اسماعیل قمر بستوی
ہمیں ایسا مسیحا چاہیے تھا
جسے ہونا ہی بہرہ چاہیے تھا
جو بچہ توڑتا ہے پتھروں کو
اسے اسکول جانا چاہیے تھا
سروں سے اوڑھنی کم ہورہی ہے
حیا کا پاس گہنا چاہیے تھا
وہ بادنھے کیوں نہیں تمہید لمبی
جسے توصیف و تمغہ چاہیے تھا
ہے خالی پیڑ کی ہر ایک ڈالی
کوئی ساون میں جھولا چاہیے تھا
ترنم سے جو خالی تھا سخنور
کلام اس کا بھی سننا چاہیے تھا
غرض ہوتی نہ جس میں کوئی شامل
کوئی ایسا بھی سجدہ چاہیے تھا
قمر ہونٹوں کو سب نے سی لیا ہے
ستم پہ کچھ تو کہنا چاہیے تھا
