از : صابر عالمؔ ، ورنگل 

غزل 

 میری غم گشتہ تمنا کو اجاگر کردے

اپنے جلوؤں سے میری شب کو منور کردے

ہم کسی آنکھ میں سیلاب نہ آنے دیں گے

ہم کو دنیا کے خزانے سے تونگر کردے

جن کے کانوں نے محبت کی صدائیں نہ سنیں

خانقاہوں میں انہیں لا کے قلندر کردے

میں بھی خندق کے بنانے کا کروں عزم صمیم

مجھ میں سلمان کی دانش کو اجاگر کردے

جن درختوں سے کسی شخص کو سایہ نہ ملے

ان درختوں کو زمینوں کے برابر کردے

میں بھی محسوس کروں درد کی شدت مجھ میں

میری ہستی کے مہ و سال بہتر کردے

کوئی مرجائے یہ محسوس ہو میت اپنی

ہم کو احساس کی دنیا کا پیمبر کردے

میرے ہونٹوں پہ دہکتا ہوا بوسہ رکھ کر

میری سانسوں کو چنبیلی سے معطر کردے

جو بجھا دیتا ہے جسموں کادہکتا لاوا

ایسے دریا کا ہمیں بھی تو شناور کردے

قطرہ قطرہ میری آنکھوں سے ٹپکتا ہے لہو

ہجر کی شب میں اسے آکے سمندر کردے

اُن کو سورج کی شعاعوں سے بچاکر مسعودؔ

کچّی کلیاں ہیں سلیقے سے گلِ تر کردے

*********

       استاذ مسعودؔ جعفری صاحب یہ غزل اپنے اندر ایک عمیق فکری و روحانی جہان لیے ہوئے ہے، جہاں غم و عشق، معرفت و دردمندی، تزکیۂ نفس، اور اعلیٰ انسانی شعور کے نقوش نمایاں ہیں۔

       شاعر نے محض لفظوں سے نہیں، بلکہ اپنے قلب کی واردات سے ایک ایسی دنیا تعمیر کی ہے جہاں حسنِ طلب اور سوزِ دروں سے حقیقت کی شعاعیں پھوٹتی ہیں۔

       یہ غزل وحدتِ ادراک اور دردمند انسانیت کے اس خواب کی تعبیر ہے جو صوفیاء، رشیوں، انبیاء، اور فلاسفہ کا مشترکہ خواب رہا ہے۔

       یہ غزل ایک فکری، روحانی اور اخلاقی منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر شعر ایک دعوتِ فکر، ایک ندائے احساس، اور ایک تشنہ روح کی صدائے عاجزانہ ہے۔

       آئیے اس غزل کے ہر شعر کا سلیس ترجمہ، روحانی تشریح، اور تمثیلی، متوازی اشعار کے ساتھ تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں:

اشعار کی روحانی و فکری تشریح و تبصرہ :

میری غم گشتہ تمنا کو اجاگر کردے

اپنے جلوؤں سے میری شب کو منور کردے

ترجمہ :

       میری وہ پرانی اور دل میں چھپی ہوئی آرزو کو پھر سے زندہ کردے، اور اپنی جمالیاتی تجلیات سے میری تاریک رات کو روشن کر دے۔

تشریح :

       یہاں "غم گشتہ تمنا” دراصل روح کی ازلی طلب ہے، جو ذاتِ حق کی قربت کی آرزو رکھتی ہے۔ شاعر، عرفانی سطح پر، اپنے نفس کی تجدید اور باطن کی روشنی کا طالب ہے۔

تمثیلی شعر (رومی) : تو خودی را چو شب تار کنون برفروز

تا بتابد در دلِ تو آفتابِ راز

"اپنے تاریک نفس کو روشن کر، تاکہ تیرے دل میں راز کا سورج طلوع ہو۔”

       یہ شعر معرفت و جمالِ الٰہی کا آئینہ ہے۔ "غم گشتہ تمنا” اصل میں روح کی وہ ازلی آرزو ہے جس کا ذکر قرآن میں بھی ملتا ہے :

 وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا

(سورۃ الشمس: 7-8)

ترجمہ : "اور قسم ہے نفس کی اور اسے درستگی دینے والے کی، پھر اس کو اس کی بدی اور پرہیزگاری الہام کی گئی۔”

       یہاں "جلوؤں” سے مراد تجلیاتِ حق ہیں جن سے "شب” یعنی ظلمتِ حیات منور ہو جاتی ہے۔

حضرت رومیؒ فرماتے ہیں : "شب چو چشم است و ضیائے تو چو ماہِ آسمان”

"رات آنکھ کی مانند ہے، اور تیرا جمال آسمان کے چاند کی طرح روشنی دیتا ہے۔”

ہم کسی آنکھ میں سیلاب نہ آنے دیں گے

ہم کو دنیا کے خزانے سے تونگر کردے

ترجمہ :

       ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ کسی کی آنکھ میں غم کے آنسو نہ آنے دیں گے، تو ہمیں اپنی رحمت سے اتنا تونگر کر دے کہ ہم دوسروں کے لیے سہارا بن سکیں۔

تشریح :

       یہ شعر ایثار اور خدمتِ خلق کا عظیم درس دیتا ہے۔ یہاں دولت سے مراد صرف مادی مال نہیں، بلکہ سخاوتِ قلبی، علم، وقت، اور توجہ بھی ہے۔

تمثیلی شعر (اقبال) : ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

       یہاں فلاحِ انسانیت اور ایثار کا ذکر ہے۔ شاعر یہ تعلیم دیتا ہے کہ بے نیازی صرف مال سے نہیں، دل کی وسعت سے ہے۔

حدیثِ نبویﷺ : لَیْسَ الغِنَیٰ عَنْ کَثْرَةِ العَرَضِ وَلَکِنَّ الغِنَیٰ غِنَی النَّفْسِ

ترجمہ : "غنا (تونگری) مال کی کثرت سے نہیں بلکہ دل کی بے نیازی کا نام ہے۔”

یہی فلسفہ ویدوں میں بھی ہے :

"त्यागेनैके अमृतत्वमानशुः”

"صرف ایثار کے ذریعہ امرت (ہمیشگی) حاصل کی جاتی ہے۔”

جن کے کانوں نے محبت کی صدائیں نہ سنیں

خانقاہوں میں انہیں لا کے قلندر کردے

ترجمہ :

       جن لوگوں کے کانوں نے کبھی محبت کی آواز نہیں سنی، انہیں روحانی خانقاہوں میں لا کر عشق و معرفت میں رنگ دے دے، انہیں قلندر بنا دے۔

تشریح :

       یہاں "خانقاہ” ایک تربیت گاہ ہے، اور "قلندر” وہ شخص جو دنیاوی بندھنوں سے آزاد ہو کر صرف محبتِ الٰہی میں فنا ہو۔

متوازی شعر (بابا بلھے شاہ) :

ساڈے اندر وسدا یار وے

باہر لبھیے کافر کار وے

"وہ محبوب ہمارے اندر بستا ہے، باہر ڈھونڈنے والے محض ظاہری کافر ہیں۔”

       یہاں تزکیہ اور تربیت کا ذکر ہے۔ "محبت کی صدائیں” اصل میں نداءِ الٰہی ہیں، جو صرف پاک دلوں کو سنائی دیتی ہیں۔

صوفیاء کے مطابق : "دل بہ دست آور کہ حج اکبر است” – حضرت سعدیؒ

"دل کو پا لینا حجِ اکبر کے برابر ہے۔”

       قرآن بھی اسی فطرت کی آواز پر ایمان کی دعوت دیتا ہے :

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم: 30)

ترجمہ :”اپنا رخ خالص دین کی طرف رکھ، جو اللہ کی وہی فطرت ہے جس پر اُس نے انسانوں کو پیدا کیا۔”

میں بھی خندق کے بنانے کا کروں عزمِ صمیم

مجھ میں سلمان کی دانش کو اجاگر کردے

ترجمہ :

       میں بھی خندق (یعنی رکاوٹ، دفاع) بنانے کا پختہ عزم رکھتا ہوں، مجھ میں حضرت سلمانؓ جیسی حکمت و بصیرت پیدا فرما۔

تشریح :

       یہ شعر خودی، عقل، اور دفاعی شعور کی علامت ہے۔ خندق غزوۂ خندق کا حوالہ ہے، جہاں سلمان فارسیؓ کی حکمت اسلامی کامیابی کی کنجی بنی۔

اقبالی حوالہ :

سلمان بھی، صہیب بھی، بلال بھی ہمارے ہیں

آیا ہے وقت کہ پھر تجلیٔ ایمان ہو

       یہاں حضرت سلمان فارسیؓ کے علمی و فکری پہلو کو خراج ہے، جن کی تدبیر "خندق” اسلام کی بقاء کا سبب بنی۔

       یہ شعر دانش، حکمت، اور جدوجہد کی علامت ہے۔

رومیؒ کہتے ہیں :

علمِ مردان از عمل پیدا شود

"حقیقی علم عمل سے پیدا ہوتا ہے۔”

جن درختوں سے کسی شخص کو سایہ نہ ملے

ان درختوں کو زمینوں کے برابر کردے

ترجمہ :

       جن درختوں (یعنی افراد، ادارے یا نظام) سے کسی کو فائدہ نہ پہنچے، انہیں زمین بوس کر دینا بہتر ہے۔

تشریح :

       یہ معاشرتی انصاف کا تصور ہے۔ ہر وہ ہستی جو دوسروں کو آسرا نہ دے، وہ بے فائدہ ہے۔

متوازی شعر (فارسی) :

درختِ بے ثمر را گرچہ بالا است

بباید بُریدن، نفعی ندارد

       "بے ثمر درخت خواہ کتنا ہی بلند ہو، اسے کاٹ دینا بہتر ہے، کیونکہ وہ نفع نہیں دیتا۔”

       یہاں فردِ بے فیض، خودغرض اور بےعمل انسان کی مثال ہے، جو معاشرے کے لیے بوجھ ہے۔

       قرآن ان کو "کالحمار” کہتا ہے جو علم رکھتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے : كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا (الجمعہ: 5)

ترجمہ : "ان کی مثال اس گدھے کی ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہے۔”

       ویدانت میں ایسا انسان "اودان” کہلاتا ہے، جو پرکاش نہیں دیتا، محض بوجھ ہے۔

میں بھی محسوس کروں درد کی شدت مجھ میں

میری ہستی کے مہ و سال بہتر کردے

ترجمہ :

       میں خود بھی درد کی شدت کو دل سے محسوس کر سکوں، اور میری زندگی کے سال و مہینے بہتر (بارآور) بن جائیں۔

تشریح :

       یہ دلِ حساس اور بامعنی حیات کی دعا ہے۔ صرف جینا کافی نہیں، بلکہ درد کا ادراک اور دوسروں کے لیے جینا ہی اصل حیات ہے۔

قول (بو علی سینا) : من لم یذق آلام الناس، لیس بطبیب

"جو دوسروں کے درد کو نہ چکھے، وہ طبیب نہیں ہو سکتا۔”

کوئی مرجائے یہ محسوس ہو میت اپنی

ہم کو احساس کی دنیا کا پیمبر کردے

ترجمہ :

اگر کوئی مرے تو ایسا لگے کہ ہم خود مر گئے۔ ہمیں احساس و ہمدردی کی دنیا کا پیغامبر بنا دے۔

تشریح :

یہ ہمدردی کی معراج ہے: "دوسروں کا درد اپنا بنانا۔” یہاں "پیمبر” کا مطلب نبی نہیں، بلکہ احساس کا پیغام دینے والا ہے۔

متوازی شعر (تلسی داس) :

"पर दुखे दुख होई, करि करुना मिताई”।

"دوسروں کے دکھ کو دیکھ کر اگر دل میں درد نہ ہو، تو تم دوست نہیں، پتھر ہو۔”

       یہ انسانی ہمدردی اور روحانی اتحادِ انسانیت کی معراج ہے۔

اقبالؒ نے فرمایا تھا :

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

       یہاں شاعر ہر انسان کو پیغمبرِ احساس بننے کی تلقین دیتا ہے، یعنی معاشرتی دل رکھتے ہوئے جیو۔

       یہ فلسفہ وید میں "वसुधैव कुटुम्ब "ساری دنیا ایک خاندان ہے” کے اصول پر قائم ہے۔

تمثیلی اور فکری اقتباسات :

1. عربی :

مَنْ لَا یَرْحَمْ، لَا یُرْحَمْ

"جو رحم نہیں کرتا، اُس پر رحم نہیں کیا جاتا۔”

2. فارسی :

خنک آن قوم کہ مردم آزاری نیست

"خوش نصیب ہے وہ قوم جس میں انسان آزار نہیں ہے۔”

3. سقراط کا قول :

"An unexamined life is not worth living.”

"غور و فکر کے بغیر زندگی گزارنا زندگی نہیں۔”

4. بودھ قول :

"To understand everything is to forgive everything.”

میرے ہونٹوں پہ دہکتا ہوا بوسہ رکھ کر

میری سانسوں کو چنبیلی سے معطر کردے

ترجمہ :

       میرے ہونٹوں پر ایک جلتا ہوا (جذبوں سے بھرا) بوسہ رکھ دے، تاکہ میری سانسیں (زندگی) چنبیلی جیسی خوشبو سے مہک اٹھیں۔

تشریح :

       یہاں عشق کا پاکیزہ اور باطنی پہلو بیان ہوا ہے۔ شاعر جذبۂ محبت کو نفسِ مطمئنہ میں بدلنے کی تمنا رکھتا ہے۔

تمثیلی شعر (نزار قبانی) :

قُبلتكِ ليست قبلة، إنما هي صلاة

"تمہارا بوسہ کوئی بوسہ نہیں، بلکہ ایک نماز ہے۔”

جو بجھا دیتا ہے جسموں کا دہکتا لاوا

ایسے دریا کا ہمیں بھی تو شناور کردے

ترجمہ :

       ایسا دریا جو انسان کے اندر جلتے ہوئے لاوے کو ٹھنڈا کر دے، ہمیں بھی اس کے اندر تیرنے والا بنا دے۔

تشریح :

       یہاں "دریا” عرفان، صبر، یا تسلیم و رضا کا استعارہ ہے۔ شاعر درد و اضطراب کی آگ کو معرفت کے پانی سے بجھانا چاہتا ہے۔

متوازی شعر (اقبال) :

دلِ بے تاب کو صبر و سکوں پیدا کر اے ساقی

ترا دریا تری موجیں، ترا ساحل نہیں کوئی

قطرہ قطرہ میری آنکھوں سے ٹپکتا ہے لہو

ہجر کی شب میں اسے آکے سمندر کردے

ترجمہ :

       میری آنکھوں سے ہجر کی رات میں قطرہ قطرہ جو لہو بہتا ہے، تو آ کر اسے سمندر بنا دے۔

تشریح:

       یہ ہجر کی شدت، سوزِ عشق، اور رب کی طرف سے قبولیت کی تمنا ہے۔ یہ اس قطرہ اشک کو قربِ خداوندی میں سمندر بنانے کی التجا ہے۔

تمثیلی شعر (رومی) :

قطره‌ای کز بحر شد، بحرِ اوست

چوں جدا شد باز، قطره قطره بود

       "جو قطرہ سمندر میں مل جائے، وہ خود سمندر بن جاتا ہے۔ الگ ہو جائے تو پھر محض قطرہ ہی ہوتا ہے۔”

اُن کو سورج کی شعاعوں سے بچاکر مسعودؔ

کچّی کلیاں ہیں سلیقے سے گلِ تر کردے

ترجمہ :

       اے مسعودؔ ! ان نازک کلیوں کو سورج کی تیز شعاعوں سے بچا کر آہستگی سے کھلتے ہوئے پھول بنا دے۔

تشریح :

       یہ تعلیم و تربیت، تحفظِ نسلِ نو، اور نرمی سے روحانی نشو و نما کی تلقین ہے۔

متوازی شعر (سعدی) :

بنی آدم اعضای یک پیکرند

که در آفرينش ز یک گوهرند

"بنی آدم ایک جسم کے اعضا کی طرح ہیں۔”

       استاذ محترم جناب مسعودؔ حسن جعفری صاحب کی یہ غزل محض اشعار کا مجموعہ نہیں، بلکہ دلِ انسانی کی روحانی تطہیر کا نسخہ ہے۔ یہ غزل صوفیانہ تجربات، قرآنی معانی، ویدانت کی روشنی، اور فکری جہد کی ایک حسین مثال ہے۔

      اس غزل کو پڑھنا گویا اپنے باطن میں جھانکنے کی دعوت ہے، جہاں قاری ہر شعر میں خود کو پاتا ہے اور پھر خدا کو۔

مولانا رومؒ فرماتےہیں : "چشمِ دل باز، کہ آن حسنِ خدا بینی ہست”۔

"دل کی آنکھ کھول، کہ وہاں خدا کا حسن نظر آتا ہے۔

       یہ غزل نہ صرف تخیلاتی فن کا شاہکار ہے، بلکہ اخلاق، روحانیت، ہمدردی، اور عرفان کی عملی دعوت ہے۔

       اللهم اجعلنا من العارفين و المحسنين والمشتاقين إلیك "اے اللہ ہمیں اپنے عارفین، محسنین اور تجھ سے اشتیاق رکھنے والوں میں شامل فرما۔”

**********

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے