تحریر : محمد نعمت اللہ ادریس ندوی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ان اوصاف کا ذکر کیا ہے جن سے اگر ایک مرد متصف ہو تو وہ بحیثیت شوہر ایک بہترین انتخاب بننے کی اہلیت رکھتاہے، بلکہ اگر ایسے شخص کے رشتہ کو ٹھکرانا روئے زمین میں سخت فتنہ وفساد کا بیج بونا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’ إذا أتاکم من ترضون دینہ و خلقہ فانکحوہ، إن لاتفعلوہ تکن فتنۃ فی الأرض و فساد کبیر ، قالوا: یارسول اللہ و إن کان فیہ ؟ قال: إذا جاء کم من ترضون دینہ و خلقہ فانکحوہ‘‘ (إرواء الغلیل: ۱۸۶۸، حسن)
( اگر تمہارے پاس کوئی ایسا شخص رشتہ کے لئے آئے جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو، تو شادی کردو، اگر ایسا نہیں کروگے توزمین میں انتشار پھیلے گا اور بہت بگاڑپیدا ہوگا،صحابہ نے استفسارکیا : اے اللہ کے رسول ﷺگر چہ اس میںکمی ہی کیوں نہ ہو؟آپ نے فرمایا: اگر تمہارے پاس کوئی ایسا شخص رشتہ کے لئے آئے جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو، تو شادی کردو)۔
اس حدیث میں دین و اخلاق کے حامل مرد کو رشتہ دینے کے لئے پسندیدہ شخص قراردیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوسری صفات قابل اعتناء نہیں ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ دین اصل ہے اور دیگر امتیازات جیسے مال ، جمال اور خاندان ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ کسی امیدوار میں اکٹھا ہو جائیں تو فبہا و نعمت ورنہ دین کو بنیاد بناتے ہوئے دوسرے امور جس قدر بھی میسر آجائیں غنیمت ہے۔ دین داری کو نظر انداز کرکے بقیہ اوصاف کو اہمیت دینا جیساکہ ہمارے معاشرہ میں عمومی رجحان پایا جاتا ہے ، ناعاقبت اندیشی اور جہالت ہے، جس کے بسااوقات انتہائی سنگین اور افسوس ناک نتائج دیکھنے میں آتے ہیں۔گویا ہماری شریعت نے اس امر کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے جس میں عام طور پر ہم انسانوں میں کوتاہی پائی جاتی ہے ، جب کہ خوش و خرم ازدواجی زندگی کے لئے اس کی مثال ریڑھ کی ہڈی کی ہے۔
یہی و جہ ہے کہ رشتہء ازدواج کے لئے مرد کی طرح عورت کے انتخاب میں بھی دین کو ہی مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں وضاحت فرمائی :
’’ تنکح المرأۃ لأربع: لمالہا، و لحسبہا، و جمالہا، و لدینہا، فاظفر بذات الدین تربت یداک‘‘ (البخاری و مسلم)
( عورت کو چار اسباب کی بنا پر نکاح کے لئے قبول کیا جاتا ہے:مال، حسب ونسب، خوب صورتی اور دین،تم دین والی کو پسند کرو، اللہ تمہارا بھلا کرے)۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں : ’’حدیث کا صحیح معنی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور کی نشاں دہی کی ہے جو عام طور پر لوگوں کے نزدیک معیار قرارپاتے ہیں اور ان میں آخری دین ہے، تو تمہارے لئے میری صلاح یہ ہے کہ تم دین دار کو ترجیح دو’’۔(شرح مسلم)
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی کہاہے اور مزید کہتے ہیں: ’’حدیث سے یہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ مجموعی طور پر ان تمام اوصاف یا کسی ایک کی بنا پر شادی جائز ہے، لیکن دین کو مقصد بنانا سب سے بہتر او راہم ہے ‘‘ (المفہم المشکل من تلخیص صحیح مسلم: ۴/۲۱۵)۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں نیک عورت کو دنیا کا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہیں ، ارشانبوی ہے :
’’ الدنیا کلہا متاع ، وخیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحۃ‘‘ (مسلم) (پوری دنیا سامان زندگی ہے اور اس کا بہترین اثاثہ نیک عورت ہے)۔
خلاصہ کلام یہ کہ حدیث میں مذکور صفات کو مرد یا عورت میں رشتہ کے لئے تلاش کرنا شرعا مرغوب و مستحسن ہے ، بشرطے کہ دین کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔دین داری اور نیکی کے بغیر دوسری خوبیاںوقتی ثابت ہوتی ہیں اور اپنا اثر کھو بیٹھتی ہیں،اس لئے دین کوفوقیت دینا عائلی زندگی کو ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرنا ہے۔

رشتہ ازدواج کی کامیابی اور بقا کا راز:
مرد وزن کے درمیان شادی کا یہ فطری رشتہ جو بنی نوع انساں کے کائناتی وجود اور مقصد حیات کو پانے کے لئے از حد ضروری ہے،در اصل ان بنیادی ستونوںپر قائم رہتا ہے جن کی تحدید سورئہ روم میں مذکورآیت کریمہ نے اپنے مضمون میں کی ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : ’’ وخلق لکم من أنفسکم أزواجا لتسکنوا إلیہا ، وجعل بینکم مودۃ و رحمۃ‘‘ (اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیںتاکہ تم ان سے آرام پاؤ، اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی) ـــآیت نمبر۲۱۔

عائلی زندگی کی خوشیوں اور تحفظ و بقا کا راز وہ قلبی اطمئنان اور راحت وسکون ہے جو شوہر و زن کے مابین پایا جاتاہے ، وہ پیار و محبت کا اٹوٹ بندھن ہے جو گھر کی اکائیوں کو آپس میں جڑا رکھتا ہے ، وہ اپنائیت چاہت اور غم گساری کا جذبہ ہے جس کی گھنیری چھاؤں میں افراد خانہ پروان چڑھتے ہیں۔اسے ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت کی شکل میں غذا فراہم ہوتی ہے جو آل و اولاد کی سرحدوں سے نکل لافانی رشتہ محبت و اخوت کا روپ دھارتی ہے اور پھر دوست و احباب اور عزیز و اقارب کے ساتھ ساتھ پوری انسانی برادری کو اپنے باہوں میں سمیٹ لیتی ہے ۔
لیکن خوش و خرم عائلی زندگی ،محفوظ و مامون خاندانی نظام اور باہم مترابط انسانی سماج کے لئے یہ مستحکم بنیادیں اسی وقت فراہم ہو سکتی ہیں، جب زوجین اپنے شریک حیات کے انتخاب میں ذمہ داری کا ثبوت دیںاور ان صفات و خصوصیات کو معیار بنائیں جن کی تحدید شریعت اسلامی نے کی ہے؛ تاکہ شکل و صورت اور جسمانی حسن کے مقابلہ میں سیرت و کردار کو اپنا مقام مل سکے ، دونوں کوایک دوسرے کی ظاہری اور باطنی خوبیوں سے ضروری واقفیت ہو ، جس کی بناپر وہ اپنے آپ کو پسندیدگی اور رضا و رغبت کے ساتھ اس رشتہ ازدواج کو زندگی بھر پرسکون ماحول میں نبھانے پر آمادہ پاسکیںاوراس طرح جذبہ محبت سے معمور نیکی شعار خاندان کووجود میں آنے کا موقعہ فراہم ہو سکے۔

شرعی معیار کو نظر انداز کرنے کے مفاسد:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہمیں ڈرایاہے کہ دین داری اور اخلاق کو مد نظر نہ رکھنے کی صورت میں انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہونگے، تو اس کی صداقت آج کے ہمارے معاشرے میں کسی دلیل کی محتاج نہیں۔ ہم نے دنیوی مظاہر ، ظاہری رکھ و رکھاؤ، مال و ثروت ، جاہ و منصب، شان و شوکت ، رعب و دبدبہ کھوکھلی معاشرتی وجاہت، اخلاق سے عاری تعلیم اور زوال پذیر حسن و خوبی کو رشتہ داری قائم کر نے کا معیار بنا رکھا ہے۔ لہذا ان بنیادوں پر رشتوں کے قیام کی و جہ سے لاتعداد مسائل پیدا ہورہے ہیں، زوجین کی مابین تعلقات استوار نہیں ، خاندانوں میں جھگڑے ہیں، طلاق کے واقعات عام ہورہے ہیں، ظلم وتشددکی کثرت ہے،بچوں کی زندگی اجیرن بن رہی ہے، غیروں کی دیکھا دیکھی جہیز کی لعنت دل دوزجرائم اور مقدمہ بازیوں کو جنم دے رہی ہے ۔ الغرض زمین واقعی فتنہ و فسادسے بھر رہی ہیں؛لہذا اس کے حل کے لئے اس اصل سبب کی طرف توجہ مرکوزکرنی پڑے گی جس کی نشاںدہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتوں کو طے کرنے کے سلسلے میں کی ہے کہ دین و اخلاق کو فوقیت دو ۔
اللہ تعالی ہمیں صحیح سمجھ اور اس پر عمل کی توفیق سے نوازے۔ آمین۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے