تحریر :ڈاکٹرمحمد نعمت اللہ ادریس ندوی
مسجد نبوی کی زیارت، حج و عمرے کے اعمال ومناسک میں داخل تو نہیں لیکن بذات خودایک مسنون عبادت ہے اور اس کے لئے بھی دیگر عبادات کی طرح نیت کرنا ضروری ہے؛اس لئے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔
مدینہ منورہ کے قاصدین کو چاہئے کہ مسجد نبوی کی زیارت اور اس میں نمازوں کی ادائیگی کے ذریعے اللہ جل شانہ کا تقرب حاصل کرنے کی نیت کریں جوکہ اللہ کی محبت واطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی وفرمانبرداری کے جذبہ کے تحت ہو ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی متعدد احادیث میں فضائل و برکات بیان کرکے ہمیں اس کی زیارت کی ترغیب دی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ہٰذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فَیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ‘‘ (مسند احمد اور صحیح ابن حبان)۔
(میری اس مسجد میں نماز ادا کرنا،مسجد حرام کے سوا کسی بھی مسجد میں
ہزار نماز ادا کرنے سے افضل ہے)۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کو ان تین مساجد میں سے گردانا ہے جن کی طرف اللہ کی عبادت اور اس کی رضا و تقرب کے حصول کے ارادے سے سفر کیا جاسکتا ہے ،ارشاد ہے:
’’لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَی ثَلاَثۃِ مَسَاجِدَ : مَسِجِدِیْ ھٰذَا وَمَسْجِدِ الحَرَامِ وَ مَسْجِدِ الأَقْصَی‘‘(بخاری: ۱۱۸۹ اور مسلم:۱۳۹۷)۔
(تین مساجد کے علاوہ کسی اور کی طرف کجاوے نہ باندھے جائیں (وہ یہ ہیں)میری مسجد،مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس مسجد کی ایک ایسی خصوصیت بیان فرمائی ہے جو کسی اور مسجد کو حاصل نہیں ہے یعنی مسجد کے ایک حصہ میں جنت کا ایک باغ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ اور منبر کے درمیان واقع ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَمِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِن رِّیَاضِ الْجَنَّۃِ‘‘(بخاری: ۱۸۸۸ اور مسلم: ۱۳۹۱)۔
(میرے گھراور میرے منبر کے درمیان (کی جگہ)بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے)۔
چنانچہ حج وعمرے سے پہلے یا بعد یا جب کبھی بھی اللہ تعالی مسجد نبوی کی زیارت کی توفیق بخشے ، تو اپنی قیام گاہ سے عمدہ لباس، خوشبو اور وضو کا اہتمام کرکے اطمینان و سکون کے ساتھ مسجد کا رخ کرے اور وہاں پہونچ کر دایاں قدم آگے بڑھاتے ہوئے مسجد میںداخل ہو جیسا کہ دیگر مساجد میںداخل ہو تے وقت مسنون ہے اور یہ کہے:
’’بِسْـمِ اللّـہِ وَالصَّـلوۃُ وَالسَّـلامُ عَلی رَسُـوْلِ اللـّـہِ ، اللّھُمَّ افْتَحْ لِیْ أبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘‘(سنن ابن ماجہ: ۷۷۲، صحیح)۔
(اللہ کے نام سے اور درود وسلام اس کے رسول پر، اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)۔
پھر آسانی سے جگہ مل جائے تو ’’روضۃ من ریاض الجنۃ ‘‘والے حصہ میں جاکر دو رکعت نماز پڑھے، یا جہاں بھی اللہ سبحانہ وتعالی کی توفیق سے پڑھ سکے ،پڑھے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارکہ کا رخ کرے اورمواجہہ (رخ انور) کے سامنے غایت درجہ ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے کھڑا ہواور دھیمی آواز سے ان الفاظ کے ساتھ سلام پیش کرے :
’’السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خِیْرَۃَ خَلْقِ اللّٰہِ، السَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، أَشْھَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَد أَنَّکَ عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ، قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَۃَ وَأَدَّیْتَ الأَمَانَۃَ، وَنَصَحْتَ الأُمَّۃَ، وَجَاھَدْتَ فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ،صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِکَ وَأَزْوَاجِکَ وَذُرِّیَاتِکَ وَسَلَّمَ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًًا‘‘
(اے اللہ کے رسول !آپ پر سلام ،اے اللہ کے نبی!آپ پر سلام، اے سب مخلوق میں افضل! آپ پر سلام ، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا
کوئی معبود نہیں اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یقینا آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے امانت ادا کر دی ہے ،امت کی خیر خواہی کردی ہے اور اللہ کے دین کے لئے آپ نے پوری پوری کوشش کی ہے۔ اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل پر، آپ کی بیویوں پر اور آپ کی اولاد پر رحمت کرے اور بہت بہت سلامتی عطا کرے)۔
پھر تھوڑا سادائیں طرف ہٹے اور یہ کہتا ہوا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سلام عرض کرے:
’’السَّلَامُ عَلَیْکَ یَاأَبَابَکْرٍ الصِّدِّیْقُ صَفِیَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَصَاحِبَہُ فِی الْغَارِ، جَزَاکَ اللّٰہُ عَنْ أُمَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ خَیْرًا‘‘
(اے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ!آپ پر سلامتی ہو، آپ رسول اللہ کے چنے ہوئے اور غار کے ساتھی ہیں، اللہ تعالی آپ کو امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے)۔
پھر تھوڑا سا دائیں طرف ہٹے اور عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے لئے سلام ان الفاظ میں عرض کرے:
’’السَّلَامُ عَلَیْکَ یَاعُمَرُ الْفَارُوْقُ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ جَزَاکَ اللّٰہُ عَنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ﷺخَیْرًا‘‘
(اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ !آپ پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکات ہوں، اللہ آپ کو امت محمدیہ کی طرف سے اچھی جزا عطا کرے)۔
اگر زیارت مسجد نبوی شریف کو وسیلہ بناکر اللہ تعالی سے کچھ مانگنے کا ارادہ ہو تومواجہہ شریف (رخ انور) سے ہٹ کر قبلہ کی طرف منہ کرکے جو چاہے دعا کرے اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فضل طلب کرے۔
اس طرح زیارت مسجد نبوی کی تکمیل ہو گئی ، لیکن چند باتوں کی طرف دھیان دلانا ضروری سمجھتا ہوں:
۱۔جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس آوازبلند کر تے ہیں اور دیر تک کھڑے رہتے ہیں، وہ خلاف شرع ہے ؛اس لئے کہ اللہ تعالی نے آواز بلند کرنے سے منع فرمایا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی کی طرح اپنی موت کے بعد بھی قابل احترام ہیں ، فرمان الہی ہے:
’’یٰأَ یُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ‘‘(الحجرات:۲)۔
(اے ایمان والو!اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کرو)۔
وہاں مستقل کھڑے رہنے سے بھیڑ بڑھتی ہے ، شور و ہنگامہ ہوتا ہے اور آوازیں بلند ہوتی ہیں۔
۲۔کسی کے لئے جائز نہیں کہ آپ کے حجرے کی جالیوں کو چھوئے یا اس کو بوسہ دے؛اس لئے کہ یہ سلف صالحین سے منقول نہیں ،بلکہ بد ترین بدعت ہے۔
۳۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی حاجت کو پوری کرنے ، یا کسی مصیبت کو دور کرنے، یا مریض کوشفا دینے کا سوال کرنا، اللہ کے ساتھ شرک ہے ،؛کیونکہ یہ سب چیزیں صرف اللہ سے مانگی جاتی ہیں۔
۴۔اسی طرح کسی کے لئے جائز نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
شفاعت طلب کرے؛اس لئے کہ یہ اللہ تعالی کا حق ہے اور اسی سے مانگنا چاہئے:’’قُلْ لِلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا‘‘(الزمر: ۴۴)(کہہ دو کہ ساری شفاعتیں اللہ ہی کے لئے ہیں)۔
البتہ اپنی دعامیں ضرور کہہ سکتا ہے کہ اے اللہ! میرے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شفیع بنا۔
لہذا حاجی کو چاہئے کہ مسجد نبوی کی زیارت کرتے وقت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پڑھتے وقت کسی قسم کی بدعت کا ارتکاب نہ کرے، بلکہ مدینہ منورہ میں اپنے قیام کو زیادہ سے زیادہ مفید بنائے ۔پانچوں وقت کی نمازیں مسجد نبوی میں پڑھے اس میں کثرت سے تلاوت ،ذکر، دعاء اور نفلی نمازوں کا اہتمام کرے، خاص طور پر باغ جنت میںبشرط سہولت و آسانی نفلی نماز پڑھنا مستحب ہے۔
دعا گو ہوںکہ اللہ تعالی ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے اور سارے اعمال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور ہدایات کی روشنی میں ادا کرنے کی توفیق دے۔آمین۔
نوٹ: زیارت وسلام کے آداب کے سلسلے میں شیخ بن باز رحمۃ اللہ علیہ کا مختصر رسالہ ’’التحقیق و الإیضاح ‘‘ بہت مفید ہے ۔
