تحریر:محمد مقصود عالم قادری اتردیناجپور مغربی بنگال

آج دنیا میں ہر چہار جانب جو اسلام کا یہ حسین گلشن لہلہاتا نظر آتا ہے یہ سب ہمارے اسلاف اور بزرگوں کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے ,انہوں نے دین کے تحفظ اور بقاء کے لئے اپنی جان و مال اور اہل و عیال کو قربان کردیا ,راہ خدا میں انہوں نے گوناگوں تکلیفوں کو برداشت کرکے دین اسلام کو فروغ دیا ,دین حق کی سربلندی اور تبلیغ و اشاعت کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جو شجاعت و استقامت دکھائی اس کی مثال نہیں ملتی, لیکن صحابیات طیبات رضی اللہ عنہن بھی نامِ حق پر دل و جان قربان کرنے والوں میں سرِ فہرست نظر آتی ہیں صحابیات رضی الله عنہن نے جو دین کی خاطر قربانیاں دیں , ظالم و سفاک مشرکین کی دل دہلا دینے والی اذیتوں کو برداشت کیا, ان قیامت خیز واقعات کو سنتے ہی بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں , جب کبھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میدانِ جنگ میں کفار کے مقابلے میں بظاہر کمزور نظر آئے , تو ان شیر دل خواتین نے میدانِ کارزار کا پانسہ ایسا پلٹ دیا کہ کفار کے پاس دم دبا کر بھاگنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ بچا جیسے کہ حضرت خولہ بنت ازور رضی اللہ تعالی عنہا نے جنگ اجنادین میں اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جنگ خندق میں وہ بہادری دکھائی کہ کفار طاقتِ ایمانی دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئے ۔

محترم قارئین! ہمارا یہ پیارا دین اسلام قربانی کا تقاضا کرتا ہے وہ بھی ایسی چیز کا جو سب سے زیادہ پیاری اور عزیز ہو,اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:”لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ ” ترجمہ کنز الایمان: تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو-(آل عمران الآیت ۹۲)

تین چیزیں ہی ایسی ہیں جن سے انسان فطری طور پر بے انتہا محبت کرتا ہے ,اہل و عیال ,جان اور مال , اگر صحابیات طیبات رضی اللہ عنہن کی سیرت کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جب کبھی اسلام کی خاطر ان میں سے کسی کو پیش کرنے کی حاجت ہوئی تو انہوں نے بے دریغ ان چیزوں کو قربان کر دیا ,ذیل میں صحابیات طیبات رضی اللہ عنہن نے جو اپنی جان ,مال اور خاندان کو راہ خدا میں قربان کر دیا ان کے متعلق چند روح فرساں واقعات سپرد قرطاس کرتا ہوں ملاحظہ فرمائیے-

خاندان کی قربانی:

ایک عورت سب سے زیادہ اپنے شوہر اور بچوں سے محبت کرتی ہے وہ ان کے لئے جان کی بھی پرواہ نہیں کرتی, سخت ترین مشقتیں برداشت کرکے اپنے بچوں کو پالتی ہے ,لیکن صحابیات طیبات رضی اللہ عنھن نے باغ اسلام کی آبیاری کے لئے اپنے جگر گوشوں تک کا خون بھی پیش کر دیا جیسے کہ ایک انصاری عورت جس کا باپ ,بھائ اور شوہر بھی جنگ احد میں شہید ہوگئے تھے ,جب یکے بعد دیگر تینوں کی شہادت کی خبر پہونچی تو ہربار اس عورت نے یہی کہا کہ "مجھے یہ بتاؤ کہ سرورکائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کیسے ہیں؟ تولوگوں نے کہا کہ اگرچہ آپ علیہ السلام زخمی ہوگئے ہیں لیکن اللہ کے کرم سے زندہ اور سلامت ہیں ,تو یہ خوشخبری سنتے ہی برجستہ ان کی زبان سےعشق سے لبریز یہ جملہ نکلا کہ "کل مصیبۃ بعدک جلل” یعنی آپ علیہ السلام کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت معمولی سی ہے , (سیرت مصطفیٰ ص 281 مکتبۃ المدینہ)

اللہ اکبر! اس جاں باز خاتون کی کوئ مثال ہی نہیں کہ باپ,بھائ اور شوہر ,تینوں کے قتل سے صدمات کے تین تین پہاڑ ٹوٹ پڑے مگر ان کے صبر و استقامت میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئ ۔

اسی طرح حضرت خساء رضی اللہ عنہا جو کہ عرب کی سب سے بڑی مرثیہ گو شاعرہ تھی,ان کی شاعری کا دیوان آج بھی موجود ہے, حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں جنگ قادسیہ کا واقعہ ہوا,جس میں آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے چاروں بیٹوں کو لے کر حاضر ہو گئیں , آپ رضی اللہ عنہا نے جنگ سے ایک دن قبل اپنے بیٹوں کو ایک نہایت ہی پرجوش اور موثر نصیحت فرمائ جس سے ان کے دلوں میں شہادت کا ایسا شوق پیدا ہوا کہ چاروں بیٹے جنگ میں کود پڑیں اور نہایت ہی بہادری اور جوانمردی کے ساتھ کفار کا مقابلہ کیا اور چاروں نے جام شہادت نوش فرماکر اپنی ماں کی دلی خواہش کی تکمیل کی ۔

جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ماں کو پہونچی تو بجائے سراور سینہ پیٹ نے کے خوش ہو کر کہا: "کہ اس اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے مجھے چار شہیدوں کی ماں بننےکا شرف عطا فرمائ, مجھے اللہ عزوجل کی رحمت سے امید ہے کہ میں اپنے چاروں شہید بیٹوں کے ساتھ جنت میں رہوں گی” (جوش ایمانی ص 5 مکتبۃ المدینہ)

اے کاش ! ہرمسلمان عورت کے سینوں میں انکے جیسا دل پیدا ہوجائے جس کے جوش ایمان اور جذبہ جہاد کی یاد قیامت تک فراموش نہیں کی جاسکتی۔

اور بھی ایسے واقعات تاریخ و سیرت کی کتابوں میں کثیر تعداد میں موجود ہیں جن کو یہاں لکھنا گنجائش نہیں ہے,

جان کی قربانی:

انسان کی یہ فطری عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی جان سے بے پناہ محبت کرتا ہے,اس کو کسی بھی طرح کی تکلیف میں مبتلا نہیں کرتا, لیکن صحابیات طیبات رضی اللہ عنہن نے اپنی جان کو بھی راہ خدا اور عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں قربان کرکے شجرہ اسلام کی جڑوں کو مضبوط کیا۔ سب سے پہلے جس صحابیہ خاتون رضی اللہ عنہا نےراہ خدا میں جان دی وہ مشہور صحابی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی سمیہ رضی اللہ عنہا ہیں,

آپ رضی اللہ عنہا پر کفار مکہ نے وہ ظلم ڈھائے کہ جس کو لکھنے سے قلم کا سینہ شق ہوجا تا ہے,بس ان کی یہی غلطی تھی کہ وہ دامن اسلام سے وابستہ ہوگئیں تھیں,ایک مرتبہ ابوجہل نے نیزہ تان کر ان کو دھمکا تے ہوئے کہا کہ تو کلمہ نہ پڑھ ورنہ میں تجھ کو نیزہ مار دونگا , یہ سن کر بجائےآپ رضی اللہ عنہا کے پاؤں لڑکھڑاتے سینہ سپر ہوکر بلند آواز سے کلمہ پڑھنا شروع کردیا ,تو ابوجہل نے طیش و غضب میں آکر ان کے ناف کے نیچے اس زور سے نیزہ مارا کہ وہ خون آلودہ ہو کر گرپڑیں اور شہید ہوگئیں۔( جنتی زیور ص357 رضوی کتاب گھر دھلی)

دین اسلام کی خاطر مصیبتوں کے پہاڑ کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہوجانے والی پاک طینت صحابیہ حضرت بی بی لبینہ رضی اللہ عنھا بھی ہیں,جوکہ ابتدائے اسلام ہی میں ایمان کی نور سے ان کا دل منور ہوگیا تھا,کفار مکہ نے ان کے ساتھ انتہائ ظلم و تشدد کا برتاؤ کیا,منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ (جب کہ آپ ایمان نہ لائے تھے)آپ رضی اللہ عنہا کو اس قدر مارتے کے مارتے مارتے تھک جاتے۔(ایضاً ص 358)

اللہ اکبر! حضرت عمر رضی اللہ عنہ جسے عرب والے اور آج بھی طاقتور اور بہادر انسانوں میں شمار کرتے ہیں ,اور بہادری میں تو ان کی مثال دی جاتی ہے,بتاؤ کہ جب اسقدر طاقتور شخص ایک نازک بدن والی عورت کو مارتے تو کسقدر درد سہی ہو نگی, لیکن اس کے باوجود بھی آپکی بہادری میں رمق برابر بھی فرق نہیں آیا,بلکہ آپ رضی اللہ عنہا نہایت ہی جرات و استقلال کے ساتھ کہتی تھیں کہ عمر! تم جتنا چاہو مجھ غریب کو مار لو مگر سن لو کہ اگر خدا کے سچے نبی علیہ السلام پر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو خدا ضرور تم سے انتقام لے گا ۔

اور بھی ایسی بہادر اولین خواتین ہیں جن کو کفار نے بے حد ستایا اور عجیب و غریب اذیتیں دیں,لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ان کے ایمان و عشق میں کمی واقع نہیں ہوئ ہے ,بلکہ اضافہ ہی ہوا اور دین اسلام کو ترقی ملتی گئ ,جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی بہن کو اس قدر مارا کہ ان کا چہرہ لہو لہان ہو گیا لیکن پھر بعد میں وہ ایمان کی دولت سے سرفراز ہوئے۔

مال کی قربانی:

مال انسان کی بہت ہی پیاری چیز ہے,انسان کبھی اس کو اپنے پاس سے جدا کرنا گوارا نہیں کرتا, لیکن جہاں صحابیات طیبات رضی اللہ عنہن نے اپنے خاندان اور جان کو قربان کردیا تو بھلا مال کو قربان کرنا انکے لئے کیا مشکل ہوگا؟ ان اولین خواتین نے راہ خدا میں بے پناہ مال خرچ کیا ,ان میں سے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا نام سر فہرست آتا ہے, آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی عیش و عشرت سے بھرپور زندگی کو ترک کرکے آپ علیہ السلام کو نکاح کا پیغام بھیجا,پھر اپنا پورا مال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کے لئے خرچ کردیا اور شاہانہ زندگی چھوڑ کر غریبی زندگی اختیار کی-

روایت ہے کہ ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا بارگاہ رسالت میں دو بڑے کنگن پہن کر حاضر ہوئیں تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:”کیا تم ان کی زکات ادا کرتی ہو”؟تو عرض کی نہیں ,تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :”کیا تم یہ پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالی قیامت کے دن آگ کے کنگن تمہیں پہنائے؟تو وہ نیک صحابیہ رضی اللہ عنہا نے فوراً وہ دونوں کنگن نکال کر آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر دی اور کہا کہ یہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔ (ابوداود,کتاب الزکات,الحدیث ۱۵٦۳ )

پیاری اسلامی بہنوں! آپ نے دیکھا کہ صحابیات طیبات رضی اللہ عنہن نےاپنی پیاری سے پیاری چیز بھی راہ خدا میں قربان کرنے کیلئے کمر بستہ تھیں, سخت ترین مشکلوں اور مشقتوں کو برداشت کیں,دین کی خاطر گھرباراور اپنے عزیز وطن کو ترک کیں ,پھر بھی صبر و استقامت کے ساتھ دین اسلام پر ڈٹی رہیں , انکے ایمان و عمل میں تھوڑا سا بھی فرق نہیں,وہ ہر حال میں اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی تھیں, لیکن آج اگر مسلمان عورتوں کو دیکھا جائے تو وہ بڑے آرام و اشائش کے ساتھ زند گی بسر کرتی ہیں, آج دین اسلام ان سے نہ اپنی جان یا پھر اپنے باپ,بھائ, اور شوہر کے خون کا نذرانہ مانگتا ہے, اور نہ ہی ہجرت کا تقاضہ کرتا ہے,جس میں اعزا و اقربا کو چھوڑنے کا غم,سفر کی مشقتیں اور دیار غیر میں صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہے , لیکن اگر خدانخواستہ ایسا وقت کبھی آپڑے تو اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ صحابیات طیبات رضی الپہ عنہن کی دین کی خاطر قربانیوں کو یاد کر کے دل میں دین کا جذبہ پیدا کریں اور ڈٹ کر ان سے مقابلہ کریں-

آج اگر دین اسلام مسلمان عورتوں سے تقاضہ کرتا ہے تو صرف یہ کہ ہم پابند شرع بن جائیں ,پردا,شرم و حیا اور ماں باپ اور شوہر کی تابعداری کو اپنے اوپر لازم کرنے والیاں بن جائیں, اپنے شوہر اور والدین کی خدمت گزار اور انکے حقوق ادا کرنے والیاں بن جائیں, غیر محرموں سے رشتے ناطے نہ جوڑیں, نئے نت فیشن ,فحاشی اور غلط رسومات کی طرف مائل نہ ہوں , فلمی اداکاروں کو اپنا آئیڈیل نہ بنا کر حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا,صحابیات طیبات رضی اللہ عنہن اور نیک صالحات خواتین کو اپنا آئیڈیل بنا کر ان کی سیرت طیبہ پرپورا پورا عمل کریں۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو دین کی خاطر قربانیاں دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الامین

صلی اللہ علیہ وسلم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے