ڈاکٹر سراج الدین ندوی

ایڈیٹر ماہنامہ اچھا ساتھی، بجنور

انسان کی اچھی صحت کا دارو مدار صرف اچھے کھانے پر ہی موقوف نہیں ہے ،اس کی پرورش و پرداخت ،اس کی زندگی کی بقا اور اچھی صحت کا دارمدار بہت سی ایسی چیزوں پر منحصر ہے جس کا اسے کوئی احساس تک نہیں ہوتا ۔پیدا ہونے کے بعد والدین کی محبتیں اس کو زندہ رکھنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں ،اہل خاندان اور اعزہ کا پیار اس کو اپنے پیروں پر کھڑا کرتا ہے ،اساتذہ ،بہی خواہوں اور خیر خواہوں کی توجہات اس کو زندگی کے نشیب و فراز سے نہ صرف آشنا کرتی ہیں ،بلکہ اس کو سخت حالات میں بھی جینے کا ہنر سکھاتی ہیں ،یہاں تک کچھ منفی قوتیں بھی اس کے حق میں مفید بن جاتی ہیں ،مثال کے طور پر بڑوں کی تنبیہات اورجھڑکیاں جو ایک بار آنکھوں میں اشکوں کا سیلاب تک لے آتی ہیں اور اس کے دوستوں کی بے وفائیاں جوایک لمحہ کے لیے اسے توڑ کر رکھ دیتی ہیںوہ بھی اس کو زندہ رکھنے اور ترقی کرنے میں معاون و مدگار ہوتی ہیں ۔اس لیے کہ انسان کو جینے کے لیے صرف ٹھنڈی ہوا ہی درکار نہیں ہوتی بلکہ اسے سخت دھوپ کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ ان تمام اشیاء کی اگر فہرست بنائی جائے جن پر انسانی زندگی موقوف ہے تو سر فہرست ہم جس چیز کو رکھیں گے وہ ’’ ہوا ‘‘ ہے ۔جسے سائنس کی زبان میں ’’آکسیجن کہتے ہیں ۔‘‘ہم کھانے کے بغیر ہفتوں زندہ رہ سکتے ہیں ،ہم پانی کے بغیر کچھ روز گزار سکتے ہیں ،ہم والدین کے بنا بھی جی سکتے ہیں ،دوستوں اور اعزہ اگر ساتھ نہ دیں تو ہم مر نہیں جائیں گے ،لیکن ہوا اگر چند ثانیوں کے لیے بھی بند ہوجائے ،تو دم گھٹ جائے اورآکسیجن نہ ملنے پر انسان کی موت لمحوں میں واقع ہوجائے گی ۔
ہوا کی اسی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اسے وافر مقدار میں بنایا ہے اور آزاد رکھا ہے ،کوئی طاقت ہوا کو قید نہیں کرسکتی ۔لیکن ہماری زندگی کا انحصار صرف ہوا پر نہیں بلکہ ’’صاف ستھری ہوا‘‘ پر ہے ۔یہ سچ ہے کہ کوئی قوت ہوا کو قید نہیں کرسکتی ،مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہوا کو گندہ کیاجاسکتا ہے ۔اسی کو فضائی آلودگی کہاجاتا ہے ۔صرف ہوا کو ہی گندہ نہیں کیا جارہا ہے بلکہ حیات انسانی کی بقا کے لیے دوسری اہم چیز پانی کو بھی گندہ کیا جارہا ہے۔جب ہم ہوا اور پانی کے گندہ اور مضر صحت ہونے کی بات کرتے ہیں تو اسے اردو میں ’’آلودگی‘‘،ہندی میں’’ پردوشن‘‘ اور انگریزی میں ’’ پولیوشن‘‘ کہاجاتا ہے ۔اب صوتی آلودگی( Noise pollution)کی بھی ابتدا ہوگئی ہے ۔جس کے تحت لائوڈ سپیکر سے اذان دینے پر پابندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔
آلودگی کا مسئلہ پوری دنیا کو درپیش ہے ۔عالمی ایجنسیاں اس پر قابو پانے کی کوششیں کررہی ہیں ۔مگر اس میں انھیں کوئی کامیابی نہیں مل رہی ہے ۔ان کی ناکامی کی بڑی وجہ مادیت پرستی ہے ،جس نے انسان کو خود غرض بنا کر رکھ دیا ہے ۔انسان صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچتا ہے ،وہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرکے بے پناہ دولت کمانا چاہتا ہے ،اسے خبر نہیں کہ اس کی خود غرضی کتنے انسانوں کو نقصان کرتی ہے ،وہ سمجھتا ہے کہ فضا کو آلودہ کرکے وہ صرف دوسروں کا نقصان کرتا ہے ،حالانکہ وہ بھی اسی ہوا میں سانس لیتا ہے ،اس کے اہل خانہ بھی اسی آب و ہوا میں جیتے ہیں جسے وہ آلودہ کرہا ہے ۔لیکن وہ دولت کے نشہ میں مست ہے ،اسے اپنے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے ،کثرت پسندی کی اس ہوڑ نے اسے موت کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے ۔اسی کو قرآن میں الھاکم التکاثر کہہ کر متنبہ کیا گیاہے ۔
آلودگی میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ہمارے ملک میں اس کی کیا صورت حال ہے ؟اس پر کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے ؟ان سوالوں کے کے جوابات جاننے کے ساتھ ساتھ ہم میں سے ہر فرد کو یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آلودگی کے اس اضافہ میں خود اس کا کیا رول ہے ؟اور اس کے تدارک کے لیے وہ کیا کرسکتا ہے ؟
آلودگی کا سب سے بڑا سبب ’’دھواں ‘‘ہے ۔خواہ وہ کہیں سے بھی نکلے اور کتنا ہی نکلے ۔کم دھواں کم آلودگی پیدا کرتا ہے اور زیادہ دھواں زیادہ آلودگی پیدا کرتا ہے ۔سب سے کم دھواں بیڑی سگریٹ سے نکلتا ہے لیکن یہ بھی آلودگی میں اضافہ کا سبب ہے ،ہمارے گھروں میں جو چولہا جلتا ہے اس سے بھی نکلنے والے دھوئیںسے آلودگی پیدا ہوتی ہے ،کاروں اوربسوں سے نکلنے والا دھواں بھی خطرناک رخ اختیار کرلیتا ہے، اسی طرح کارخانوں ،فیکٹریوں کا دھواں سب سے زیادہ آلودگی پیدا کرتا ہے ۔جنگل میں کسان اپنی پرالی میں جو آگ لگادیتے ہیں ،لوگ جو سڑک پر کچرا جمع کرکے جلادیتے ہیں ،ان سے نکلنے والا دھواں ہوا کوانتہائی درجہ خراب کردیتا ہے ،اے سی اورفریج سے جو گیس نکلتی ہے وہ بھی آلودگی میں اضافہ کا سبب ہے۔ جو لوگ کارخانوں ،ملوں اور فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں ،ان کو صحت کے سب سے زیادہ مسائل درپیش ہوتے ہیں اور جولوگ آس پاس رہتے ہیں ،ان کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے ۔ہمارے ملک میں فضائی آلودگی کا ایک سبب درختوں کا کاٹا جانا بھی ہے ،رہائش کے لیے ہم جنگلات کو ختم کرتے جارہے ہیں ،شہروں میں اتنی جگہ میسر نہیں کہ وہاں پیڑ لگائے جاسکیں ۔
یہ تو فضائی آلودگی کے اسباب ہیں ،اگر ہم پانی یعنی آبی آلودگی کے اسباب پر نظر ڈالیں تو ان میں کارخانوں ،ملوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے فضلات اور کمیکلس ،پانی میں ڈالا جانے والا کچرا سب سے زیادہ اہم سبب ہے ۔بعض علاقوں میں زیر زمین پانی اس قدر گندہ ہوچکا ہے کہ اسے پینا صحت کے لیے مضر ہے ،ایک زمانہ تھا جب لوگ گھروں میں نل لگاتے تھے اور اس کا پانی پیتے تھے ،مگر آج دیہاتوں تک میں نل کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا ۔بڑے شہروں میںتو فلٹرڈ پانی ہی پیا جاسکتا ہے ۔صوتی آلودگی میں جہاں کاروں ،گاڑیوں اور سڑکوں پر دوڑتی موٹروں کے تیز آواز والے ہارن کا شور ہے وہیں ،محلہ اور بستیوں میں تیز آواز میں بجائے جانے والے ڈی جے کا شور بھی ہے ،بھارت کثیر ثقافتی ملک ہے ،اس لیے یہاں ہر وقت تیوہاروں کا موسم رہتا ہے ،اس موقع پر نکالے جانے والے مذہبی جلوس میں جو سائونڈ بجایا جاتا ہے وہ صوتی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔ہماری فضا کی طرح زمین بھی آلودہ ہورہی ہے ۔جگہ جگہ کچروں کے ڈھیر ،زمینوں میں چھڑکا جانے والا کیمکل ،یوریا کھاد وغیرہ وہ عوامل ہیں جس نے زمین کی قوت تخلیق کو متاثر کیا ہے ۔
بھارت سب سے زیادہ آلودہ پانچ ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے ۔پہلے نمبر پر چاڈ ،دوسرے پر بنگلہ دیش ،تیسرے پر پاکستان اور چوتھے پر کانگو ہے۔IQAir کی ایک حالیہ رپورٹ عالمی سطح پر فضائی آلودگی کے مسلسل چیلنج پر روشنی ڈالتی ہے، جس میں جنوبی ایشیا مسلسل بحران کا شکار ہے۔
پارٹیکیولیٹ مادہ (PM2.5): 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سالانہ اوسط PM2.5 کی سطح تقریباً 50.6 µg/m³ تھی—جو کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی سفارش کردہ سطح (5 µg/m³) کے 10 گنا سے زائد ہے۔ اس کی وجہ سے صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔مشترکہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ پارٹیکیولیٹ آلودگی کی وجہ سے بھارتی شہری کی اوسط عمر 5.3 سال کم ہوتی ہے، جبکہ دہلی میں یہ متاثرہ عرصہ تقریباً 11.9 سال ہے۔ 2024 میں دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ 10 شہروں میں سے 8 شہری بھارت میں واقع تھے, جن میں دہلی سب سے آلودہ دارالحکومت کے طور پر شامل تھی۔تاہم بھارت نے اپنی درجہ بندی میں معمولی بہتری دکھائی ہے،گزشتہ سال بھارت تیسرے مقام پر تھا،اس سال اس کی پوزیشن پانچویں ہے۔
ہمارا ملک مختلف اقدامات کے ذریعے آلودگی کو کم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان میں صاف ستھرے توانائی کے ذرائع جیسے برقی گاڑیوں کو فروغ دینا، گاڑیوں اور صنعتوں کے لیے سخت معیارات کو نافذ کرنا، اورپرالی وغیرہ جلانے کے طریقوں سے نمٹنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ،National Clean Air Programme اور سوچھ بھارت ابھیان جیسے اقدامات کا مقصد ملک بھر میں ہوا اور پانی کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔National Clean Air Programmeجنوری 2019 میں شروع کیا گیا، یہ خاص طور پر باریک ذرات (PM2.5) اور پارٹیکیولیٹ میٹر (PM10) میں کمی کو ہدف بناتا ہے۔ ابتدائی ہدف 2024 تک ان آلودگیوں کو 20-30 فیصد تک کم کرنا تھا، لیکن اس کے بعد اس پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ موجودہ ہدف 26-2025 تک PM10 کی تعداد میں 40 فیصد تک کمی کو حاصل کرنا ہے۔
آلودگی کم کرنے کی ذمہ داری جہاں حکومت اور اس کے اداروں کی ہے وہیں ہم میں سے ہرفرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ آلودگی کم کرنے میں اپنا کردار نبھائے ۔سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا چاہیے کہ ہم کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے آلودگی میں اضافہ ہو ،اپنے آس پاس صفائی کا اہتمام کریں ،لوگوں کو اس تعلق سے بیدار کریں ۔فضائی آلودگی کم کرنے میں سب سے اہم رول درخت ادا کرتے ہیں ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں تازہ ہوا ملے اور ہم صحت مند رہیں تو ہمیں ہر ممکن مقام پر پیڑ لگانے چاہئیں ،گھر کے اندر گملوں میں پودے لگائے جاسکتے ہیں ،اس سے گھر بھی خوبصورت بنے گا اور آلودگی بھی کم ہوگی ۔
دین اسلام کے نزدیک پیڑ لگانے کی اہمیت اور ضرورت اس قدر ہے کہ نبی ؐ نے فرمایا:۔’’ اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں درخت ہو اور وہ اس بات پر قادر ہو کہ قیامت قائم ہونے سے پہلے وہ اسے لگا لے گا تو ضرور لگائے۔‘‘ (مسند احمد)
محسن انسانیت ؐ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لئے ایمان والوں پر شجر کاری کو صدقہ قرار دیا ہے۔آپﷺ نے فرمایا :۔’’جو مسلمان دَرخت لگائے یا فَصل بوئے،پھر اس میں سے جو پرندہ یا اِنسان یا چوپایا کھائے تو وہ اس کی طرف سے صَدقہ شُمار ہو گا۔ (صحیح بخاری)
اللہ کے رسول ؐ نے درخت لگانے کو صرف دنیا میں ہی صدقہ قرار نہیں دیا بلکہ آخرت کے لیے بھی صدقہ جاریہ قرار دیا :۔حضرتِ اَنَس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں وہ سات چیزیں جن کا ثواب انسان کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ان میں سے ایک درخت لگانا بھی ہے۔ (مجمع الزوائد)
ایک طرف نبی اکرم ؐ نے درخت لگانے کی تاکید کی ،اسے صدقہ جاریہ قرار دیا تودوسری طرف بلا ضرورت درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا ۔یہاں تک کہ حالت جنگ میں بھی اس عمل سے روکا گیا۔سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں حضور اکرم ﷺجب اسلامی لشکر کو مشرکین کی طرف روانہ فرماتے تو یوں ہدایات دیتے: کسی بچے کو قتل نہ کرنا، کسی عورت کو قتل نہ کرنا، کسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا، چشموں کو خشک و ویران نہ کرنا، درختوں کو نہ کاٹنا۔(بیہقی)

موت سے پہلے اک قرض چکاتے جائیں
اپنے حصہ کا کوئی پودا لگاتے جائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے