ڈاکٹر ثناء اللہ شریف، بنگلورو۔

موبائل :9341854740 

لقد کان لکم فی رسول للہ اسوۃ حسنہ (بے شک تمہارے لئے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے ) 
جب حرا سے ہوید اہوئی روشنی
   تیرگی چیخ اٹھی روشنی روشنی
ابولمجاہد زاہدؔ
ربیع الاول اور یوم ِ اساتذہ کے حسین امتزاج سے ذہن میں پیارے نبی محمد عربی  ﷺ کا نہایت اعلیٰ وارفع ، بلندوبالا اور پاکیزہ ومطہرہ اسوہ رہ رہ کرآیا۔ جس کے معلمانہ وشفیقانہ کردار کی وجہ سے اپنی قوم جو تہذیب وتمدن سے ناآشنا ، جنگ وجدال اور لوٹ مار کی خوگر ، جہالت کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں ڈوبی ، بھٹک رہی پیاسی قوم، وہ تہذیب وشرافت کی کیسے علمبردار بن گئی۔ امن وامان اور علم کی شمعیں روشن کرنے لگی ۔ یہ تبدیلی نرالی وانوکھی تبدیلی صرف اور صرف آپ ﷺ کی حکیمانہ تعلیم اور گہری تربیت اور عمل آوری سے واقع ہوئی۔ آپ  ﷺ کی سیرت مطہرہ کے بہت سے شاندار وشاہکار پہلو ہیں اور ان میں سے ایک انتہائی عظیم پہلو یہ ہے کہ اللہ رب کریم نے حضرت ابراھیم ؑ کی دعاکو شرفِ قبولیت عطاکرتے ہوئے آپ ؐ کو معلم بناکر مبعوث فرمایا(سورہ بقرہ :129) پیارے نبی  ﷺ نے اپنے منصب کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔ اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا ’’میں معلم بناکر بھیجاگیاہوں ‘‘(ابن ماجہ 229) سب سے پہلی وحی الٰہی علم ہی سے متعلق ہے۔ ’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، پڑھوتمہارارب بڑا کریم ہے جس نے قلم کیذریعہ علم سکھایا‘‘(سورہ علق)
ان مختصر و دل نشین آیات میں تعلیم کو مرکزو محور ومنشاء بنایاگیا۔ نبی امی غارِ حرا میں مقصد ِ زندگی کی تلاش وجستجو میں محوتھے کہ حقیقت کیا ہے اور زمانے کے اسرارورموز پر غوروفکر کرتے رہے ، ہم کون ہیں اور کیوں ہیں ؟وحی الٰہی کی بدولت مضطرب و پریشان دِل کوقرارآیا۔ دِل منور ہوگیا۔ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ علم کارشتہ ’’اسمِ رب ‘‘ سے ہونا چاہیے۔ اس لئے کہ علم اسی کاعطا کردہ اور اسی کے طفیل ہر طرح کی ترقی وبرکت ممکن ہے۔ وہی خالق ، مالک اور رب ہے ۔ پیارے نبی  ﷺ نے بھی اپنے ارشادات کے ذریعہ تعلیم کی افادیت پر روشنی ڈالی ’’عالم کو عابد پر اتنی ہی فضیلت ہے جتنی کہ چودہویں چاند کو ستاروں پر فضیلت ہے ‘‘علم کے حصول کو ہرفرد کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ،آپ  ﷺ نے مزید کہا’’علم کاحاصل کرنا ہر مسلمان مردو عورت پر فرض ہے ‘‘تاریخ کی آنکھوں نے شاید ایساانوکھا علم پرورباب نہیں دیکھاہوگا۔ غزوہ ء بدر کے قیدیوں کی رہائی کے لئے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی اور ان میں سے جولکھناپڑھناجانتے تھے ، ان کی رہائی اس شرط پر مقرر کی گئی کہ وہ دس (10) مسلمان بچوں کولکھنا پڑھنا سکھادیں۔ مزید آپ  ؐ نے دوسری زبانوں کے سیکھنے کی بھی ترغیب دی ۔ ذیل میں چند امتیازی صفات کا احاطہ کیاجارہاہے۔
طالب علم کاخیرمقدم 
آپ ﷺ نے کہابچے جنت کے باغوں کاپھول ہیں۔ عطیہ ء خداوندی اور اللہ کی نعمت ہیں ۔ ماں باپ کی آنکھوں کانور اور دل کاسرور ہیں۔
بچے بڑوں کے لخت جگرونورِ نظر ، آرزوؤں وتمناؤں کا محورومرکز او رمستقبل کی امید ہیں۔ یہ بچے معاشرے کے چہکتے مہکتے ، لہکتے اور چمکتے پھول ہیں۔ ان شاہین بچوں کی آ بیاری وباغبانی اور تعلیم وتربیت میں جہاں والدین کا مرکزی کردار ہوتاہے وہیں اساتذہ کا فرض منصبی ، تاکہ ہونہار بچے پھلے پھولیں ، پروان چڑھیں اور ملک وملت کاروشن ستارابن کرجگ مگ کرتے رہیں۔ آپ  ﷺ کی سیرت ِ طیبہ سے بات ثابت ہے کہ آپ  ﷺ نے طلب علم کی غرض سے آنے والوں کاحسن ِ استقبال کرتے ہوئے انھیں خوش آمدید کہا۔ آپ  ﷺ نے حضرت صفوان  ؓ کا خیرمقدم فرمایا اور ساتھ ہی انھوں نے بشارت دی کہ فرشتے بھی طالب علم کی تکریم وتعظیم کرتے ہوئے راہوں میں پر بچھاتے ہیں۔ مچھلیاں ان کے حق میں مغفرت طلب کرتی ہیں۔ طلبہ کی خیرخواہی اور علمی فروغ کو عملی شکل ’’اصحاب ِ صفہ‘‘ کی شکل میں دنیا کاپہلا باقاعدہ ’’رہائشی مدرسہ، تعلیمی مرکز‘‘(Residential) قائم کیا۔ مسجد نبوی  ﷺ میں وہ چبوترہ آج بھی اس دور کی یاد تازہ کرتاہے۔  Residential School، جدید اسکولس ،کالجس ، یونیورسٹیز کے لئے مثالی نمونہ بنا۔علم کی تعلیم وترغیب سے متعلق آپ نے کہا’’رات کے کچھ حصے میں علم کاپڑھنا پڑھانا شب بیداری سے بہتر ہے ۔ حضرت ایوب بن موسیٰ سے روایت ہے کہ آپ  ﷺ نے فرمایا’’کسی باپ نے اپنی اولاد کو اچھے ادب سے بہترعطیہ نہیں دیاہے ‘‘مسجد نبوی میں بیک وقت آپ  ﷺ ایک طرف حلقہ ذکر دیکھتے ہیں اوردوسری جانب تعلیم وتعلم، تودونوں سے خوش ہو کر مجلس ِ تعلیم کو ترجیح دے کر اس میں شریک ہوتے ہیں۔ پیارے نبی  ﷺ کا یہ اسوہ ء مبارک آج اسکول اور کالجس اور یونیورسٹیز کے آغاز میں Orientation Programکے نام سے جوجلسے منعقد کرتے ہیں ، وہ احسن عمل ہے ۔ بقول شاعر    ؎
بڑھ گئی رونقِ محفل تمہارے آنے سے
دِل نے خوش آمدید کہا ، لب نے آفرین کہا
حوصلہ افزائی Encouragement  
بقول ڈاکٹر فضل الٰہی ، پیارے نبی  ﷺ ، اپنے طلبہ کی اچھی باتوں اور عمدہ کام کی ان کے سامنے تعریف فرماکر ان کی عزت افزائی کرتے ۔ توفیق ِ الٰہی سے یہ طرزِ عمل شاگردوں کو علم وعمل میں رسوخ پید اکرنے اور سرتوڑ جدوجہد کرنے کاذریعہ بنتاہے ۔ سیرت ِ طیبہ سے چند مثالیں۔
۱۔ حضرت ابی بن کعب کو علم کی مبار ک باد دی۔
۲۔ ابوموسیٰ  ؓکی عمدہ تلاوت کی تعریف کرتے ہوئے کہا‘‘تمہیں تو آل داؤ دوالی بہترین آواز دی گئی ہے‘‘
۳۔ ابوطلحہ کے صدقہ کرنے پرشاباشی۔ آفرین ، یہ تو آخرت کیلئے فائدہ بخش حال ہے۔
اللہ اکبر ! کس قدر بلندوبالاتھی یہ ہمت افزائی ۔ رسول  ؐ کی زبانی حوصلہ افزائی وہ محرک ہے جو جذبوں کواُبھارتا ہے۔ صلاحیتوں کواُجاگر کرتاہے۔ اور کچھ کرنے کاحوصلہ عطاکرتاہے۔اگر اساتذہ کرام طلبہ کے ساتھ خلوص، محبت ، اور خیرخواہی سے پیش آئیں اور حوصلہ افزائی کرتے رہیں تو شاگردوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوتاہے ۔ اور شخصیت نکھرجاتی ہے ۔ اسی لئے علامہ اقبال نے کہا   ؎
دیارِ عشق میں اپنامقام پید اکر
نیازمانہ ،نئے صبح وشام پیدا کر
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں
طلبہ کی صلاحیتوں کااِدراک 
نبی  ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کی صلاحیتوں کااِدراک کرکے انہیں علم وعمل کی قیادت عطافرمائی۔ کلاس میں ہر بچہ انوکھا اور ممتاز خوبیوں کامالک ہواہے ۔ ان کوپہچانیں اور آگے بڑھیں   ؎
ایک پتھر کی قسمت بھی سنورسکتی ہے
شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے
۱۔ حضرت عمر اور ابوجہل کو دیکھا ۔ دعا فرمائی کہ ان سے اسلام کومعزز بنا۔ حضرت عمر ؓ میں تبدیلی آئی تو کس شان سے آئی۔
۲۔ چار اشخاص سے قرآن سیکھو۔۱۔ عبداللہ ابن مسعود۔۲۔ حضرت ابی بن کعب۔۳۔ معاذبن جبل۔۴۔ سالم  ؓسے۔  ۳۔ علم فرائض میں زیدبن ثابت ؓ  کے قول کوتمام پر ترجیح دینے کی تاکید کی۔ اور حضرت معاذ بن جبل ؓ سے متعلق کہاکہ آپ حلال وحرام کاعلم تمام سے زیادہ رکھتے تھے ۔ نبی کریم  ﷺ دینی علم جاننے والے طلبہ (صحابہ کرام ) کی صلاحیتوں کے مطابق ان میں سے ہرایک کے ساتھ معاملہ فرماتے۔ لہٰذا اساتذہ کرام کوچاہیے کہ جماعت میںبچوں کی شاہینی صلاحیتوں کاادراک کرکے انہیں آگے بڑھائیں۔
منزل سے بڑھ کرمنزل تلاش کر
مل جائے تجھ کودریا تو سمندر تلاش کر
عمل کے ساتھ تعلیم 
تعلیم وتربیت میںمعلم کی شخصیت اور اس کی سیرت اہم اور بنیادی کردار اداکرتی ہے۔ آپ  ﷺ اپنی تعلیمات کاعملی نمونہ تھے۔ ۱۔ جس بات کامعلم اپنے شاگردوں کو حکم دے وہ خو دبھی اس کرے ۔۲۔ جس با ت سے روکے ، اس سے خود بھی دور رہے ۔ عمل کااثر دِلوں پر الفاظ سے زیادہ ہوتاہے ۔ عمل کی آواز زیادہ بلند ہوتی ہے۔ پیارے نبی  ﷺ اپنی تعلیمات کاعملی نمونہ تھے۔ حضرات ِ صحابہ کو جس بھلائی کاحکم دیتے، نہ صرف یہ کہ خود اس پر عمل کرتے بلکہ اس کے کرنے میں پیش پیش رہتے، جن برائیوں سے منع کرتے ان سے خود سب سے زیادہ دور رہتے۔ سیرتِ مطہرہ میں اس بارے میں کثرت سے مثالیں موجود ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔ ۱۔ کثرت سے ذکرِ الٰہی کرتے ۔ ۲۔آپ کس قدرپانچوں نمازوں کی حفاظت کاخیال کرتے تھے۔ غزوات میں بھی نمازیں ترک نہیں ہوتی تھیں۔ آپ  ﷺ نے صحابہ کرام کو نمازکی تلقین فرمائی تو خود اپنا عالم یہ تھاکہ آپ  ﷺ چاشت ، اشراق ، اوابین ، اور تہجد کا اہتمام فرماتے تھے۔ تہجدبھی ایسی کہ کھڑے کھڑے پاؤں پرورم آجاتاتھا۔ مرض ِ وفات میں بھی آپ نے صحابہ کے کندھوں کے سہارا لے کرنماز باجماعت کیلئے مسجد تشریف لاتے۔۳۔ دعوت الیٰ اللہ کابہ کمال اہتمام فرماتے ۔ ۴۔ خندق کھودنے میں شریک، مسجد کی تعمیر میں بھی پیش پیش رہے، وغیرہ  ؎
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطر ت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
طلبہ سے استفسار(سوال ) 
اُستاد کے طلبہ سے استفسار میں غوروفکر کی دعوت بتلائی جانے والی بات کی طرف اور بات کو سمجھنے کی قوی ترغیب ہوتی ہے ۔ سرورِ دوعالم  ؐ بسااوقات بات بتلانے سے پہلے اسی موضوع کے متعلق متوجہ کرنے شاگردوں سے سوال فرمایاکرتے تھے۔ ۱۔ کیاتم جانتے ہو مفلس کون ہے ۲۔ بتاؤ اس شخص سے متعلق تمہاری کیارائے ہے ؟۳۔ یہ کون سا دِن ہے ۔یہ کون سا شہر ہے ۔ یہ کون سا مہینہ ہے۔یہ طرزتجسس کو اُبھارنے، غوروفکر کرنے پھر ان کے سامنے اپنی بات پیش کرنے کاایک کارآمد ذریعہ ہے ۔سوا ل کو اُٹھانا اور سوالات کاخیرمقدم کرنا بھی منصب ِ معلمی ہے۔ حضور ﷺ نے تعلیم کے فروغ کے لئے سوال کویہ فرماکر بڑی اہمیت دی کہ علم ایک صندوق ہے جس کی کنجی سوال ہے   ؎
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جوکام دوسروں کے
اِن شاء اللہ آئندہ آپ ﷺ کی معلمانہ محبت وشفقت ، وقت کی قدر ، زبان کا استعمال ، عدل وانصاف کا احاطہ کیاجائے گا۔ بقول مولانا محمد حنیف عبدالمجید ’’میرا مقصد ِ زندگی یہی ، میراوظیفہ یہی ہے ‘‘دنیا کی زیب وزینت ، رنگینی ورعنائی سے میرامکان خالی ہے۔ اس کامجھے غم نہیں ہے۔ دنیا کے فانی ہونے والے چند چیتھڑوں سے میرابدن مزین نہ ہوسکے ، اس کی مجھے فکر نہیں۔ مجھے غم او رفکر ہے تو یہی کہ میرا حشر قیامت کے دن معلمین کی صف میں ہو، اُمّت کے معماروقائدین کی صف میں ہو۔اُمّت کے نگران ورہبروں کی صف میں ہو۔ حضور ؐ اورصحابہ ؓ کی صف میں ہو’’یہی میری تمنا ، یہی میری آرزو ، میرامقصد ِ زندگی ‘‘    ؎
اُجالا جس کے دم سے تھا، اندھیرے جس سے لرزاں تھے
اُسی شمع فروزاں کی کمی ہے آج محفل میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے