ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا
بتا دو اس کو جو پوچھے کوئی کہ کیا ہیں حسینؓ
بھلایا جا نہ سکے جو وہ سانحہ ہیں حسینؓ
ملے گا حشر میں ذبحِ عظیم کا رتبہ
مقامِ عزمِ مصمم کا آئینہ ہیں حسینؓ
پہنچ نہ پائیں گی اس کی ندامتیں اُن تک
یزید ڈھونڈتا پھرتا ہے، ماورا ہیں حسینؓ
بچے گا حشر تک اب خانوادۂ اسلام
کہ مصطفٰی کے گلستان کی بقا ہیں حسینؓ
وہ تیر کھائی ہنسی سے بدل گئی تاریخ
کہ شیر خوار میں بھی عکسِ حوصلہ ہیں حسینؓ
مٹانا ان کو تجھے پڑ گیا بہت مہنگا
یزید یاد رہے خود تری قضا ہیں حسین
سنانِ ظلم پہ بھی ذکرِ رب رہا جاری
کٹے سے سر کی تلاوت کا معجزہ ہیں حسینؓ
اِسی کی لاج بچانے کو گھر لٹا ڈالا
نبی کے دینِ مقدس کا آسرا ہیں حسینؓ
