(۳؍اگست  کو بہمنی سلطنت کے یوم تاسیس پر خصوصی تحریر)

از :  محمد مسعود علی

سابق، اکاوئنٹس سپرنٹنڈنٹ، ضلع پنچایت ،گلبرگہ
دکھنی امراء نے سلطان محمد بن تغلق کے خلاف مہم میں قیادت کے لیے ناصر الدین اسماعیل شاہ کو بادشاہ منتخب کر کے اور علا ء الدین حسن بہمن شاہ کو فوج کی کمان دے کر بڑی دور اندیشی کی ۔ اسماعیل شاہ دکھن کا ایک سربر آور دہ امیر تھا جس کے انتظام میں دوہزار گاؤں رتھے اور چو نکہ اس کا بڑا بھائی ملک یل اوافغان سلطان محمد بن تغلق کے ممتاز ترین امراء میں تھا اور اس وقت مالوا میں افواج سلطان کا سپہ سالار تھا اس لیے بو قت ضرورت اس طرف سے مدد ملنے کاپورا یقین تھا۔
علاء الدین حسن (بہمن شاہ ) ظفر خان نے جنگی مہمات میں دہلی فو ج کے خلاف پے در پے کا میابیاں حاصل کیں ۔اب سارا علا قہ دکن کی فوج کے قبضہ میں تھا۔ اسمعیل شاہ کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ علاء الدین حسن نے اپنی ما ہرانہ جنگی چالوں سے بڑی مقبو لیت حاصل کرلی ہے اور علاء الدین حسن کی واپسی کے دو ہفتہ بعد اس نے امراء کو جمع کیا اور اُن سے کہا کہ در اصل اس نے حکومت علا ء الدین حسن کی امانت کے طو ر پر اس وقت تک اپنے ہاتھ میں رکھی اور تخت سے اپنی دست بردار ی کا اعلان کر دیا اور خود اپنی زندگی بھر کے لیے صرف شمس الدین کا لقب اختیار کیا ۔ اب چو نکہ دکھن کا تخت سلطنت خالی تھا اس لیے فوج اور عوام الناس نے بالا تفاق علاء الدین حسن کو سکندر ثانی علاء الدین حسن بہمن شاہ الو لی کے لقب سے بادشاہ منتخب کر لیا۔ نئے بادشاہ نے اس موقع پر مبارک ساعت صدر الشریف سمر قندی اور میر محمد بد خشانی سے نہیں بلکہ ہندو منجمین کے حساب سے قبول کی اور جمعہ ۲۴؍ ربیع الثانی ۴۷ ۷ھ م ۳؍ اگست ۱۳۲۷ء کو دولت آباد کی مسجد قطب الدین مبارک خلجی میں اپنے پیر شیخ سراج الدین جنیدی کے ہاتھوں تاج شاہی زیب سر کیا۔
تاریخ فر شتہ میں بانی بہمنی سلطنت کے بارے میں لکھاہے کہ حسن دہلی کے ایک برہمن مسمی گنگو کا ملازم تھا اور اسے ایک بر تن سونے کے سکوں سے بھرا ہوا ملا جسے وہ اپنے آقا کے پا س لے گیا۔ جہاں ولی عہد سلطنت بھی حسن کی ایمانداری اور دیانت سے بہت خوش ہوا۔ گنگو بہمنی کا لقب حسن نے گنگو برہمن سے جو وعدہ کیا تھا ایفا کے لیے اختیار کیا ۔ یہ قصہ ابھی حا ل تک بلا کسی شبہ کے بالکل صحیح سمجھا جاتا رہا ۔ تاریخ بر ہان کے مطابق حسن کا سلسلہ نسب ایران کے عظیم ترین شاہی خاندانوں بہمن واسفندیار سے اوپر بہرام گور تک ملتا ہے ۔ دراصل نئے بادشاہ نے جو لقب اختیار کیا وہ ’’بہمنی ‘‘ نہ تھا بلکہ ’’بہمن ‘‘ تھا اور علا ء الدین محض علی شاہ کے لقب کی نقل اور خاندان کے سر پرست علاء الدین کے نام کو زند ہ کرنا تھا اور ظفر خان کا لقب جو حسن نے اختیارکیا اور اپنے جانشین کو منتقل کیا وہ نربر الدین کے لقب کا احیا تھا۔
گلبرگہ جو کئی مر تبہ ہاتھ آیا اور نکلا تھا اب وہاں پھر پو چاریڈی کی قیادت میں جو تغلق کا وفادار تھا ، بغاوت بھڑ ک اُٹھی ۔ بادشاہ نے اعظم ہمایوں خواجہ جہاں جیسی بڑی شخصیت کو فوراً مبارک آباد میراج سے گلبرگہ کی طرف روانہ کیا جس کے ساتھ قطب الملک بھی مل گیا۔ جس نے بہت بڑی کامیابی سے اکل کوٹ اور مہندری کو زیر کیا تھا۔شاہی فوج کو گلبرگہ کا پھر محاصرہ کرنا پڑا اور بڑی دشواری سے قطب الملک کی قیادت میں منجیق سے حملہ کرنے اور قلعہ میںپانی بندکر دینے کے بعد فتح کیا جاسکا۔ وزیر نے اب محل عدالت میں قیام کیااور سب کے ساتھ انصاف کا سلوک کیا ۔ جن لوگوں نے بغاوت میں حصہ لیا تھا ان پر سختی کی اور جنھوں نے معقو لیت کا اظہار کیا تھا انھیں انعام تقسیم کیا اور تھوڑے ہی دنوں میں گلبرگہ کا سارا علا قہ زیر کر لیا گیا۔
بادشاہ کے دار السلطنت سے باہر جانے میںتامل تھا ۔ دراصل وہ سارے ملک میں بغا وتوں سے خوفزدہ ہو گیا تھااور یہ ڈر تھا کہ اس کی عدم موجود گی میں کہیں خود دار السلطنت کے اندر بغاوت نہ ہو جائے ۔اس لیے وہ دو ماہ تک رُکا رہا اور جب وہ گلبر گہ پہنچا تو اس نے خبر سنی کہ محمد بن تغلق کا دریا ئے سند ھ کے کنارے انتقال ہوگیا۔ گلبرگہ میں خواجہ جہاں بادشاہ سے ملااور ان تمام مہموں کا حال بیان کیا جو پچھلے سات مہینوں میں اسے پیش آئی تھیں ۔ بادشاہ نے گلبرگہ میں دو یا تین دن قیام کیا اور پھر بڑی تیز رفتاری سے ساگر کی طرف روانہ ہوگیا اور تین دن میں وہاں پہنچ گیا۔ محمد بن عالم نے جب بادشاہ کی آمد کی خبر سنی تو فوراً ہتھیار ڈال دیے اور معافی کا خواستگار ہوا اورباوجود اس کی انتہائی قابل اعتراض حرکات کے بادشاہ نے اس کی جان بخشی کی۔
پچھلے چند ماہ کی متواترمہموں کا بادشاہ کی صحت پر برا اثر پڑا تھا اور ساگر ہی کی مہم کے وقت اس کی عمر ساٹھ سال ہو چکی تھی ۔ اس لیے وہ کچھ دن آرام کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ مدھول سے وہ میراج گیا اور وہاں چند ماہ قیام کر کے پتھین چلاگیا اور دو ماہ وہاں گذارے اور پھر ساگرواپس آیاجہاں جاگیرداروں اور مقامی لوگوں نے اس کا استقبال کیا اور سلا می دی ۔ فوج کا انتظام درست کر نے کے بعد اس نے چنار کو عبور کیا اور مالکھر اور سیڑم سے ہو کر گذرا جہاں اس نے مقامی رئیسوں سے خراج وصول کیا اور شکار پر چلاگیااور پورے سال بھر دارالسلطنت سے باہر رہنے کے بعد گلبرگہ پہنچ گیا۔ گلبرگہ آنے کے بعد بادشاہ نے اس کانام بدل کر احسن آباد رکھا اور اسے دکھن کی سلطنت کا مستقر قرار دیا۔
بادشاہ کے تزک و احتشام کے اہتمام کا اندازہ ان شان دارضیافتوں سے ہوتا ہے ۔ جو اس نے اپنے لڑکے اوروارث ظفرخان کی (جو بعد کو محمد شاہ کے لقب سے تخت نشین ہوا ) شادی ملک سیف الدین غوری کی لڑکی شاہ بیگم سے کی ۔ یہ شادی اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ اس سے ان سماجی حالات پر روشنی پڑتی ہے جو اس وقت رائج تھے ۔
ولی عہد سلطنت کی شادی ۲۰ جون ۱۳۵۱ء کو ہوئی ۔لیکن اس مبارک تقریب میں ضیافتوں اور جشن مسرت کا سلسلہ پورے سال بھر تک قائم رہا جب کہ بادشاہ نے ہزاروں تھا ن ذر بغت ، مخمل اور ریشم کے اور ایک ہزار عرب اور عراقی گھوڑے اور بارہ مر صع تلواریں اپنے امراء میں تقسیم کیں اور خاص وعام کو غلہ تقسیم کیا گیا اور دارالسلطنت کے غرباء اور محتاجوں کو پکا ہوا کھانا کھلا یا گیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دکھن میں ہندو اور مسلم پہلے ہی ایک دوسرے کے گہرے دوست ہوگئے تھے اور ہم دیکھتے ہیں کہ شاہی ضیافت میں تلنگا نہ ، شکر کھیر اور مدگل کے رائے بھی مدعو تھے ۔ اس کاذکر پہلے ہی کیا جاچکاہے کہ علاء الدین کی جوانی کا زمانہ ملتان میں گذرا تھا اور شاید اس کی شادی بھی وہیں ہوئی تھی ۔ جب ولی عہد کی شادی کی تقریبات شروع ہوئیں تو علاء الدین کی ملکہ ، ملکہ جہان نے اپنی بہن سے ملنے کی خواہش ظاہر کی جواب تک ملتان ہی میں تھی ۔ بادشاہ نے فوراً انتظام کیا کہ اسے گلبرگہ بلایا جائے ۔ جب یہ خاتون سات ماہ میں گلبرگہ پہنچی تو ملکہ دکن جن سے سارے انتظامات پوشیدہ رکھے گئے تھے حیرت ذدہ ہوگئیں اور بہت خوش ہوئیں ۔
علاء الدین کی حکومت کے حالات سے نئے دکن کے حکمران کے کردار کا اظہار ہوتا ہے اس کی تمام مہموں سے کسی ایک میں بھی خواہ وہ تغلق کے طرفداروں کے خلاف ہوں یا ہندو راجاؤں اور مقدموں کے خلا ف ظلم کا شائبہ بھی نظر نہیں آتا اور بیشتر ایسا ہواکہ جنگ کے خاتمہ پر خود بادشاہ یا اس کے نمائندہ نے مفتوحہ ریاست پھراسی کو واپس کر دی جو اب تک دشمن رہاتھا۔ یہی وجہ تھی کہ ورنگل کے رائے جیسے طاقتور حکمران نے بلا کسی کشت و خون کے بادشاہ کا اقتدار اعلیٰ قبول کر لیا اور نئی سلطنت کے معزز دوست اور حلیف سمجھے جانے لگے جیسا کہ عصامی نے کہا ہے علاء الدین میں اچھے بادشاہوں کی تینوں صفات تھیں یعنی وہ ہمیشہ مظلو موںکی مدد کرتا تھا ۔ غریبوں پر مہربانی کرتا تھا اور احکام خدا وندی کی پیروی کی پوری کوشش کرتا تھا۔
بستر مرگ پر اُس نے اپنے تینوں لڑکوں محمد، محمود اور داؤ د کو بلایا اور نصیحت کی کہ جو سلطنت اس نے قائم کی ہے اگر وہ اسے باقی رکھنا چاہتے ہیں تو انھیں ایک جان دو قالب ہو کر رہنا چاہیے اور دو چھوٹے لڑکوں کو ہدایت کی کہ وہ ولی عہد سلطنت محمد کی اطاعت کریں ۔ اس کے بعد اس نے انھیں رو پیہ اور استعمال کی چیزیں دیں اور حکم دیاکہ گلبرگہ کی جامع مسجد میں جاکر ان چیزوں کو حاجت مندوں میں تقسیم کردیں ۔ جب تینوں لڑکوں نے واپس آکر اطلاع دی کہ انھوں نے حکم کی تعمیل کردی ہے تو اس نے الحمد اللہ کہا اور روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
حسن ۶۹۱ھ میں پیداہوا اور ۶۷ سال کی عمر میں یکم ربیع الاول ۷۵۹ ھ کو وفات پائی ۔ بانی بہمنی سلطنت کا دو ر حکومت تقریباً گیارہ سال رہا یعنی ۳؍ اگست ۱۳۴۷ ء سے ۱۱ فروری ۱۳۵۸ء تک ۔ بہمن شاہ کو ایک مقبرہ میں دفن کیاگیا جو قلعہ کے جنوبی پھاٹک سے تقریباً دو فرلانگ کے فاصلے پر ہے جہاں اس کے پیر شیخ سراج الدین جنیدی ؒ کے مزار کے دوبڑے مینار دور سے نظر آتے ہیں ۔ مقبرہ کے اندر تین قبریں ہیں ۔ جس میں نچلی قبر بہمن شاہ کی ہے جس نے نیچے کے درجہ سے ترقی کی اور ہمیں معلوم ہے کہ اس نے سادگی کی زندگی بسر کی ۔ قبر شیخ سراج کے مقبرہ کے ٹھیک جنوب میں ہے اور یہ بعید از قیاس نہیں ہے کہ مرید نے اپنے قبر کا خاکہ ایسا بنایا ہو کہ وہ اس کے پیر کے مزار کے بالکل سیدھ میں ہو اور مرید کا چہرہ پیر کے چہرہ کے آمنے سامنے ہو۔ دوسری قبر اس کے جانشین محمد اول کی ہے جو بلند چبوترے پر ہے جو سخت مزاج تھا اور اسے اپنے منصب اور وقار کا بڑا لحاظ تھا ۔ اور تیسری قبر یقینا پانچویں حکمران محمد دوم کی ہے۔
lll

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے