احمد حسین مظاہریؔ پرولیا
قارئین! اس پرفتن و پر آشوب و تلاطم خیز اور قحط الرجال کے دور میں جہاں دشمنانِ اسلام ہرکس و ناکس اسلام کو بدنام کرنے نیز اسلام کو مٹانے کے مشتاق ہیں،ایسی صورتِ حال میں مسلمانوں کے مابین بالخصوص نوجوان طبقے میں ہمارے اسلاف کی تاریخ کو بیان کرنا فی الوقت اہلِ علم حضرات کے ذمے فرضِ عین کی حیثیت رکھتی ہے۔۔۔۔!
قارئین! ذیل میں فتنۂ خلقِ قرآن کے بارے میں مختصر وضاحت سپردِ قرطاس کی جارہی ہے، باالاستیعاب مطالعہ کریں!!
قارئین! مامون نے خلقِ قرآن کے مسئلہ پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر دی، ۲۱۸ ھ میں اس نے والیِ بغداد اسحٰق بن ابراہیم کے نام ایک مفصل فرمان بھیجا جس میں عامۂ مسلمین اور بالخصوص محدثین کی سخت مذمت اور حقارت آمیز تنقید کی،ان کو خلقِ قرآن کا عقیدہ سے اختلاف کرنے کی وجہ سے توحید میں ناقص،مردود الشہادۃ،ساقط الاعتبار اور شرار امت قرار دیا،اور حاکم کو حکم دیا کہ جو لوگ اس مسئلہ کے قائل نہ ہوں،ان کو ان کے عہدوں سے معزول کر دیا جائے،اور خلیفہ کو اس کی اطلاع کی جائے۔°
(°) اس خط کا مکمل مضمون تاریخ طبری میں موجود ہے۔
یہ فرمان مامون کی وفات سے چار مہینے قبل کا ہے،اس کی نقلیں تمام اسلامی صوبوں کو بھیجی گئیں اور صوبہ داروں (گورنروں) کو ہدایت کی گئی کہ اپنے اپنے صوبوں کے قضاۃ کا اس مسئلہ میں امتحان لیں،اور جو اس عقیدہ سے متفق نہ ہو اس کو اس کے عہدہ سے ہٹا دیا جائے۔
اس فرمان کے بعد مامون نے حاکم بغداد کو لکھا کہ سات بڑے محدثین کو (جو اس عقیدہ کے مخالفین کے سرگروہ ہیں، اس کے پاس بھیج دیا جائے،وہ سب آئے تو مامون نے ان سے خلقِ قرآن کے متعلق سوال کیا، ان سب نے اس سے اتفاق کیا اور ان کو بغداد واپس کر دیا گیا،جہاں انہوں نے علماء و محدثین کے ایک مجمع کے سامنے اپنے اس عقیدہ کا اقرار کیا لیکن شورش ختم نہیں ہوئی اور عام مسلمان اور تقریباً تمام محدثین اپنے خیال پر قائم رہے۔۔
انتقال سے پہلے مامون نے اسحٰق بن ابراہیم کو تیسرا فرمان بھیجا، جس میں ذرا تفصیل سے پہلے خط کے مضمون کو بیان کیا تھا،اور امتحان کے دائرہ کو وسیع کر کے اہلکارانِ سلطنت اور اہلِ علم کو بھی اس میں شامل کر لیا تھا،اور سب کے لئے اس عقیدہ کو ضروری قرار دیا تھا،اسحٰق نے فرمان شاہی کی تعمیل کی،اور مشاہیر علماء کو جمع کر کے ان سے گفتگو کی،اور ان کے جوابات اور مکالمہ بادشاہ کے پاس لکھ کر بھیج دیا،مامون اس محضر کو پڑھ کر سخت برافروختہ ہوا،ان علماء میں سے دو (بشر بن الولید اور ابراہیم ابن المہدی) کے قتل کا حکم دیا،اور لکھا کہ بقیہ میں سے جس کو اپنی رائے پر اصرار ہو،اس کو پابجولاں اس کے پاس بھیجدیا جائے۔ چنانچہ بقیہ تیس (۳۰) علماء میں سے (جو پہلے قائل نہیں ہو رہے تھے) چار اپنی رائے (عدم خلق قرآن) پر قائم رہے،یہ چار اشخاص امام احمد ابن حنبل،سجادہ،قواریری اور محمد بن نوح تھے،دوسرے دن سجادہ اور تیسرے دن قواریری نے بھی اپنی رائے سے رجوع کیا،اور صرف امام اور محمد بن نوح باقی رہے جن کو مامون کے پاس طرطوس ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں روانہ کر دیا گیا،ان کے ہمراہ انیس دوسرے مقامات کے علماء تھے،جو خلق قرآن کے منکر اور اس کے غیر مخلوق ہونے کے قائل تھے۔ ابھی یہ لوگ رقہؔ ہی پہونچے تھے کہ مامون کے انتقال کی خبر ملی،اور ان کو حاکم بغداد کے پاس بغداد واپس کر دیا گیا،راستہ میں محمد بن نوح کا انتقال ہو گیا اورامام اور ان کے رفقاء بغداد پہونچے۔
مامون نے اپنے جانشین معتصم بن الرشید کو وصیت کی تھی کہ وہ قرآن کے بارے میں اس کے مسلک اور عقیدہ پر قائم رہے اور اسی کی پالیسی پر عمل کرے (وخذ بسیرۃ اخیک فی القرآن) اور قاضی ابن ابی دودا کو بدستور اپنا مشیر اور وزیر بنائے رہے،چنانچہ معتصم نے ان دونوں وصیتوں پر پورا پورا عمل کیا۔۔۔
اب مسئلہ خلقِ قرآن کی مخالفت اور عقیدہ صحیحہ کی حمایت اور حکومت وقت کے مقابلہ کی ذمہ داری تنہا امام احمد بن حنبل کے اوپر تھی، جو گروہِ محدثین کے امام اور سنت و شریعت کے اس وقت امین تھے۔۔
امام احمد کو رقہؔ سے بغداد لایا گیا۔ چار چار بیڑیاں ان کے پاؤں میں پڑھی تھیں،تین دن تک ان سے اس مسئلہ پر مناظرہ کیا گیا،لیکن وہ اپنے اس عقیدہ سے نہیں ہٹے۔ چوتھے دن والیِ بغداد کے پاس ان کو لایا گیا۔ اس نے کہا کہ احمد! تم کو اپنی زندگی ایسی دوبھر ہے،خلیفہ تم کو اپنی تلوار سے قتل نہیں کرے گا، لیکن اس نے قسم کھائی ہے کہ اگر تم نے اس کی بات قبول نہ کی تو مار پر مار پڑے گی اور تم کو ایسی جگہ ڈال دیا جائے گا جہاں کبھی سورج نہیں آئے گا۔ اس کے بعد امام کو معتصم کے سامنے پیش کیا گیا، اور ان کو اس انکار و اصرار پر (۲۸) کوڑے لگائے گئے،ایک تازہ جلّاد صرف دو کوڑے لگاتا تھا، پھر دوسرا جلاد بلایا جاتا تھا، امام احمد ہر کوڑے پر فرماتے تھے :
{اعطونی شیئاً من کتاب اللہ او سنۃ رسولہ حتی اقول بہ}
میرے سامنے اللہ کی کتاب یا اس کے رسول کی سنت سے کچھ پیش کرو تو میں اس کو مان لوں۔۔۔۔
(اقتباس:تاریخ دعوت و عزیمت)
