کسی کو بھی مذہب یا برادری کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا اختیار نہیں۔
گلبرگہ 25 / اگست(ڈاكٹر ماجد داغی): ریاست کی معروف ادیبہ محترمہ بانو مشتاق سے دسہرا تقریب کے افتتاح کرانے کے اعلان پر پوری ریاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، کرناٹک کے وزیراعلی سدرامیا نے عالمی سطح کی معروف کنڑا مصنفہ بانو مشتاق کو میسور دسہرا تقاریب 2025 کے جشن کا افتتاح کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب ریاست کے لیے باعثِ فخر ہے انہوں نے اس فیصلے کا پرزور دفاع کیا ہے. ان کے علاوہ کئی افراد نے اس فیصلے کو ثقافتی اتحاد کی جانب ایک مثبت اقدام قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب بعض حلقوں نے ان کی ذاتی مذہبی وابستگی پر سوال اٹھاتے ہوئے اس اقدام پر اعتراض بھی کر رہے ہیں. اس اعلان کے بعد سب سے پہلے جس لیڈر نے اپنا اعتراض جتایا ہے و بسن گوڈا پاٹل یتنال ہے ۔ جس کے بیان پر محترمہ کنیز فاطمہ چیئرمین کرناٹک سلک انڈسٹریز کارپوریشن و رکن اسمبلی گلبرگہ شمال نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یتنال ہمیشہ ریاست میں بھائی چارہ اور یکجہتی کی فضاء کو خراب کرنے کا کام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یتنال آئے دن مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز اور اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں، یہ نہ صرف آئین ہند کی خلاف ورزی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو مجروح کرنے اور معاشرے میں نفرت پھیلانے کی کھلی کوشش بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس قسم کے تعصب پر مبنی اور غیر ذمہ دارانہ جملے استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے جذبات سے کھیلیں دسہرا افتتاح کو لے کر ان کے گھناؤنے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت ہونی چاہیے۔
محترمہ کنیز فاطمہ نے مزید کہا کہ جمہوریت میں ہر شہری کو برابری اور عزت سے جینے کا حق ہے اور کسی کو بھی مذہب یا برادری کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا اختیار نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ محترمہ کنیز فاطمہ نے یتنال کے ہندو لڑکوں کو مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے پر پانچ لاکھ انعام کے اعلان دینے کے شر انگیز بیان پر کرناٹک کے وزیراعلی سدرامیا اور اسپیکر یوٹی قادر کو ایک تحریری یاداشت پیش کرتے ہوئے سخت اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے.
