پڈرونہ، کشی نگر: جامعہ رحمانیہ اسلامیہ رحمان نگر سیمرا ہردو، کشی نگر میں ملک کے جید عالم دین ، صاحب قلم مولانا عزیز الحسن صدیقی غازیپوریؒ کے سانحہ ء  ارتحال پر تعزیتی نشست ہوئی جس میں سارے اساتذہ ، طلبہ و طالبات نے شریک ہوکر قرآن خوانی کرکے ایصال ثواب کیا ، جس کا آغاز شعبئہ حفظ کے طالب علم حافظ مستقیم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، نظامت کے فرائض حافظ مظفرالحسن نے انجام دیے،  جامعہ کے سربراہ مولانا احمد کمال عبدالرحمان ندوی نے اپنے صدارتی پیغام میں رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا ملک کے ایک جید عالم دین کے ساتھ ساتھ صاحب قلم بھی تھے، جہاں مدرسہ دینیہ کی سرپرستی فرما رہے تھے وہیں ماہانہ اردو میگزین بھی نکالا کرتے تھے،  جس کے رشحات قابل دید اور درس عبرت ہوا کرتے تھے، اپنے زمانے کے علماء سے کافی متاثر تھے خاص طور پر مفکر اسلام مولانا علی میاں ندویؒ کی پیام انسانیت سے اسی لئے انہوں نے اپنے علاقہ میں اس کو زندہ رکھا اور ملک کے اندر قومی یکجہتی کا پیغام دیتے رہے،  علماء نے ان کی سرگرمیوں کو کافی سراہاہے اور وہ غازیپور میں مرجع خلائق تھے، سانحہء  ارتحال کی خبر مجھے انکے ایک قریبی عزیز حضرت مولانا مجیب اللہ ندویؒ کے صاحبزادے اور میرے دیرینہ دوست ڈاکٹر عبداللہ عمار رشادی کی زبانی ہوئی  ـ’’ اناللہ و انا الیہ راجعون‘‘  اللہ تعالیٰ موصوف کی بال بال مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے  اور ان کے ساری ملی و دینی کاموں کو ذخیرئہ آخرت بنائے، اور سارے پسماندگان خاص طور پر ڈاکٹر عبداللہ عمار رشادی اور ان کے خاندان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔
شعبئہ حفظ کے صدر مدرس قاری جبریل کی عائیہ کلمات سے اس نشست کا اختتام ہوا جس میں خاص طور پر ماسٹر صدر عالم، ماسٹر احمد، حافظ عبدالقادر، مولوی اسامہ رحمانی حافظ اخلاق اور حافظ مرسلین وغیرہ شریک رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے