وصی اللہ عبدالحلیم مدنی

ناظم ضلعی جمعیت اہلحدیث سدھارتھ نگر 

ارباب جماعت و جمعیت کے لیے انتہائی مسرت و شادمانی کی بات ہے کہ آج میرے بڑے بھائی اور حسن اخلاق کے پیکر جناب محمد فاروق صاحب کی پرخلوص دعوت پر ہماری جماعت و جمعیت کے قابل فخر قادر الکلام شاعر، بےمثال مناظر اور بے باک خطیب مولانا ڈاکٹر ابوالماثر عبدالحمید حامد الانصاری انجم جمال اثری رحمہ اللہ کے فرزند دلِ بند، صاحب طرز ادیب، ماہر فنونِ ادب، معروف و بےباک صحافی، عظیم نقاد، بہترین تبصرہ نگار، متعدد کتابوں کے مصنف و مؤلف اور سیال و گہربار قلم کے مالک، جناب سہیل انجم صاحب اپنے مصاحبین کے ہمراہ نوگڑھ تشریف لائے اور ضلعی جمعیت کے ذمہ داروں سے ملاقات اور ضیافت کا شرف بخشا۔ راقم کے علاوہ مخیرِ جماعت اور مہمان نواز مولانا رفیع احمد ندوی، نائب ناظم ضلعی جمعیت اھل حدیث سدھارتھ نگر، مولانا محمد ہاشم سلفی، ناظم مقامی جمعیت اہل حدیث حلقہ نوگڑھ، مولانا امیراللہ یوسفی آفس سکریٹری نے اپنے مہمانوں کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے اپنی مسرت و شادمانی کا اظہار کیا۔ ضلعی جمعیت کی دعوتی، علمی اور متنوع نشاطات پر آپ نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا، مقامی اور ضلعی جمعیتوں کے ذمہ داروں کی شبانہ روز کاوشوں کو سراہتے ہوئے ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا، آپ نے ضلعی جمعیت کی لائبریری کو اپنی تالیف کردہ بعض کتابیں ھدیہ کیں، اس کے بعد حسب پروگرام یہ علمی کارواں دوپہر کا کھانا تناول کرنے کے لیے علم دوست اور علماء نواز جناب محمد فاروق صاحب کے دولت کدے پر تشریف لے گیا، پرتکلف دسترخوان پر میرے ممدوح محترم کے علاوہ آپ کے مشیر خاص، سفری مصاحب اور جماعت کے بزرگ عالم دین مولانا محمد علی فیضی، مولانا صلاح الدین سلفی، ڈاکٹر افضل حسین، راقم الحروف، جمعیت کے آرگنائز مولانا امیراللہ یوسفی اور مولانا عبدالمعبود فیضی موجود تھے۔

کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مہمانان گرامی کے علاوہ راقم، جناب محمد فاروق، مولانا رفیع احمد ندوی، مولانا عبدالرحیم مونس فیضی کی تعزیت اور ان کے والد گرامی کی نماز جنازہ میں شرکت کی خاطر ان کے آبائی گاؤں کونڈرا گرانٹ کرمہوا تشریف لے گئے، دو بجے نماز جنازہ ادا کی گئی

تدفین اور دعا سے فارغ ہونے کے بعد جناب مونس صاحب کی تعزیت اور انھیں صبر و شکیبائی کی تلقین کرتے ہوئے نوگڑھ واپس آگئے، واپسی پر ہم لوگوں کے ہمراہ ہمارے عزیز مکرم مولانا عتیق الرحمن سراجی بھی تھے، چائے نوشی کے بعد ہم نے اپنے معزز مہمانوں کو پرنم آنکھوں اور دعائیہ کلمات کے ساتھ رخصت کیا، اس طرح آج کا دن غم و اندوہ کے باوجود تاریخی اور یادگاری تھا، ایک ادبی نششت کے انعقاد کا بھی پروگرام تھا جو بوجوہ نہیں ہوسکا تاہم میرے مہمان خصوصی نے ماہ نومبر میں شعر و سخن کی اس نورانی محفل کے انعقاد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ہمارے مہمان خصوصی جناب سہیل انجم صاحب اعلی اخلاق و اقدار اور مقناطیسی شخصیت کے مالک ہیں، پہلی ملاقات میں ہر شخص ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔

آپ کی متانت و سنجیدگی، سادگی، کشادہ ظرفی، علمی و ادبی شخصیت دور حاضر کے مُتَعَالِمِین کے لیے درس عبرت ہے۔

ياليت قومى يتفكرون!

اللہ! ہماری جماعت کے ان مایہ ناز سپوتوں کو حاسدین کے شرور و فتن سے تاابد مأمون رکھے۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے