اجمیر شریف کے وقار کو مجروح کرنیوالی منحوس فلم اجمیر 92 کیخلاف رضا اکیڈمی کی مہم میں علمائےاہلسنت نے بھی آگے آکر فلم کی مذمت کی!

سہارنپور(احمد رضا): ملک بھر میں ان دنوں مسلم طبقہ کے خلاف ایک خاص قسم کی سازش تیزی سے پنپ رہی ہے جس میں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے لیکر ہمارے بزرگوں اور علماء کرام کو  نفرت اور حقارت کی نظر سے پیشِ کیا جانا مسلم افراد کو بلاوجہ پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دینا مسلم طبقہ کو گھروں اور تجارتی مراکز سے باہر نکال کر انکا مال و اسباب خرد برد کر دینا اسکے علاوہ مسلم لڑکیوں کے خلاف شرمناک اور توہین آمیز بیانات دینا اور پھر ان بیہودہ ویڈیوز کو وائرل کرنا و غيرہ  ان ذلیل اور نیچ سطح کی حرکات کو سبھی مسلم قائدین اور علماء کرام دیکھ اور سن رہے ہیں مگر کوئی بھی احتجاجی مظاہرے کے لئے ظالموں کے خلاف سڑک پر اتر نے کو تیار نہیں اے سی کمروں میں بیٹھ کر بیانات دئے جاتے ہیں قوم کی تباہی پر تماشائی بنے رہتے ہیں مگر کچھہ تنظیمیں اور فعال لوگ ہمیشہ اس جبر کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں ان شرمناک حرکات کے خلاف ملک بھر میں غم اور غصہ لگاتار عام شہریوں میں اب بڑھنے لگا ہے اسکے علاوہ  اجمیر شریف کے وقار کو مجروح کرنیوالی فلم اجمیر 92 اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ دارالعلوم حنفیہ چشتیہ عزیزیہ میں محافظ ناموس رسالت اسیر مفتئ اعظم الحاج محمد سعید نوری بانی و سربراہ رضا اکیڈمی و نائب صدر آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء کی آمد ہوئی۔

اس موقع پر شہر کے بزرگ عالم دین مولانا قاری محمد احمد بقائی نے اپنے رفقاء کے ساتھ نوری صاحب کا شاندار استقبال کیا اور کہا کہ کچھ شرپسند عناصر حکومت کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے امن وشانتی کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں  مسلم بزرگوں اور علماء کرام کو بدنام کرنے پر آمادہ ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں نفرت کا بازار گرم ہے ظاہر سی بات ہے کہ جب حکومت ان شر پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی تو ان  شرپسند عناصر کا حوصلہ مزید بڑھتا ہی جائے گا، اس ظلم اور جبر کے خلاف لگاتار رضااکیڈمی نے امن شانتی اور بھائی چارہ کو نقصان پہونچانے والوں کے خلاف تحریک چھیرڑ رکھی ہے ایسے میں ہر امن پسند شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ وطن عزیز میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے رضااکیڈمی کے ساتھ ہر اس شخص کا ساتھ دے جو امن کا خواہاں ہے واضح رہے کہ رضااکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری آج بریلی شریف سے لکھنؤ پہونچے مدرسہ حنفیہ چشتیہ عزیز نگر جہاں پر پہلے ہی سے علمائے کرام کی ایک کثیر تعداد موجود تھی نوری صاحب نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لکھنؤ میں ہمارے آنے کے مقصد سے آپ بخوبی واقف ہوں گے علمائے کرام نے ہاں میں جواب دیا تب نوری صاحب نے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تخریبی ذہن وفکر کے لوگ فلم اجمیر 92 کے ذریعہ سرکار غریب نواز قدس سرہ کی حرمت کوپامال کرنے کی ناپاک سازش اور سلسلہ چشتیہ کو بدنام کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا ہندوستان کے سارے مذاھب کے لوگوں کی خواجہ غریب نواز سے عقیدت جڑی ہوئی ہے یہ بھی یاد رہے کہ لکھنؤ شہر کے سرکردہ معمر عالم مولانا قاری محمداحمد بقائی کی سرپرستی میں علمائے اہلسنت کا غریب نوازکنونشن کا انعقاد ہوا۔ جس میں الحاج محمد سعید نوری کو علمائے اہلسنت لکھنؤ نے یقین دلایا کہ تمام علمائے اہلسنت آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہیں اور کھلے لفظوں میں اس متنازعہ فلم کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے فلم اجمیر92  پر فوراً پابندی لگانے کی مانگ کرتے ہیں۔

مولانا عبدالحسیب خان مصباحی نے کہا کہ اگر حکومت نے اس نازیبا حرکت پر توجہ نہ دی تو غریب نواز کے چاہنے والے کروڑوں ہندو مسلمان اٹھ کھرے ہونگے اور پورے بھارت میں غریب نواز کے گستاخوں کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کردیں گے، مولانا قاری محمد منظور بقائی اور لکھنؤ شہر کے موجود تمام علمائے کرام مدرسہ حنفیہ چشتیہ کے مدرسین وطلبہ نے سماج میں نفرت پھیلانے والے فلم اجمیر 92, کو مسترد کرتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کی مانگ کی۔ اس موقع پر مولانا عباس رضوی مبلغ تحریک ودرود وسلام مولانا اصغرالزماں مولانا عبدالجبار حشمتی مولانا معصوم رضا نوری مولانا عقیل الرحمن مولانا نیاز احمد قادری اسرار احمد وارثی مولانا آصف رضا مولانا محمد شاداب رضااور دیگر علماء کی موجودگی میں مولانامحمد اعظم حشمتی نے کہا کہ لکھنؤ کی تمام تنظیمیں اور ادارے رضااکیڈمی کے ساتھ ہیں اگر اس نفرتی فکر کے لوگوں پرکاروائی نہ کی گئی تو زبردست احتجاجی تحریک چلائی جائے گی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے