(سعودی عرب کی قرآنی خدمت کا درخشاں باب اور امت کی وحدت کا مظہر)

ترتیب وپیشکش: ڈاکٹرعبد الغنی القوفی

حرم مکی کی روح پرور فضا میں اس وقت ایک عظیم روحانی و علمی اجتماع منعقد ہے، جس کی عظمت و رفعت کا اندازہ الفاظ میں ممکن نہیں۔ شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی قرآن کریم حفظ، تلاوت اور تفسیر کا پینتالیسواں عالمی مقابلہ اپنی پوری شان و شوکت اور دینی جلالت کے ساتھ جاری ہے۔ یہ مقابلہ نہ صرف حفاظ و قراء کے لیے ایک باوقار علمی میدان ہے، بلکہ امت مسلمہ کی یکجہتی، قرآنی محبت اور ایمان افروز بیداری کا ایک روشن استعارہ بھی ہے۔
آغاز کی سنہری داستان:
یہ باوقار سلسلہ 1400 ہجری (1980ء) میں اس وقت شروع ہوا، جب سعودی قیادت نے قرآن کریم کی خدمت کو ریاستی پالیسی میں سرفہرست رکھا۔ شاہ عبدالعزیز کے دور میں شروع ہونے والا یہ مقابلہ آج تک مکہ مکرمہ میں بلا تعطل منعقد ہوتا رہا ہے، جو سعودی عرب کی قرآنی خدمت کے تسلسل اور اخلاص کا بے مثال ثبوت ہے۔
شرکاء اور عالمی پذیرائی:
اس سال کے مقابلے میں 128 ممالک سے 179 منتخب حفاظ و قراء شریک ہیں۔ یہ شرکت محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم اور سخت انتخابی مرحلے کے بعد ممکن ہوتی ہے، جس میں اپنے اپنے ممالک کے سب سے ماہر، خوش الحان اور ممتاز حفاظ و قراء ہی اعزازِ شرکت حاصل کرتے ہیں۔
خطیر انعامات اور اعلیٰ انتظامات:
سعودی حکومت نے امسال تقریباً 4 ملین سعودی ریال کی خطیر رقم انعامات کے لیے مختص کی ہے:
* پہلا انعام: 500,000 سعودی ریال
* دوسرا انعام: 450,000 سعودی ریال
* تیسرا انعام: 400,000 سعودی ریال
ان انعامات کے ساتھ اعزازی شیلڈز، اسناد، اور خصوصی اعزازات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ دنیا بھر سے آنے والے شرکاء کو سفری سہولیات، رہائش، اور قیام و طعام کا مکمل انتظام سعودی حکومت اپنی ذمہ داری پر فراہم کرتی ہے۔
سعودی قیادت کا اخلاص اور دینی غیرت:
یہ مسابقہ اس حقیقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ سعودی عرب نہ صرف حرمین شریفین کے خادم کی حیثیت سے بلکہ امت مسلمہ کے قرآنی محافظ اور خادم کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داری کو اخلاص و محبت کے ساتھ نبھا رہا ہے۔
اس تناظر میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان امت مسلمہ کی طرف سے خصوصی مبارکباد اور شکریے کے مستحق ہیں، جنہوں نے ہمیشہ قرآن و سنت کی خدمت کو اپنی ترجیحات میں رکھا۔ اسی طرح وزیر اسلامی امور، دعوت و ارشاد شیخ ڈاکٹر عبد اللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ اور ان کی انتھک محنت کرنے والی ٹیم اس عظیم الشان مقابلے کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کی شب و روز کی کوششیں اور بہترین انتظامات امت کے لیے ایک مثالی خدمت ہیں۔
اس موقعہ پر راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے قومی صدر اور جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر نیپال کے موقر استاد ڈاکٹر عبد الغنی القوفی نے اس موقع پر اپنے تہنیتی بیان میں کہا:
"ہم دل کی گہرائیوں سے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیرِ اسلامی امور شیخ عبد اللطیف آل الشیخ اور ان کی پوری ٹیم کو اس عظیم قرآنی خدمت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ مسابقہ محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ امت کے دلوں کو قرآن کے نور سے منور کرنے کا ایک عالمی پیغام ہے۔ سعودی عرب نے اس میدان میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی اور آنے والی نسلیں ان سے روشنی حاصل کریں گی۔”
راشٹریہ مدرسہ سنگھ کے جنرل سیکرٹری مولانا مشہود خاں نیپالی نے کہا:
"قرآن کریم کے تحفظ اور اس کی تعلیمات کے فروغ میں سعودی عرب کی مسلسل خدمات قابلِ فخر اور باعثِ اطمینان ہیں۔ یہ عالمی مسابقہ اس بات کا پیغام ہے کہ امت مسلمہ کی اصل قوت قرآن سے وابستگی میں ہے۔ ہم سعودی حکومت اور اس عظیم خدمت کے تمام منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔”
پیتالیسواں عالمی قرآن کریم مسابقہ اس حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کر رہا ہے کہ قرآن کریم ہی امت مسلمہ کا سب سے قیمتی سرمایہ اور وحدت کا حقیقی محور ہے۔ جب قیادت اخلاص، محبت اور دینی غیرت کے ساتھ قرآن کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائے تو امت کے قلوب ایک ہی نورانی مرکز پر مجتمع ہو جاتے ہیں -اور وہ ہے کلام اللہ المجید. اللہ ہم سبھی کے اندر اپنے کلام کی الفت ومحبت ڈال دے، ہم میں سے ہر ایک کو اس کے حروف کی تلاوت کرنے والا اور اس کے مضامین پر عمل پیرا ہونے والا بنائے، قرآن کریم ہماری زندگی کا نور اور دل کا سرور بنائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے