میرؔبیدری
لئے قانون خود کو شاد مت کر
ہمارا یہ سمئے برباد مت کر
کہا تھا ، یاد ہے استاد مت کر
تو لاٹھی کھاکے اب فریاد مت کر
یہاں نفرت کی چلتی ہیں ہوائیں
محبت کی کوئی بنیاد مت کر
نہیں بتلاتے ہم طاقت خود اپنی
کہ ہم پرحملہ بر تعداد مت کر
تو نے اچھے دِنوں کی سوچ رکھی
زباں سے شور مت کر ، یاد مت کر
اپوزیشن ہے تیرا کام زیرو
ذرا سن ، خود کو اب آباد مت کر
بڑا ہی معتبر انسان ہوں میرؔ
مجھے آخر کو تو جلاد مت کر
