہیں) ڈاکٹر عبدالمالک نازاں مڑیلا اور اہل بجہا کے بھر پور تعاون سے کانفرنس کا انعقاد ہوا ـ ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بجہا بازار کانفرنس کےاخراجات کے بعد جو رقم بچی تھی اس سے اور حاجی منیب صاحب (کرلا ممبئ ) کے تعاون سے نوگڈھ میں زمین لی گئی تھی اور جمعیت کا دفتر قائم کیا گیا تھاـ اور ایک مسجد بھی قائم کی گئی تھی جو آج البدر اسکول کے انڈر میں ہے ـ نوگڈھ میں جب زمین خریدی گئی تھی اور دفتر قائم کیا گیا تھا، ناظم مولانا عبدالرحیم امینی صاحب تھے ـ ان کی قیادت میں ہی سارے امور انجام پائے تھے ـ اس کے بعد جمعیت کے کئی نظماء و صدور منتخب ہوئے ـ لیکن دفتر کا معاملہ حل نہیں ہوا ـ مکمل آزادی کے ساتھ جمعیت کا کام بحسن وخوبی انجام دیا جاسکے ـ مولانا عبدالقدوس نزیر مدنی صاحب معہد الرشد کے بانی و منتظم ہیں وہ ایک شریف النفس آدمی ہیں ـ ان سے مل کر افہام و تفہیم کے ذریعہ دفتر کا مسئلہ حل کر لینا چاہئے ـ افسوناک و شرمناک بات یہ ہے کہ لوگ جماعت و جمعیت کو اپنی ذاتی پراپرٹی سمجھتے ہیں ـ ان پر اپنا مالکانہ حق سمجھ کر قابض ہیں ـ یہ صورت حال غالبا پورے ملک کی ہے ـ علاقائی ،صوبائی جمیعتوں کا حال بھی یہی ہے ـ جو جس پر قابض ہو جاتا ہے، چھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتا ہے ـ جمعیت اہل حدیث دفتر نوگڈھ کا بھی یہی حال ہے ـ مسجد کے نیچے دفتر کے اندر کی وسیع وعریض جگہ خالی پڑی ہے ـ اس میں کیڑے مکوڑے، گندہ پانی اور بدبودار کچرا جمع ہے ـ کون ذمہ دار ہے؟ اس کے پیچھے کن شر پسند عناصر کا ہاتھ ہے؟ کب تک دفتر میں کیڑے مکوڑے گندہ پانی بدبو دار کچرا جمع رہےگا اور تعفن پھیلتا رہےگا؟
کسی کو توفیق نہیں ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر معامہ حل کرا دے ـ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے آمین ـ

