مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
گلوان میں فوجی جھڑپ اور چین کے ذریعے ہندوستانی علاقذے پر قبضہ کئے جانے کے راہل گاندھی کے بیان پر جسٹس دتہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر وہ سچے ہندوستانی ہیں تو وہ یہ سب نہیں کہیں گے "عدالتی اس تبصرہ پر اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ سچا ہندوستانی کون ہے؟ کچھ لوگ یہ کہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا عدلیہ یا کسی جج کا کام نہیں کہ کون سچا ہندوستانی ہے اور کون نہیں، بہر کیف مجھے بھی کوئی سرٹیفکیٹ جاری کرنا نہیں ہے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون؟ مگر یہ جانکاری سب کے لئے اہم ہےکہ ملک کا ایک اچھا شہری بنبے کے لئے پہلے اس کا سچا ہونا ضروری ہے۔ کون دیش پریمی ہے؟ کون راشٹریہ وادی ہے؟ کون دیش بھگت ہے؟ ان سب کا جواب بھی اسی ایک لفظ میں پوشیدہ ہے۔
یہ بھی اتفاق ہے کہ ادھر یہ عدالتی تبصرہ موضوع بحث ہے تو دوسری طرف سابق گورنر ستیہ پال ملک کے انتقال کی خبر ہے، وہ ایک سچ گو اور حق گو انسان تھے، ملک کے وفادار اور اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کرنے والے انسان اور ہندوستان کے ایک اچھے شہری تھے، ملک میں ۵۰/سال تک مختلف عہدوں پر کام کرنے کے باوجود وہ محض ایک کمرے کے مکان میں رہ رہے تھے، یہ ان کی ایمانداری کا ثبوت ہے۔ اور یہ بات تو ملک جی نے اپنے بارے میں خود کہی ہے کہ ۱۵۰/کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش ہوئی تھی مگر ان کا ایمان نہیں ڈگمگایا، وہ ایمانداری سے کام کرتے رہے۔
یہ چیزیں سچے محب وطن ہونے کی دلیل ہے، ستیہ پال جی کی راست بازی اور سچائی نے درحقیقت انہیں رشوت خوری اور بے ایمانی سے بچایا ہے، اس کی دلیل یہ حدیث ہے;
آج سے چودہ سو سال پہلے ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! مجھ میں چار بری خصلتیں ہیں، ایک یہ کہ بدکار ہوں، دوسری یہ کہ چوری کرتا ہوں، تیسری یہ کہ شراب پیتا ہوں، چوتھی یہ کہ جھوٹ بولتا ہوں، ان میں سے جس ایک کو فرمائیے اپ کی خاطر چھوڑ دوں، ارشاد ہوا کہ جھوٹ نہ بولا کروا چنانچہ اس نے اس کا عہد کیا، اب جب رات ہوئی تو شراب پینے کو اس کا جی چاہا، اور پھر بدکاری کے لیے آمادہ ہوا تو اس کو خیال گزرا کہ صبح کو جب انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پوچھیں گے کہ رات تم نے شراب پی اور بدکاری کی تو کیا جواب دوں گا، اگر ہاں کہوں گا تو شراب و زنا کی سزا دی جائے گی، اگر نہیں کہا تو عہد کے خلاف ہوگا، یہ سوچ کر ان دونوں سے باز رہا، جب رات زیادہ گزری اور اندھیرا چھا گیا تو چوری کے لیے گھر سے نکلنا چاہا، پھر اس خیال نے اس کا دامن تھام لیا کہ کل پوچھ ہوگی تو کیا کہوں گا؟ ہاں کروں گا تو ہاتھ کٹیں گے، اور نہیں کہا تو بدعہدی ہوتی ہے، اس خیال کے آتے ہی اس جرم سے بھی باز آیا، صبح ہوئی وہ دوڑ کر خدمت نبوی میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! جھوٹ نہ بولنے سے میری چاروں بری خصلتیں مجھ سے چھوٹ گئیں یہ سن کر انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسرور ہوئے، (سیرت النبی)
یہ سچائی کی جیت ہے، سچائی ایک انسان کو تمام برائیوں سے منع کر دیتی ہے، ایک ذمہ دار انسان بنا دیتی ہے، مسلمان ہونے کے لئے یہ لازمی شرط یے،نیز دیش پریمی ہونے کے لئے بھی سچا ہونا بہت ضروری ہے۔
آج رشوت خوری، چوری کا بازار گرم ہے، اس کی واحد وجہ سچ سے دوری و مہجوری ہے۔
ایک مسلم کی ذمہ داری صرف سچ اور حق بولنا ہی نہیں بلکہ سچوں کے ساتھ رہنے کی تلقین خود قرآن کریم میں موجود ہے، ارشاد الہی ہے; "اے ایمان والو! خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو”(سورہ توبہ)۔
علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ علیہ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ "مفسرین کے نزدیک یہاں سچوں سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ بڑے بڑے صحابی ہیں جن کی سچائی کا بار بار امتحان ہو چکا تھا، مگر بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ آیت کریمہ اپنی وسعت کے سبب سے ہر دور کے مسلمانوں کو سچوں کی معیت اور صحبت کی دعوت دیتی ہے”۔
کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ سچ بولیں
مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
۷/اگست ۲۰۲۵ء بروز جمعرات
