مولانا مفتی صغیر احمد نقشبندی، مولانا من اللہ علوی شطاری کے خطابات
بیدر ۔3 ستمبر(محمدیوسف رحیم بیدری): تمام انبیاء اکرام اپنی امت کے سامنے اپنے معجزات کے ساتھ پیش ہوکرایمان کی دعوت دی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی لوگوں کے سامنے پیش فرمایالوگ آپ کے کردار کو دیکھ کر ایمان لیے آئے۔مکی دور میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شعب ابی طالب میں3سا لتک شوشل بائیکاٹ کیا گیاآپ اور اپ کے جانثار فاقوں پر مجبور ہوگئے-بھوک کی شدت سے بے ہوش ہوجاتے لیکن یہ ایمان کے دامن کو تھامے رہے۔ ان روحانی و پاکیزہ خیالات کا اظہارنجم المحدثین علامہ مفتی حافظ سید شاہ صغیراحمد صاحب نقشبندی ، شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ حیدرآباد ’’حضور ﷺ کے مکی دور سے عصر حاضر کو پیغام ِ عمل ‘‘نے نبی خانہ مبارک بیدر میں جناب ڈاکٹرالحاج سیّدحسام الدین قادری عزیز صدر قاضی دارالقضاء ت بیدر کی نگرانی میں منعقدہ 10؍روزہ محافل میلاد النبی ﷺ کی مجلس میلاد کو بعنوان ’’حضور ﷺ کے مدنی دور میں دورحاضر کے مسائل کاحل‘‘ ، کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے تمام خاندان والوں اورکفار و مشرکین کو جمع کرکے فرمایا کہ اے لوگو، اگر میں کہدوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک فوج آرہی ہے اور وہ تم پر حملہ کرنے والی ہے توکیا آپ لوگ میری بات کا یقین نہیں کریں گے۔سب نے کہاکیوں نہیں آپ توامین و صادق ہیں۔مولانا نے رات دیر گئے تک خطاب کرتے ہوئے دعا فرمائی۔مولانا سید شا ہ ، من اللہ علوی شطاری معتمد عمومی آل انڈیا مشایخ بورڈ حیدرآباد بعنوان ’’معیشت کے متعلق امت کے لیے نبوی ہدایات‘‘مخاطب کرتے ہوئے اپنے پر اثر خطاب میں کہاکہ عرب میں اس دور میں یہ رواج تھا کہ لوگ کسی دیانت دار آدمی کو اپنے ساتھ ملا لیتے اور یہ شرط ہوتی کہ وہ ان کا مال لے کر باہر جائے اور نفع میں شریک ہو گویا یہ ایک تجارتی ایجنسی کی شکل تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت اور امانت کا شہرہ بہت ہو چکا تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑتی بلکہ لوگ خود اپنا مال لا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کرتے۔ زیادہ نفع اور دیانت وامانت کو بنائی پر لوگوں کا رجحان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بہت بڑھ گیا جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک سفر ہوتے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعریف کرتے۔ ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء اور حضرت قیس بن سائب کے ساتھ مل کر کام کیا۔ حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیانت داری میں بے مثال تھے۔ ان سے لین دین کے معاملے میں کبھی جھگڑا نہیں ہوا تھا۔ ایک دفعہ عبداللہ بن ابی الحمساء نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معاملہ کیا اور کہا کہ میرے آنے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھریں میں ابھی آتا ہوں یہ کہہ کر وہ چلے گئے اور اپنے کام میں اس حد تک مشغول ہوئے کہ اپنی بات بھول گئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعدہ پورا کرنے کے لئے تین دن تک وہاں قیام فرمایا وہ تین دن کے بعد آئے تو بہت شرمندہ ہوئے ۔کسب حلال، فریضہ سب سے اہم فریضہ ہے ،امین اور سچا تاجر نبیوں اور صدیقوں کے ساتھ ہوگا ،ذخیرہ اندوزی کرنے والا آدمی ملعون ہے ،بہترین کمائی ہاتھ کی کمائی ہے ۔مولانا نے بانیا ن نبی خانہ کی مغفرت کی دعا کی۔جناب قاضی سیّداویس احمد برادر قاضی نے تمام مہمانوں اور عاشقان رسول اﷲﷺ کا استقبال کیا اورانتظامات کی نگرانی کی۔جناب قاضی سیّد معین الدین حمزہ ، محمدعبیداﷲخان عطاری، محمد شفیع الدین نے حمد ، نعت کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔مولانا کی دعائے سلامتی، سلام وفاتحہ کے بعدیہ روحا نی تقریب تکمیل ہوئی ۔ جناب محمدعطاء اﷲ صدیقی،نے نظامت کے فرائض بحسن وخوبی انجام دیئے ۔مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی صدر نائب قاضی دارالقضاء ت بیدر نے اظہار تشکر کیا۔اس بات کی اطلاع جناب عبدالصمد منجووالا نے دی ہے۔
