از: صابر عالم، ورنگل ۔

محترم جناب میر بیدری صاحب فرماتے ہیں:
سوچتے رہتے ہیں ہم یہ ڈرتے ہوئے
جانے کیا سوچا ہوگا وہ مرتے ہوئے
       میربیدری کامذکورہ شعر ایک بیحد گہرے روحانی تاثر والا شعر ہے، جو موت کے لمحے کی حقیقت، نفس کی گرفت، اور آخرت کی ہولناکی پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ محض ایک خیال نہیں، بلکہ روحانی ارتعاش رکھنے والی کیفیت ہے، جس میں انسان اپنے فانی وجود کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔آئیے اس شعر پر ہم قرآن، حدیث مبارکہ، تصوف، ویدانت اور ادب کی روشنی میں تبصرہ اور تشریح کی کوشش کریں گے ان شا ء اللہ تعالیٰ:
1۔قرآن کی روشنی میں:آخری لمحے کی کیفیت:  ”فَکَشَفْنَا عَنکَ غِطَائَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیدٌ”(القرآن، سورہ ق: 22)
ترجمہ: ”تو آج ہم نے تم سے پردہ ہٹا دیا، اب تیری نگاہ تیز ہو گئی ہے”
       یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ موت کے وقت حقائق کی پردہ داری ختم ہو جاتی ہے، اور جو کچھ انسان اپنی زندگی میں نہیں سمجھ پایا، موت کے لمحے میں اُس پر بے نقاب ہوتا ہے۔شعر کی دوسری لائن اسی کشفِ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
نزع کی حالت کا خوف:  ”وَجَائَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَق ذَٰلِکَ مَا کُنتَ مِنْہُ تَحِیدُ” (سورہ ق: 19)
ترجمہ: ”اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آ پہنچی، یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگا کرتا تھا” یہی کیفیت شعر کے پہلے مصرع میں پائی جاتی ہے:”سوچتے رہتے ہیں ہم یہ ڈرتے ہوئے”  یہ ڈر، نزع کی دہشت اور روح کے کھنچے جانے کی بے بسی کو مجسم کر دیتا ہے۔
2۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں:موت کے وقت کا حساب:
    عن أنس رضی اللہ عنہ: قال رسول اللہ ﷺ:”القبر أول منازل الآخرۃ، فإن نجا منہ فما بعدہ أیسر، وإن لم ینجُ منہ فما بعدہ أشد”.(ترمذی، 2308)”قبر آخرت کی پہلا منزل ہے، اگر اس سے نجات مل جائے تو آگے آسانی ہے، ورنہ پھر سختی ہے”.محترم میر بیدری صاحب کا یہ شعر اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ:  ”کیا اُس نے موت کے وقت اپنی زندگی پر ندامت کی؟ کیا وہ مطمئن تھا؟ یا نادم؟”
3۔ تصوف کی روشنی میں:
       تصوف میں موت کو وصال کہا جاتا ہے، یعنی محبوبِ حقیقی سے ملاقات، مگر یہ وصال صرف اُس کے لیے باعثِ راحت ہوتا ہے جس نے دنیا میں نفس کی نفی کی ہو۔حضرت بایزید بسطامی کہتے ہیں۔  ”موت وہ دروازہ ہے، جو عاشق کو معشوق کے وصال تک لے جاتا ہے۔ لیکن اگر دل میں دنیا ہو، تو وہ دروازہ جہنم بن جاتا ہے”تو شعر میں یہ سوال:”جانے کیا سوچا ہوگا وہ مرتے ہوئے”، محض تجسس نہیں، بلکہ ایک روحانی اضطراب ہے، جیسے صوفی یہ سوچے کہ ”کیا اُس نے اپنے رب کو یاد کیا؟ یا دنیا کو؟”مرزا غالب نے کیا خوب فرمایا:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے ہم
مر کے بھی  چین نہ پایا تو  کدھر جائیں گے ہم
اے نفس! تُو ہی بتا اب ہمیں کیا چاہیے (نامعلوم)
4۔ویدانت کی روشنی میں:بھگود گیتا (باب 8، شلوک 6)”جو جس بات کو مرتے وقت یاد کرتا ہے، وہی اُس کی اگلی حالت کا تعین کرتی ہے”
”Anta-kale cha mam eva smaran muktva kalevaram”
”اَنتَ کالے چَ ما?م ایوَ سمرن مُکتوا کَلیوَرَم”
       ”جو شخص مرنے کے وقت (انت کال میں) صرف مجھے (یعنی بھگوان کو) یاد کرتا ہے اور جسم کو چھوڑتا ہے، وہ میری ہی طرف آتا ہے” (یعنی اُسے مکتی، نجات یا بھگوان کی قربت حاصل ہوتی ہے)  یہ شلوک بھگود گیتا، باب 8، شلوک 5-6 کے سیاق میں آتا ہے، جہاں شری کرشن جی مہاراج ارجن کو یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ موت کے وقت جس بات کا دھیان ہوگا، وہی آگے کی روحانی حالت کا تعین کرے گا۔ یہ تعلیم واضح کرتی ہے کہ موت کے وقت کا آخری خیال انسان کے آواگون یا نجات کا فیصلہ کرتا ہے۔ لہٰذا شعر کا دوسرا مصرع:
”جانے کیا سوچا ہوگا وہ مرتے ہوئے” یہ محض ایک سوال نہیں، بلکہ اس کے اگلے جنم، یا مکتی کی کیفیت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ شعر میں کمال کی سادگی اور روحانی شدت ہے۔”سوچتے رہتے ہیں ہم یہ ڈرتے ہوئے”  یہ مصرع اجتماعی انسانی خوف کو ظاہر کرتا ہے، نہ صرف شاعر کا بلکہ ہر انسان کا باطن یہی سوال کرتا ہے۔”جانے کیا سوچا ہوگا وہ مرتے ہوئے”  اس میں وہی خاموش اضطراب ہے جیسے ایک شخص قبر پر کھڑا ہو، اور اُس کے دل میں یہ آواز گونجے:”کیا وہ راضی تھا؟ کیا خدا اُس سے راضی تھا؟”علامہ اقبال فرماتے ہیں   ؎
خودی کو کر بلند  اتنا  کہ  ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
       یہ شعر میر بیدری صاحب کے شعر کے برعکس مثبت یقین کی بات کرتا ہے، مگر دونوں کا مرکز موت کے وقت کی کیفیت ہے۔مرزا غالب نے کہاتھا    ؎
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی  ہے  پر نہیں  آتی
       یہاں بھی موت کا روحانی انتظار اور خوف دونوں بیک وقت موجود ہیں۔ میر بیدری صاحب کا یہ شعر انسانی دل کا آئینہ ہے، جس میں موت کا ڈر، نفس کا حساب، آخرت کی فکر اور روحانی تجسس ایک ساتھ جھلکتے ہیں۔ یہ شعر دل کو جھنجھوڑتا ہے، نفس کو بیدار کرتا ہے، اور قاری کو آئندہ لمحوں کے لیے غور و فکر پر مجبور کرتا ہے۔دعا ہے کہ ہمیں اس شعر سے عبرت حاصل ہو اور ہم ”رضائے الٰہی، فلاح آخرت” کے مقصد کے حصول میں لگ جائیں، آمین یا رب العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے