سہارنپور( احمد رضا): گیارہ سال کی مدت میں ملک کے الیکشن کمیشن کی ساکھ پر بار بار دھاندھلی میں شامل ہو نے کے الزامات لگائے ہی انتخابات کے فرضی عمل کے خلاف اکھلیش یادو کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کو اٹھارہ ہزار حلف نامہ پیش کیئے گئے مگر الیکشن کمیشن نے ایک بھی شکایت پر ایمانداری سے جانچ پڑتال نہی کی ہر انتخابی عمل میں من مانی کی گئی اور خاص جماعت کو فرضی ووٹ دلاکر فائدہ پہنچایا گیا عام چرچا ہے کہ کہ اس پورے فرضی عمل کے ثبوت اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے سیکڑوں معزز میڈیا کارکنان کے سامنے پختگی کے ساتھ پیش کئے ہیں جو بہت سنگین نوعیت کے ہیں یہ حقیقت جانکر آج پورا ملک محو حیرت ہے! ملت کو درپیش سخت ترین مسائل اور الجھنوں سے نجات دلانے نیز عوامی مشکلات کو مل جل کر حل کرنے اور کرا نے میں فعال سرگرم وکلاء تنظیموں سے  منسلک سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے فرضی ووٹ کے عمل پر آج ایک خاص ملاقات میں واضع کیا کہ جس طرح سے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ملک کے ا لیکشن کمیشن پر انتخابات میں دھاندلی کرنے کا اعلانیہ طور سے الزام لگایا ہے وہ مکمل طور سے ملک کے دستور اور جمہوری نظام کے خلاف عمل ہے  الیكشن کمیشن کو اپنی غلطیاں  اور  خامیاں تسلیم کرتے ہوئے عہدے سے استعفی دے دینا چاہئے اتنے بڑے پیمانے پر دھاندلیاں اجاگر ہونا ملک کے دستور اور جمہوری نظام کے خاتمے کے لئے بہت مضر ہیں اس دها ندهلی میں شریک سبھی افراد کو قانونی گرفت میں لیا جانا ضروری ہو گیا ہے ووٹ کا یہ فرضی عمل ملک کے دستور اور جمہوری نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے لازم ہے کہ دستور ہند کے محافظ سپریم کورٹ کے قابل ترین جسٹس حضرات اپنی سطح سے الیکشن کمیشن کے فرضی عمل کو پرکھیں اور جانچیں تاکہ ملک کے دستور کے خلاف عمل کرنے والے لوگوں کو جیل بھیجا جا سکے! سینئر ایڈوکیٹ محمد علی کا صاف کہنا ہے کہ جب سے ملک میں بھاجپا اقتدار میں آئی ہے تب سے ہی کمزور طبقہ کے ساتھ ساتھ دلت اور مسلم آبادی کے ووٹرس کو ووٹ دینے سے پولیس نے ایک بار نہی بار بار محروم رکھا ہے* ریاستی سطح پر ہر چناؤ میں لاکھوں افراد کو پولیس کی طاقت کے زور پر ووٹ سے محروم رکھنا اور جان بوجھ فرضی ووٹ پول کرنا اور کرانا گھنونی حکمت عملی ہے جو جرم عظیم ہے*  ایک جائزے کے مطابق سامنے آیا ہے اور یہ سچ پورا ملک جانتا ہے کہ اتر پردیش 2017 اسمبلی چناؤ 2019 لوک سبھا چناؤ 2022 اسمبلی چناؤ اور 2024 لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں مسلم آبادی کو کس طرح سے ووٹ دینے سے روکا گیا سو سے زائد اسمبلی سیٹ پر مسلم آبادی کو پولیس نے کہیں لاٹھیاں برساکر کہیں مسلم خواتین پر بندوقیں تان کر ووٹ دینے سے روکا وہیں ہزاروں مسلمانوں کو بلاوجہ گرفتار کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا پورا ملک مسلم آبادی کے بنیادی حقوق پر حملہ ہوتے ہوئے دیکھتا رہا آج انہی مسلم اور کمزور طبقہ کی بد دعائیں صاحب اقتدار جماعت کے سامنے لعنت بن کر سامنے آ رہی ہیں کہ فرضی ووٹ سے سرکاروں کا نظم و نسق سنبھالا جا رہا ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے