نفرت، تعصب، تفریق کا رویہ ملک کے لیے نقصان دہ
عبدالغفارصدیقی
اسے مارو یہ مسلمان ہے ،اسے گرادو یہ مسجد ہے ،یہ ملا ہے اسے ہماری کالونی میں رہنے کا حق نہیں ،یہ بنگالی بولنے والا مسلمان ہے اس لیے یہ بنگلہ دیشی ہے ،یہ مسلمان ہے اور مجھے مسلمانوں سے نفرت ہے میں اس لیے اسے ماررہا ہوں ،وہ ملزم مسلمان ہے اس لیے اس کا گھر بلڈوز کیا جائے گا ۔ہر طرف نفرت ہی نفرت ،ٹوپی سے نفرت ،داڑھی سے نفرت ،حجاب سے نفرت ،کامیاب ہوجانے سے نفرت ،بسوں ،کاروں ،چوراہوں ،سڑکوں ،شہروں ،دیہاتوں یہاں کہ اسکولوں میں بھی نفرت کا اظہار ۔آخر کہاں جائے گا ہمارا ملک ؟کیا وہ دن پھر واپس آرہے ہیں جب گوروں کے لیے الگ کوچ تھے اور ہندوستانیوں کے لیے الگ ،کیا اب یہ تفریق ہندو اور مسلمان کے درمیان کی جائے گی ۔19سال سے قید و بند کی زندگی کاٹ رہے مسلمان باعزت بری ہوجائیں تو حکومت سے لے کر اپوزیشن جماعتوں میں صف ماتم بچھ جائے ، سادھوی پرگیہ اور اس کے ساتھیوں کو بغیر جیل جائے پروانہ رہائی مل جائے تو بانچھیں کھل جائیں ،ڈمپل جی کو کوئی مسلمان کچھ کہہ دے تو تھپڑ کھائے ،اس پر ایف آئی ہو ،اور اقراء حسن کی توہین کی جائے تو نہ پارٹی اور نہ نام نہاد سیکولر سٹ لب کھولیں ،آخر کیسا ہندوستان بنا رہے ہیں ہم ؟کیا مسلمانوں کا خون حلال کرلیا گیا ہے ؟کیا بیس کروڑ مسلمانوں کی توہین کرکے ،انھیں بے روزگار اور بے گھر کرکے ،ملک ترقی کی منزلیں حاصل کرے گا ؟کیا مذہب کے علاوہ ملک کے شہریوں کے سامنے کوئی مسئلہ نہیں ہے ؟جو حکومت سے لے اپوزیشن تک اسی کارڈ کا استعمال کررہے ہیں ؟کاش ہمارے حکمراں کبھی تنہائی میں سوچیں ،نفرت کی جو مہم وہ چلارہے ہیں ،اس کا انجام کتنا بھیانک اور خوفناک ہے ؟اسرائیل اور فلسطین جنگ سے کوئی سبق لینا چاہئے ۔
اسی نفرت کے نتیجے میں ایک عرصہ سے ایک ہی مذہب کے لوگ ماب لنچنگ کا نشانہ بن رہے ہیں ۔کہیں گائے کو لے کر ماردیا جاتاہے ؟کسی کے ہاتھ میں گوشت نظر آجائے تو اس پر بلا تحقیق مقدمات قائم کردیے جاتے ہیں۔کہیں زبردستی جے شری رام کے نعرے لگوائے جاتے ہیں ۔کہیں راستے میں نماز پڑھنے والوں پر مقدمات قائم ہوجاتے ہیں ۔کہیں باحجاب لڑکیوں کو کالج سے نکال دیا جاتا ہے ۔کہیں لوجہاد کے نام پر جیلوں میں ٹھونس دیا دیا جاتا ہے ،لیکن معاملہ برعکس ہو یعنی کوئی مسلمان لڑکی غیر مسلم لڑکے ساتھ بھاگ کر شادی کرلیتی ہے تو اس کی حمایت میں سرکار کی پشت پناہی کے ساتھ بھگواتنظیمیں کھڑی ہوجاتی ہیں ،اسے لو جہاد کے بجائے گھر واپسی کہا جاتا ہے،علی الاعلان مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کی لڑکیوں سے شادی کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور حکومت ان کی پشت پناہی کرتی نظر آتی ہے۔تمام سرکاری اسکیمیں جو اقلیتوں سے تعلق رکھتی ہیں ان کو یا تو بند کردیا جاتاہے یا پھر ان کے فنڈ میں کمی کردی جاتی ہے ،اس پر بھی بجٹ کی مختص رقم جاری نہیں کی جاتی ۔ مسلمانوں کا سروے ہوتا ہے ،ان کی پسماندگی کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے ۔لیکن ان کی ترقی کا کوئی منصوبہ بنانے کے بجائے ان کو مزید تاریکی اور پسماندگی کے غار میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔
مسلمانوں سے عداوت اور دشمنی میں آئین و قانون کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا۔اسی پاٹھ شالہ کا پڑھاہوا ایک جج دلائل کے بجائے آستھا کی بنیاد پر فیصلہ دیتا ہے اور ایک جج ریٹائر منٹ کی شام کو جامع مسجد بنارس میں پوجا کی اجازت عطا کرتا ہے ،جس پر عمل کرنے میں ہماری پولس چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن نکلنے کا بھی انتظار نہیں کرتی ۔ہلدوانی میں مسجد اور مدرسہ کے تعلق سے عدالت میں ایک مقدمہ زیر سماعت ہوتا ہے ،اس کے باوجود نفرت کے سوداگر منصوبہ بند طریقہ سے اس کو منہدم کرنے پہنچ جاتے ہیں اور ساتھ میں کرائے کے غنڈے لے جاتے ہیں۔مسلمانوں کو مارا جاتا ہے ،ان کو لوٹا جاتا ہے ،ان کو قید خانوں میں ٹھونسا جاتا ہے اور ایک ہفتہ کے اندر اندر جائدادیں بھی قرق کرلی جاتی ہیں ۔بغیر کسی نوٹس کے مہرولی کی چھ سو سالہ قدیم مسجد اور قبرستان کو مسمار کردیا جاتا ہے ۔کیا یہی آئین کی حکمرانی ہے ۔
سی اے اے اوریکساں سول کوڈ کے نام پر بھی صرف مسلمانوں کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے ،اتراکھنڈ میں جو مسودہ اسمبلی نے پاس کیا ہے ۔اس میں قبائلیوں کو چھوٹ دی گئی ہے ،لیکن مسلمانوں کی شریعت میں دخل اندازی کی گئی ہے ۔مسلمانوں کے ساتھ ظلم کرنے والے کہتے ہیں کہ ہم نے مسلمان خواتین کو بااختیار بنایا ہے ۔انھیں آزادی دی ہے ۔مسلم نوجوانوں کی بے روزگاری کی وجہ سے ان کی مائوں اور خواتین کو جو پریشانی ہورہی ہے وہ ا نھیں نظر نہیں آتی ۔
اس وقت بھارت کا مسلمان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہا ہے ۔بھارت کی تعمیر میں مسلمانوں کی قربانیاں دوسری اقوام سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان مسلم حکمرانوں کو جنھوں نے اپنی زندگیاں ملک کی توسیع و ترقی میں لگادیں اور یہیں دفن ہوگئے ، ان کو مطعون کیاجارہا ہے ۔ان کی نشانیوں کو ختم کیا جارہا ہے ۔ان کی تاریخ کو نصاب سے ہٹایا جارہا ہے ۔جب کہ آج بھی ان کی تعمیرات سے کروڑوں روپے کمائے جارہے ہیں ۔کیا یہی انصاف ہے ؟اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر اس قدر پھیلایا جارہا ہے کہ مسلمان صرف چارہ بن کر رہ گیا ہے ۔کیا کسی ملک کی ترقی اس صورت حال میں ممکن ہے ؟ آپ عرب ممالک میں عربی بول کر تالیاں بجواتے ہیں اوراپنے ملک میں عربی اداروں کو ختم کرنے کے درپے ہیں ،یہاں آپ کو اردو سے بھی نفرت ہے۔
حکومت کا کام سماج میں عدل و انصاف کا قیام ہے ۔ماضی کے حکمرانوں کا حساب موجودہ عوام سے لینا ظلم کی فہرست میں شمار ہوتا ہے ۔اس ملک کے مسلمانوں کا کوئی نسلی اور نسبی تعلق ماضی کے مسلم حکمرانوں سے نہیں ہے ۔ان کے کسی عمل کے لیے نہ وہ ذمہ دار ہیں نہ جواب دہ ۔پھر وقفہ وقفہ سے ان کے نام پر انھیں کیوں ستایا جارہا ہے ؟اگر کوئی شخص بھارت کے کسی سابق حکمران کی قبر پر فاتحہ پڑھنے بھی چلاجائے تو میڈیا اس پر سوالوںکی بوچھار کردیتی ہے ،کیا دستور میں موجود مذہبی آزادی اسی کا نام ہے ؟
موجودہ حکومتیں عوام کی منتخب حکومتیں ہیں ،ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں ،ملک کی سالمیت ،ایکتا اور اکھنڈتا کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ بھی اس کے فرائض میں شامل ہے ۔اچھی غذا ،تعلیم ،روزگار کے مواقع اور احترام ہر شہری کا بنیادی حق ہے جو اسے ہر حال میں ملنا چاہئے ۔مذہبی آزادی دستور کا حصہ ہے ،لیکن یہ آزادی کسی کونہیں ہے کہ وہ زبردستی اپنے مذہبی نظریات کو کسی پر تھوپنے کی کوشش کرے ۔مسلمان بحیثیت مجموعی امن پسند ہیں ۔ان کا دین کسی کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا ،وہ دوسروں کے جذبات اور مذہبی شعائر کا احترام کرتے ہیں ،اس کے باوجودان کے ساتھ مستقل عداوت کا رشتہ رکھنا ،ان کے شعائر کا مذاق اڑانا،ان کے ذرائع معاش کو مٹانے کی سازشیں کرنا،ان کے ساتھ تعصب اور ناانصافی کرناچاہے وہ حکومت کی سطح پر ہویا اکثریت کی طرف سے ،ظلم ہے ۔ اکثریت کے ذریعہ مسلمانوں کوجس طرح زدو کوب کیا جارہا ہے اور مسلم خواتین کو آزادی دینے کے نام پر جس طرح کی قانون سازی کی جارہے نیز مسلمانوں کے ساتھ جس قسم کا نفرت آمیز رویہ اختیار کیا جارہا ہے اس کے نقصانات بھی کسی بڑے فساد سے کم نہیںہیں ۔آج کی نئی نسل تک سوشل میڈیا کے ذریعہ سب کچھ پہنچ رہا ہے ،جس سے اس کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہورہا ہے ۔نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ،ان کے اندر احساس محرومی یا غیریت کا احساس خود ملک کا بڑا نقصان ہے ۔
اس وقت مسلمانوں میں وہ نسل موجود ہے جس نے یہاں آزادی کے بعد محبت کے بہت سے مناظر دیکھے ہیں ،حالانکہ وہ آنکھیں بوڑھی ہوچکی ہیں ۔اس وقت جو نسل جوانی کی دہلیز پر کھڑی ہے اسے آئینی اداروں کی ناانصافی ،سرکاری دفاتر میں نظر انداز کیے جانے کا شکوہ ہے ۔وہ کھلے عام اپنے ہندو بھائیوں کو تلواریں اور کٹاریں لہراتے ہوئے دیکھ رہی ہے ،وہ مساجد کی بے حرمتی ،شریعت میں دخل اندازی کو محسوس کررہی ہے اور اتفاق سے وہ علم سے بھی دور ہوتی جارہی ہے ،اس نسل کی گودوں میں جو نسل پرورش پائے گی ،میں سوچتا ہوں اس کی نفسیات کیسی ہوں گی؟کیا وہ محبت کے لفظ سے بھی آشنا ہوگی ،کیا اس کا رد عمل ملک کے لیے سود مند ہوگا؟میری گزارش ہے ارباب حکومت سے کہ وہ نفرت کی پالیسی چھوڑ کر بقائے باہم کی پالیسی کو اپنائیں ۔آپ مسلمانوں پر ظلم کرکے انھیں ملک میں کمزور کرسکتے ہیں ،مٹا نہیں سکتے ۔ تغیرات زندگی کا حصہ ہیں ،کل ہم جہاں تھے آج آپ وہاں ہیں ،ہوسکتا ہے کل پھر ہماری باری آجائے ۔
آئیے ہم عہد کریں کہ وطن عزیز کو ان لوگوں سے بچائیں گے جو نفرت کی سیاست یا سوداگری کرتے ہیں ۔نفرت کا جواب محبت سے دیں گے ۔اس لیے کہ قرآن مجید میں مسلمانوں کو یہ فارمولہ بتایا گیا ہے :۔’’اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے،یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔‘‘(سورہ فصلت آیت 34-35)
