انصر نیپالی

پڑھا جب سے کلمہ رسول کا مری قسمتوں کو جگا دیا

ملی جب سے عظمت مصطفیٰ مجھے سب سے اونچا بنا دیا

جو نذیر تھا جو بشیر تھا جو سراپا ماہ منیر تھا

تری سیرتوں کے نقوش کو میں جہان دل میں بسا دیا

جو صداقتوں کا امین تھا جو محبتوں کا سفیر تھا

جو دکھوں میں سب کو سنوارتا اسے آج ہم نے رلا دیا

نہ وہ عظمتیں نہ بصیرتیں نہ نجات کی کوئی صورتیں

جو ملا تھا درس قرآن سے اسے ہم نے کب کا بھلا دیا

کبھی یاد "غزوۂ بدر” کر کبھی سامنے تو” احد "بھی لا

نہ عقیدتوں کو شمار کر تجھے راہ حق سے ہٹا دیا

کبھی پڑھ تو سیرتِ مصطفیٰ کبھی دیکھ فتح مبین کو

جو ڈرے تھے ان کو امان دی جو گرے تھے ان کو اٹھا دیا

اٹھو مومنو! یہ عہد کرو کہ چلیں گے حکم رسول پر

مرے مصطفیٰ کی ہیں محنتیں مجھے اپنے رب سے ملا دیا

نہ غرض ہے انصر قرآن سے نہ نبی کے اسوۂ ذات سے

فقط جشن آمد مرحبا نے مجھے ہر طرح سے مزا دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے