(یومِ آزادی کے موقع پر تحریر کردہ)
سید مقصود، صدر راشٹریہ مسلم مورچہ، دہلی
حال مقیم ظہیرآباد، این جی اوز کالونی،2-1-204، این جی اوز کالونی ، ظہیرآبا د۔ ڈسٹرکٹ سنگاریڈی ۔ تلنگانہ
تاریخ میں اکثر ایسا ہواہے ، کہ افسانے حقیقت اور حقیقت افسانے بن جاتے ہیں۔ تاریخِ جدوجہد آزادی ، کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ جن لوگوں نے بھارت کی آزادی کے لئے سنگینوں میں پروئے ہوئے بچے ، نیزوں پر سجے ہوئے جوان سر، توپوں کی دہانوں کی پیاس بجھانے کے لئے بزرگوں نے اپنے جسم کانذرانہ پیش کیا۔ حکومت ، جاگیر ، تجارت ، معیشت ، سب کی بربادی ہوئی ۔یہ بربادی ان کے لئے زنجیر پا نہ بن سکی۔ آزادی سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہوئے مگر آج ان کو حرف ِ غلط کی طرح مٹایاجارہاہے۔
بھارت کو انگریزوں نے مسلمانوں سے چھینا تھا۔ اسی لئے مسلمان انگریزوںکو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ انگریزبھی مسلمانوں کو اپنادشمن۔ انگریزوں کو بھارت سے باہر بھی، مسلمانوں سے مقابلہ ہواتھا۔ کچھ مذہبی رقابتیں بھی تھیں، سونے پر سہاگہ مسلمان فطرتاً جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ نتیجتاً ظلم کاشکار دوسروں کے مقابلے مسلمان ہی زیادہ ہوئے۔ابنائے وطن مسلمانوں کے محکوم تھے۔ محکوم کو آدابِ محکومیت سکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب کہ مسلمان حاکم تھے ، اور وہ آدابِ محکومیت سے بالکل ہی ناواقف ۔ محکوم محکوم ہی ہوتاہے۔ اس کو آقا بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے حالات میںمسلمانوں کی کیفیت ؎
آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
جدوجہد ِ آزادی 1757ء کو سراج الدولہ نے جنگ پلاسی سے شروع کی۔ 1764ء کو جنگ بکسر پر یہ جنگ ختم ہوگئی۔ اس طرح بنگال پر انگریزوں کامکمل تسلط قائم ہوگیا۔ اس کے بعد اودھ کی حکومت ختم کردی گئی۔ دکن میں حیدرعلی اور ان کے لائق فرزند ٹیپوسلطان نے جم کر انگریزوں کامقابلہ کیا۔ ان کی ساری کوششیں 1799ء میں سقوط سری رنگاپٹنم پر ختم ہوگئیں۔
اس کے بعد کے دور میں اسماعیل شہید ، اور ان کے ساتھی سکھوں سے لڑتے ہوئے معرکہ ء بالاکوٹ میں شہید ہوگئے۔ اس کے بعد کوئی طاقت ایسی نہ تھی جو انگریزوں کواس ملک میں حکمران بننے سے روک سکے۔ مسلمان کب ہمت ہارنے والے تھے؟عوام نے ہی اس تحریک کوآگے بڑھایا۔
1771ء میں بنگال کے کسانوں نے حکومت کے استحصال کے خلاف تحریک شروع کی۔ اس کی قیادت مسلمان صوفی سنتوں کے ہاتھوں میں تھی۔ بے شمار صوفی سنت شہید ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔موسیٰ شاہ، چراغ علی شاہ اور ان کے ساتھی قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ 1830ء سے 1870ء تک وہابی تحریک چلی ۔ جس میں مذہبی منشاء برائے نام تھا۔ اصل میں یہ تحریک سرکارکے خلاف مسلمان کسانوں ، غریب پیشہ ور خاندانوں کاانحرافی رویہ تھا۔ ہزاروں علماء نے جام ِ شہادت نوش کیا۔
اِدھر دکن میں بھی اس تحریک کے اثرات دیکھے گئے۔ شہزادہ مبازرالدولہ ، طر ے باز خان ، ان کے ساتھیوں نے جم کر مقابلہ کیا۔ 1857ء کے غدر کے روپ میں سارے ملک میں انگریزوں کے خلاف تحریک چلی۔ جس کو انگریزوں کے وظیفہ خواروں نے غدر کانام دِیا۔ اور انھیں خطرہ محسوس ہونے لگا، اب ہمارا بہت دِنوں تک ٹِکے رہنا مشکل ہے ۔ انگریزوں نے فیصلہ کن ضرب لگانے کی ٹھانی ۔جس کے نتیجہ میں بھارت کی سرزمین مسلمانوں کے خون سے رنگین ہوگئی۔ توپوں کے دہانے مسلمانوں پر کھول دئے گئے۔ پھانسی دینے کے لئے تخت ِ داروں کی کمی ہوئی۔ تو درختوں کو ہی تختہء دار بنادیاگیا۔ اور مسلمان مجاہدینِ آزادی پھل بن کر درختوں پرلٹک گئے۔ کالے پانی کی سزا تو ایک معمولی بات تھی۔ اس کے لئے مسلمانوں ہونا ہی کافی تھا۔ کسی کڑیل نوجوان کا فوجی جیسا جسم ہونا ہی پھانسی کی سزا کے لئے کافی تھا۔ سرسید احمد خاں نے ان واقعات کو ایک دوسری نظر سے دیکھا’’درحقیقت غدر یہاں کے ہندوؤں (پونے کے برہمنوں ) نے شروع کیاتھا۔ مگر مسلمان دل جلے تھے ، بیچ میں کودپڑے ۔ ہندوگنگا نہاکر جیسے تھے ویسے ہوگئے مگر مسلمانوں کے خاندان ومعیشت ، سب برباد ہوگئی‘‘بحوالہ حیات جاوید مرتبہ الطاف حسین حالی )
دوسری طرف دن رات ، دیش بھکتی کابھجن گانے والے مختلف طبقوں کارویہ ، مادر زاد منافقوں جیساتھا۔ سرجان ملکم ، وسط ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں لکھتے ہیں ’’ہندوستان کبھی مسخر نہ ہوتا ، اگر خود ان کے فرزندان ہماری مدد نہ کرتے ‘‘ (بحوالہ ء 1857ء پہلی جنگ آزادی ۔ واقعات وحقائق ،میاں محمد شفیع )
انگریز جب بھارت میں داخل ہوئے تو آہستہ آہستہ اپنااثرورسوخ بڑھانے لگا۔ یہاں کے برہمن ، اور ان کے مددگار طبقوں نے ان کی بھرپور مدد کی ۔اسی لئے 1712ء تک مدراس ریسیڈنسی میں ہندوؤں کے جذبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے برہمنوں کوموت کی سزا نہیں دی جاتی تھی(بحوالہ ہندوستان کی قانونی تاریخ ۔ حصہ اول ۔ منصف ۔ایم پی جین ،مترجم: انوارالیقین)
انگریز تجارت پیشہ قوم ہے ان کی نذر ہمیشہ آمدنی والے مدوں پر ہوتی ہے۔ اسی لئے 1803ء میں جب انگریزوں نے اڑیسہ پر قبضہ کیا۔ پوری کے جگن ناتھ مندر کے برہمن منتظمین نے اعلان کیا کہ ان کے دیوتا کی خواہش ہے ، مندر کا بندوبست بھی انگریزحاکم ہی کریں ۔ چنانچہ مندر کے نام پر ہونے والی مروجہ رسم ، اور اس پر ہونے والے خرچ کی حکومت ہی ذمہ دار ی لے ‘‘انگریزوں نے مندروں میں زائرین پر زیارت ٹیکس لگاکر آمدنی میں اضافہ کرنے لگے ۔ اس نوعیت کے اجتماعی ٹیکس تروپتی ، کانچی ورم، وغیرہ میں عائد کئے گئے۔ اس سے کمپنی سرکار کو زائد آمدنی ہونے لگی ۔ کمپنی کے ابتدائی ایام میں کمپنی ملازمین کو اپنی بیویاں ، یا داشتائیں ساتھ لانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس لئے ان کی جنسی ضروریات پوری کرنے کے لئے مقامی عورتوں کاسہارا لیتے تھے۔ اس کے علاوہ مندروں کی دیوداسیاں بھی پجاریوں کی جانب سے پیش کی جاتیں۔ ان کی جنسی بھوک مٹانے کا یہ سب سے آسان اور قابل اعتماد ذریعہ تھا۔ ان سب کام کے عوض برہمنوں کو بہت سے مراعات عدالت ، انتظامیہ ، معیشت میںملنے لگے۔ اور وہ مالامال ہوتے گئے۔ (بحوالہ ہندوسامراج کی تاریخ ۔ سوامی دھرم تیرتھ ، ناشر یونیورسل پیس فائنڈیشن ۔ صفحہ 93) تقریبا ہر رجمنٹ میں برہمنوں کااثرورسوخ خطرناک حدتک بڑھ گیا ۔اس طرح وہ فوج کے سربرالہ بن گئے۔
انگریزوں کی ہندوستان آمد کے ساتھ ہی ایک تجارت پیشہ طبقہ ابھرکرآیا۔ اور وہ مسلمانوں کو ان کی تجارت سے انگریزوں کی طرف داری کرکے بے دخل کررہے تھے۔ اس بات کو کے ایم پانیکر نے یوں بیان کیاہے ’’ہندوستان کے بڑے بڑے ساحلی علاقوں میں یوروپی ، تجارتی مرکز کے قیام کے ساتھ ایک طاقتور ہندوستانی سرمایہ دار طبقہ پید اہوگیاتھا۔ جس کا غیرملکی تجار کے ساتھ قریبی روابط تھے۔ جوان کے ساتھ تجارت کر کے بھاری منافع کماتے تھے۔ بنگال کے مارواڑی لکھ پتی طبقہ جنہیںمسلمانوں کی حکومت سے پیدائشی نفرت تھی،کمپنی اور برطانوی تاجروں کے یہ ہندوستانی کارندے ، گماشتے ، اور دلال کہلاتے تھے۔ یہی گماشتوں نے غیر ملکی انگریزوں کے پاس کام کیا۔ اور1857ء کی بغاوت میں انگریز دوستی کاپارٹ ادا کیا۔ (بحوالہ انقلاب 1857ء ۔ پی سی جوشی ۔ صفحہ 167) آج ان ہی کی نسل ٹاٹااور برلا کے نام سے جانی جاتی ہے۔
سکھوں کو عام طورپر قومی ہیرو کے روپ میں پیش کیاجاتاہے مگر ا ن کاکرداربھی بڑا مشتبہ رہا ہے۔ پہلے پہل انگریزی فوج میں بنگال کے چنڈال ، کیرلہ کے نائر ، پنجاب کے سکھ ہندوستانی ، انگریزی فوج میں داخل ہوئے۔ بعد کے دور میں مسلمان بھی انگریزی فوج کاحصہ بنے۔ 1857ء کے غدر میں سکھوں نے مسلمانوں کے ساتھ بڑا مکرو ہ کرداراداکیا۔ سکھوں کی بہیمیت کی ایک دردناک مثال مسٹر تھامس نے پیش کی ہے۔ جو انھوں نے پنجاب کی کسی باغی ریجمنت کے مسلمان سپاہیوں سے برتی تھی۔ وہ لکھتے ہیں ’’سر ہنری کاٹن نے سنایاکہ شام کے وقت ایک سکھ اردلی ، میرے کہنے میں آیا۔ اور سلام کرکے پوچھنے لگا۔ آپ غالباً یہ دیکھنا پسندکریں گے کہ ہم نے قیدیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیاہے ۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ کہیں قیدیوں کے ساتھ زیادتی نہ کی ہو۔ میں فوراً لپک کران کے خیموں میں گیاجہاں پرمیں نے ان بدنصیب مسلمانوں کو نرغے میں بے حال دیکھا۔ یعنی مشکیں باندھ کر ان کو برہنہ زمین پر لٹارکھاتھااورسر سے پاوں تک تمام جسم کوگرم تانبے سے داغ دیاگیاتھا۔ اس روح فرسا نظارے کو دیکھ کر میں نے اپنی پستول سے ان کاخاتمہ کردینا ہی ان کے حق میں ضروری سمجھا ‘‘(بحوالہ پہلی جنگ آزادی ، واقعات وحقاق ،میاں محمدشفیع ۔ صفحہ نمبر 177-178)
ایک اور طبقہ جن کاکام صدیوں سے سیوا کرناہی تھا۔ انھوں نے بھی اپنے نئے آقاؤں کی برے وقتوں میں بھرپور مدد کی۔ جاہل ، غریب ، شاگرد پیشے ، جیسے بیرے ، خانسامے (باورچی ) ، سخے ، دھوبی ،نائی ، فیل بان وغیرہ نے جب غدر برپا ہوا، انگریزی فوج قلعہ میں داخل ہوکر قتل عام کررہی تھی۔ بادشاہ کے رشتہ دار بھی ان کی مددکررہے تھے اور اپنی رنجشیں نکال رہے تھے۔ بادشاہ بہادر شاہ ظفر پر بغاوت برپاکرنے کی پاداش میں مقدمہ چلا۔ بادشاہ کے سکریڑی چنی لال ان کے خلاف گواہ دینے میں سب سے آگے تھے۔ اور اسی بنیاد پر ان کو(بادشاہ کو)سزادی گئی۔ (بحوالہ پہلی جگن آزادی واقعات وحقائق ۔ محمد شفیع ۔ صفحہ نمبر 320)
ایک اور پسماندہ طبقہ جو شود راوراَتی شودر کہلاتاہے ، اس میں بھی انگریز آقاؤں سے اپنے مقصد کے تحت برہمنوں کے بنائے سماجی استحصالی نظام سے چھٹکارے کے لئے اس استحصالی نظام میں ان طبقو ں کو سماجی انصاف سے محروم کردیاتھا۔ اور انگریزوں کے راج میں وہ عافیت محسوس کررہے تھے۔ برہمنوں کے ظالمانہ قانون کے مقابلے میں انگریزوں کے مساوات کی بنیاد پر قانون ان کے لئے نعمت تھا۔ اسی لئے شودروں اتی شودروں کو مہاتما جیوتی باپھولے ، (1827تا1870) نے 1857ء کے غدر سے دور ہی رہنے کامشورہ دیا اور اس جنگ آزادی کووہ صرف بھٹ ،(برہمن)اور بنیوں کی آزادی کی جنگ کہتے تھے۔ عوام کی اکثریت کو سیاسی آزادی سے زیادہ سما جی آزادی کی ضرورت ہے۔ انگریزوں کی آمد کے ابتدائی دور میں اعلیٰ ذات والوں نے ان کی بھرپور مدد کی۔ اور برٹش راج قائم کرنے میں ان کا بھی حصہ رہا۔ مگر جب انگریزوں نے یہاں کے قانون ، مذہب ، اور ذات پات کے نظام میں دخل اندازی شروع کی تو آزادی کی تحریک شروع ہوئی۔ منوکے قانون کی رو سے شودروں اور اتی شودروں کو تعلیم ، تجارت ، اور ہتھیاروں کااستعمال تعزیراتی جرم ہے۔ انگریزوں نے یہ سب چیزیں ، دینی شروع کیں ۔ اس کے اچھے نتائج بھی انگریزوں کے حق میں ہورہے تھے ۔ یکم جنوری 1818ء کو پونہ کا پیشواراج ختم کرنے کے لئے 5000کی ریجمنٹ بھیجی گئی۔ 20ہزار پیشوا کی فوج بری طرح ہار گئی۔ اس کے بعد انگریزوں نے تعلیم کے دروازے سب کے لئے کھول دئے۔ مدراس اور کولکتہ میں یونیورسٹیاں قائم کی گئیں۔ سب کے لئے ایک ہی قانون مساوات کی بنیاد پر لاگو کیاگیا۔ جس کے نتیجے میں 1775ء کو نندکمار نامی ، ایک برہمن کو جعلی دستاویزات تیار کرنے کی پاداش میں پھانسی پر لٹکا دیا۔ یہ ایسا کام تھا، مسلمانوں کے دور ِ اقتدار میں بھی کسی برہمن کو پھانسی کی سزا دی گئی ہو۔ مگر یہ انگریز عجیب قوم تھی ، انھوں نے نندکمار کو پھانسی پر لٹکادیا۔ 1850ء میں ایسا قانون پاس کیاگیا، مذہب تبدیل کرنے والوں کوان کی آبائی جائیداد سے محروم نہیں کیاجائے گا۔ 1852ء میں ہندوبیواؤں کی دوبارہ شادی کاقانون پاس کیاگیا۔ ستی پر روک لگائی گئی۔ ان سب چیزوں سے جب اعلیٰ ذات کا اقتدار خطرے میں پڑتا محسوس ہواتو انھوں نے اپنی آزادی کے لئے تحریک شروع کی۔ اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔
برہمنوں کی ایک خاص بات ہے ، وہ وقت اور حالات کے لحاظ سے اپنا طریق کار تبدیل کرتے ہیں، اپنے مقصد سے انحراف کے بغیر۔ 1875ء میں سوامی دیانند سرسوتی نے آریہ سماج تشکیل دیا۔ 1857ء کے غدر کے بعد برہمن سکتے میں تھے ۔ 1875ء کے بعد یہ دیکھ رہے تھے ، کہ انگریزدیانند سرسوتی کے ساتھ کیاکرتے ہیں۔ 10سال کے انتظار کے بعد 1885ء میں کانگریس کی بنیاد ڈالی ۔ اور انگریزوں سے صلح کل والا رویہ روارکھا۔ 1827ء سے 1920ء تک کانگریس کے جتنے بڑے رہنما ہوئے ، انھوں نے انگریزی راج کے بارے میں کیاکہا، اس کی چند مثالیں ::
دادابھائی نوروجی نے کہا’’ ہندوستان کوبرطانیہ کی انسانیت دوستی ، اور ترقی یافتہ تہذیب وتمدن سے بڑا فائدہ پہنچا۔ برطانوی حکومت کااصل منشاء ہندوستانیوں کو مہذب اور متمدن بناناتھا‘‘
گوپال کرشن گوکھلے کا خیال تھاہندوستا ن میں برطانوی شہنشاہیت کاقیام منشائے خداوندی سے ہواہے۔ اور اس کا خاص مقصد ہندوستانیوں کو زیادہ فائدہ پہنچاناہے۔ جب کہ مسلمان 1757ء کوبنگال میں ، 1857ء کو پورے ملک میں، 1947ء میں آزادی کے لئے قتل عام کا شکار ہوتے رہے۔ اور انگریزوں سے لڑتے ہوئے کالے پانی کی سزا کاٹ رہے تھے۔ 1857ء کے غدر کے بعد یہاں کے اعلیٰ ذاتوں نے اپنارویہ یکلخت تبدیل کردیا۔ بنکم چند چٹرجی جیسادیش بھکت کہلائے جانے والاوندے ماترم کاخالق ، 1858ء سے 1891ء تک ڈپٹی مجسٹریٹ کی حیثیت سے انگریز سرکار کی خدمت میں لگاہواتھا۔ دوسری طرف مولانا فضل الحق خیرآبادی اوران کے ساتھی جہاد کافتویٰ دے کر کالے پانی کی سزا کاٹ رہے تھے۔ مولاناحسرت موہانی مکمل آزادی کا نعرہ دے کر جیل جانا ان کے معمول میں داخل ہوگیاتھا۔ جب کہ کانگریس کے چوٹی کے رہنما صرف ہوم رول کی بات کررہے تھے۔کانگریس کے رہنما بال گنگا دھرتلک کے حساب سے ہوم رول کامطلب شہنشائے برطانیہ سے بغاوت نہیں ، بلکہ مکمل تعاون تھا۔ وہ صرف یہ چاہتے تھے ، انتظامیہ میں برہمنوں کی حصہ داری بھی ہو۔ یہ تھا ان کاہوم رول۔ 1885ء میں کانگریس کاقیام عمل میں لایاگیا۔ اپنے قیام سے لے کر 1930ء تک یعنی 55سال تک ملک کی آزادی کے لئے ایک قرار داد تک منظورنہیں کروائی۔ جمیعتہ العلماء کے پنڈال میں اپنااجلاس منعقد کرتے تھے۔ اور مسلمان آزادی کے حصول کے لئے قربانیوں پرقربانیاں دیتے جارہے تھے۔
1920ء میں جب گاندھی نے کانگریس کی قیادت سنبھالی ، تو مسلمانوں کو نظر انداز کرنا شروع کیا۔ سب سے پہلے لالہ لاجپت رائے ، شیرپنجاب جو آریہ سماج کے اہم رہنما، اور کانگریس کے کارکن تھے، انھوں نے دوقومی نظریہ کاشوشہ چھوڑا۔ اس طرح ایک مقصد کے تحت مسلمانوں کو ہندواور مسلمان کے مقابلے میں کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جمہوریت میں سروں کی گنتی ہوتی ہے ، ہندوؤں کے نام پر شودروں اور اَتی شودروں کو ہندوبنانے اور بنائے رکھنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس طرح کانگریس نے اپناجو مقصد طئے کیاتھا، اس کی تکمیل آرایس ایس آج کررہی ہے۔ اسی لئے کہاجاتاہے کہ کانگریس آرایس ایس کی ماں ہے۔1938ء میں مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے ترجمان القرآن ، مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش میں لکھتے ہیں ’’ہندومت کی اساس کسی عقیدے اور اجتماعی عمل ، نظام تہذیب پر قائم نہیں ہے۔ اور ان کی وحدت صرف وطن پرستی سے ہی ہوسکتی تھی۔ اسی لئے انھوں نے اسکوپروان چڑھایا‘‘
ان تمام حالات کا تجزیہ ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کررہے تھے ۔ آنے والے دِنوں میں برہمنوں کارویہ غیر برہمنوں ، اور مسلمانوں کے ساتھ کیاہوگا؟اپنے اخبار’’بہش کرت بھارت ‘‘ کے اداریہ میں لکھتے ہیں، ’’اگر یہی حالت رہی توغلامی میں ہم جن کی باتیں ، نہیں سن سکتے ۔ آزادی ملنے کے بعد ان کی لاتیں کھانی پڑیں گی‘‘
ملک کی آزادی کے لئے اور ملک کے لئے جو کچھ مسلمانوں نے کیا، وہ سب پانی پر لکیرہوگیا۔ اور مسلمان پیدا ہونے سے پہلے ہی دیش دروہیوں کی فہرست میں اس کانام درج ہوجاتاہے۔ ضرور ت پڑنے پر ہمارا خون بھارت ماتا کے ماتھے کاتلک بن جاتاہے۔ پوجاکا کنول بن جاتاہے۔ اور ہم نے آزادی کے لئے جو کچھ کیا، آج پتہ چلاکہ وہ برہمنوں کی آزادی تھی اور آج ہم برہمنوں کے غلام ہیں۔ اس بات کااحساس اگر ہم کو ہوجائے تو ہماری اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کریں گے ایسی امید کی جاسکتی ہے۔ اور ہرسال 15؍اگست ہم کو یہ پیغام دیتاہے ۔ کانگریس ، بی جے پی ، سیکولراور کمیونل کے نقطہ ء نظر سے نہیں ، ظالم اور مظلوم کے نقطہء نظر سے سوچناشروع کریں گے تو ہمارے رویہ میں یکساں تبدیلی آئے گی۔ ایسی امید کی جاسکتی ہے۔
