ہوٹل میٹرو پولیس میں سائنس اور ریاضی کے اساتذہ کا خصوصی تربیتی پروگرام.
ثناء گروپ آف انسٹی ٹیوشنز ہبلی اور اے جے اکیڈمی کے زیرِ اہتمام شہر کے سرکاری و نجی اسکولوں کے سائنس اور ریاضی کے اساتذہ کے لیے سائنسی تحقیق سے متعلق ایک منفرد تربیتی پروگرام ہوٹل میٹرو پولیس میں منعقد ہوا، جس میں شہر کے معروف تعلیمی اداروں سے وابستہ مرد و خواتین اساتذہ کی خاصی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز مہمانانِ گرامی کی جانب سے روایتی طور پر پودے کو پانی دینے سے ہوا، جو نشوونما، پرورش اور علم و جدت کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ یہ مختصر مگر بامعنی عمل، پروگرام کے مرکزی موضوع کی عکاسی کرتا ہے، جو تحقیق کے ذریعے تبدیلی کی ترغیب دیتا ہے۔
ایوب ساونور صاحب ایکیزیکٹو ممبر ثنا گروپ نے افتتاحی کلمات ادا کئےجس میں انہوں نے شہر کے معروف اداروں سے اساتذہ کی بھرپور نمائندگی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے پروگرام کے اغراض و مقاصد واضح کیے۔ آپ نے کہا کہ شہر ہبلی کے معروف تعلیمی اداروں سے اساتذہ کی شرکت اپنی نوعیت کے اعتبار سے تاریخی ہے.
اور کہا کہ یہ موقع آخری نہ ہو بلکہ اساتذہ اپنے مطلوبہ کردار اور ذمہ داریوں کا خوب ادراک کریں اور سائنس فیر کے کامیاب انعقاد میں اہم رول ادا کرنے کے لئے ابھی سے تیار شروع کریں.
ثناء گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے مینجنگ ٹرسٹی اشرف علی بشیر احمد صاحب نے اس موقع پر اساتذہ سے مخاطب ہوتے ہوئے سائنس فیر کے انعقاد کے لئے ان کی شرکت کو بڑا حوصلہ افزا بتایا. موجودہ دور میں سائنسی تحقیق کی ضرورت و اہمیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز میں سائنس کے میدان میں نوبل انعام پانے والے آخری بھارتی نزاد سائنسدان سر سی وی رمن تھے اب جبکہ 95 سال کا عرصہ گزر چکا ہے اس لیے اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کو اس ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باشعور، قابل اور تخلیقی ذہن رکھنے والے طلبہ کی تیاری پر توجہ دینا چاہیے. آپ نے ثناء گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ کس طرح پچھلے چند سالوں میں تعلیم کے مختلف میدانوں میں ادارے نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور باشعور و باخلاق طلبہ و طالبات کی تیاری کو یقینی بنایا ہے.
ثناء بی ایڈ کالج کے پرنسپل، ڈاکٹر آر۔ ایس۔ پٹگے نے سائنس ایگزیبیشن اور سائنس فیر کے درمیان اہم فرق پر زور دیا اور نشاندہی کی کہ اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اکثر اساتذہ غیر ارادی طور پر طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب منصوبوں کو تحقیق کے حقیقی مقصد کے بغیر تیار کیا جاتا ہے تو طلبہ تنقیدی سوچ اور اختراعی مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کو ترقی دینے کے مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ سیکھے گئے تصورات کو مخلصانہ طور پر اپنائیں تاکہ طلبہ کو بامقصد سائنسی تحقیق کی طرف رہنمائی کی جا سکے۔
ورکشاپ کی مرکزی نشست میں محمد عبداللہ جاوید صاحب نے اساتذہ کی رہنمائی کرتے ہوئے طلبہ میں تحقیقی مزاج کے فروغ کی اہمیت و ضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اس سیشن میں درج ذیل نکات پر سیر حاصل تبادلہ خیال کا اہتمام کیا گیا:
سائنسی تحقیق اور سائنس فیر کا تعارف
سائنسی طریقہ کار کی وضاحت
تحقیقی نوعیت کے سوالات مرتب کرنے کی مشق
مفروضات لکھنے کے طریقے اور مثالیں
تحقیقی تجربات کے مراحل اور مقامی مسائل پر مبنی سائنسی منصوبہ جات
متغیرات کی قسمیں اور ان کے مطابق عمل درآمد کی عملی مثالیںانہوں نے شہر ہبلی کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقی منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا اور کچرے کی نکاسی، سڑکوں پر پانی کے سیلاب کی روک تھام، آبی ذخیروں کی گھٹتی تعداد اور ان کا تحفظ، ماحولیاتی آلودگی، سٹرکوں پر فروخت کئے جانے والے اشیائے خورد و نوش کی حقیقت جیسے موضوعات پر اساتذہ کے ساتھ عملی تبادلۂ خیال کیا۔
اساتذہ سے تبادلہ خیال کے بعد یکم ستمبر کو اسکولوں سے پروجیکٹ داخل کرنے کی آخری تاریخ طے پائی جبکہ بروز سنیچر 22 نومبر 2025 کو ہبلی میں شہری سطح کا بین المدارس سائنس فیر منعقد کرنا طے پایا.
پروگرام کے اختتام پر منتخب اساتذہ نے اپنے تاثرات پیش کیے اورثناء گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کی اس پہل کو سراہتے ہوئے تربیتی ورکشاپ کو نہایت مفید قرار دیا۔ اور بتایا کہ سائنسی ماڈل کی تیاری اور تحقیق پر مبنی پروجیکٹس کے درمیان فرق اور اہمیت و ضرورت بخوبی معلوم ہوئی. اور یہ بھی کہ کس طرح مقامی مسائل کے حل کے لئے تحقیقی نوعیت کے پروجیکٹس کئے جاسکتے ہیں.
اختتامی تقریب میں سید فیاض احمد صاحب پرنسپل گورنمنٹ پی یو کالج نے خطاب کرتے ہوئے سائنسی تربیتی پروگرام میں اساتذہ کی شرکت پر دلی مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ طلبہ کی ہمہ جہت ترقی میں اساتذہ کے ایسے ہی سیکھنے کے جذبہ کا بڑا غیر معمولی کردار ہوتا ہے. آپ نے اس بات کی یاددہانی کرائی کہ یہ تربیتی اجلاس پہلا اور آخری نہ ہو بلکہ طلبہ میں سائنسی و تحقیقی مزاج کے فروغ کے لئے مسلسل کوشش کو اپنا شیوہ بنائیں.
اس موقع پر اشرف علی بشیر احمد صاحب نے اساتذہ کو تیقن دلایا کہ ماہ نومبر میں منعقد ہونے والے سائنس فیر کے لئے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کوشش کی جائے گی اور اس شہری سطح کے سائنسی میلے کو ہر لحاظ سے کامیاب بنایا جائے گا لہذا اساتذہ بھی اس جانب انتہائی دیانت داری اور سنجیدگی کے ساتھ متوجہ ہوں.
ثناء کے ایک اور ٹرسٹی طارق مجاہد صاحب نے اساتذہ کو اس اہم بات کی جانب متوجہ کیا کہ جو کچھ انہیں آتا ہے وہ وہی سکھاتے ہیں، لہذا علمی و فکری گہرائی پر توجہ ہونی چاہیے.
طلبہ کی خوابیدہ صلاحیتوں کی نشوونما اسی وقت ممکن ہیں کیونکہ طلبہ از خود کچھ نیا نہیں سیکھتے جب تک کہ ان کی صحیح ڈھنگ سے رہنمائی نہ کی جائے. آپ نے اساتذہ کی خدمت میں یہ گزارش بھی رکھی کہ سائنس فیر سے متعلق اس اہم ورکشاپ میں جو حاضر نہیں رہے ہیں ان تک اس کے تصور کو پہنچائیں اور باہمی تعاون کو یقینی بنائیں.
اس موقع پر موجود تمام مہمانوں کے ہاتھوں کنڑا، اردو اور انگریزی زبانوں میں سائنس فیر گائیڈ بک کی رسم اجرآ عمل میں آئی. جسے بعد ازاں حاضر اساتذہ کی خدمت میں پیش کیا گیا.
فالو اَپ کے طور پر اساتذہ کو مخصوص واٹس ایپ گروپ اور باہمی رابطہ کے ذریعے مسلسل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ یہ معاونت ہر مرحلے پر ہوگی — منصوبوں کی حتمی منظوری سے لے کر مرکزی پروگرام کی تیاری تک — تاکہ مؤثر ہم آہنگی، بروقت معلومات کی ترسیل اور بامقصد شرکت کے لیے بہترین رہنمائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ثناء اسکول کی معلمہ محترمہ تسکین نے شکریہ کے کلمات پیش کیے، جبکہ پروگرام کی نظامت نہایت مہارت سے محترمہ شازیہ سلطانہ نے انجام دی۔ ٹرسٹی جناب سرفراز احمد عطار، ایڈمنسٹریٹر محترمہ انجم خان، اور ڈاکٹر عارفہ مکاندار بھی اس موقع پر موجود تھیں.
