مضمون نگار: ڈاکٹر محمد محبوب ظہیرآباد

دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں. جنہیں عہدے، کرسیاں اور منصب عزت بخشتے ہیں. جبکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں.جو عہدوں اور کرسیوں کو عزت بخشتے ہیں.اپنی محنت، لگن اور ایمانداری سے اپنی منفرد شناخت بناتے ہوئے دوسروں کے لئے ایک مثال قائم کرتے ہیں. ان ہی شخصیات میں سے ایک شخصیت جناب فہیم الدین قریشی صدر تلنگانہ اقلیتی اقامتی تعلیمی ادارہ جات سوسائٹی اور ایک شخصیت بی شفیع اللہ (آئی ایف ایس) سکریٹری تلنگانہ اقلیتی اقامتی تعلیمی ادارہ جات سوسائٹی کی ہے. جنہوں نے تلنگانہ اقلیتی اقامتی تعلیمی ادارہ جات سوسائٹی کے قیام اور اس کے پھلنے اور پھولنے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے بلکہ اپنی دور اندیش قیادت اور قوم کی ترقی کی فکر کو لیکر ٹمریس کو صرف اس ایک دہائی میں اس مقام پر لاکر کھڑا کیا کہ ٹمریس صرف تلنگانہ میں ہی مشہور نہیں بلکہ عالمی سطح پر ٹمریس کا نام اور کام مشہور ہوگیا ہے. دوسری ریاستوں کے محکمہ اقلیتی بہبود بھی اب اس طرز پر اپنی تعلیمی ادارے کھولنے کوشاں ہے. ٹمریس کے طلباء نہ صرف ملک بلکہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا بیرون ملک بھی منا رہے ہیں. ٹمریس کے طلباء ناسا کو بھی گئے ہیں. ٹمریس کے قیام سال 2016 میں کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ٹمریس اتنی جلدی کامیابیوں کے پرچم لہرائے گا اور اتنا مقبول ہوجائے گا کہ خلیجی ممالک میں رہنے والے والدین بھی اپنے بچوں کو ٹمریس میں پڑھانے کی تمنا رکھتے ہونگے . آج ٹمریس کی ترقی اور شہرت کا جو بول بالا ہے.. یہ صرف اور صرف مدبر و مفکر صدر فہیم الدین قریشی اور حرکیاتی و دور اندیش سکریٹری  بی شفیع اللہ کی بے لوث اور انتھک کوششوں کا ثمر ہے. یہاں اس بات کا تذکرہ بھی بیجا نہ ہو گا کہ ٹمریس کی ترقی میں یہاں کے تمام اسٹاف کی مجموعی کارکردگی اور خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا. بلکہ یہ تمام اساتذہ کی شب و روز کی کاوشوں کا ثمرہ ہے. بی شفیع اللہ، (آئی ایف ایس) سکریٹری تلنگانہ حکومت اور ٹیمریس (تلنگانہ مائناریٹیز ریذیڈنشل ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز سوسائٹی) کے اداروں کی ترقی کے بارے میں بیان کرتا ہے:”بی شفیع اللہ، آئی ایف ایس، نے ٹمریس کے تحت تلنگانہ میں اقلیتی طلبہ کی تعلیمی ترقی اور فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں. اگر میں مثال دوں تو سر سید احمد خان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تحت جو کارہائے نمایاں انجام دئیے تھے. اس صدی میں سکریٹری صاحب بھی وہی کارنامہ انجام دیتے ہیں. ہمارے ہر دل عزیز سکریٹری ٹمریس کے اساتذہ اور طلباء کو ایک خاندان کی طرح محسوس کرتے ہیں. ان کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھ کر اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں. ، جنہوں نے سکریٹری ٹی ایم آر ای آئی ایس کے طور پر ریاست میں اقلیتی ریذیڈنشل اسکولوں اور کالجوں کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں. ان کی قیادت میں ٹی ایم آر ای آئی ایس نے ریاست بھر میں معیاری تعلیم اور ہمہ جہتی تربیت کے مواقع فراہم کرتے ہوئے ہزاروں طلبہ کی زِندگیوں میں انقلاب لایا ہے. ٹی ایم آر ای آئی ایس: اقلیتی طبقات کی تعلیمی ترقی کے لیے ایک ویژن اور مشن کے تحت کام کرتا ہے.
سال 2014 میں علاقہ تلنگانہ کا علاحدہ ریاست کی حیثیت سے سے وجود پانے کے بعد پیشرو حکومت بالخصوص سابق چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلمانوں کی جامع ترقی کے لئے سال2016 میں تلنگانہ اقلیتی اقامتی تعلیمی ادارہ جات سوسائٹی کے نام سے ایک سوسائٹی قائم کیا. اس سوسائٹی کو محکمہ اقلیتی بہبود کے ماتحت کیا. لیکن فیصلہ سازی میں یہ سوسائٹی خود مختار ہوگی.
ٹی ایم آر ای آئی ایس (ٹمریس) کے قیام کا اصل مقصد اقلیتی طلبہ بالخصوص مسلم، عیسائی، سکھ، بدھ، پارسی اور جین برادریوں کو جدید اور معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرتے ہوئے انہیں بھی ترقی کے دھارے سے جوڑنا ہے. اس طرح سوسائٹی کے قیام کے بعد حرکیاتی شخصیت اور قوم کی ہمدرد شخصیت جناب بی شفیع اللہ آئی ایف ایس کو سکریٹری اور جناب اے کے خان صاحب کو صدر کے طور پر مقرر کیا گیا. تاہم بی شفیع اللہ صاحب کی رہنمائی میں 204 ریذیڈنشل اسکول اور 12جونئر کالج صرف 18 ماہ کی مدت میں قائم کیے گئے، جو ایک عالمی ریکارڈ ہے. یہ ادارے تعلیمی، سماجی اور جذباتی نشوونما کو ترجیح دیتے ہیں اور ایک محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں. ان اسکولس میں سماجی، معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ خاندانوں کے بچے، مہاجر بچے، خانہ بدوش افراد کے بچے، ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت سے محروم بچے، ایڈس سے متاثر والدین کے بچے، سطح غربت سے نچلی زندگی گزارنے والے والے خاندانوں کے بچوں سے لیکر بڑے عہدوں پر فائز والدین کے بچے بھی تعلیم حاصل حاصل کر رہے ہیں. سابق حکومت کے لگائے اس پودے کی آبیاری میں شفیع اللہ صاحب نے
اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے. ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سوسائیٹی میں بھی تبدیلیاں واقع ہوئے.  صدر سوسائٹی کی تبدیلی ہوئی اب فہیم الدین قریشی صاحب ٹمریس کے صدر ہیں. جبکہ سکریٹری سر بی شفیع اللہ صاحب کا بھی کچھ عرصہ کے لیے تبادلہ کیا گیا تھا. تاہم اب وہ دوبارہ ٹمریس کے سکریٹری کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں. سکریٹری صاحب کے آنے کے بعد ٹمریس مزید ترقی کی سمت رواں دواں ہے. اب 18 سنٹر آف ایکسلینس کام کر رہے ہیں. 24 گھنٹے طلباء کو مفت میڈیکل سروس دستیاب ہے. اس کے علاوہ ٹمریس کے اوقات کار میں مثبت تبدیلی کی گئی ہے.انفراسٹرکچر اور علمی کامیابیاں ٹی ایم آر ای آئی ایس مفت تعلیم، کتب، یونیفارم، اسپورٹس کِٹس، غذائیت بخش غذا (دن میں تین بار)، صحت کی دیکھ بھال اور رہائش فراہم کرتا ہے؛ یہاں تربیت یافتہ عملہ موجود ہے. ہزاروں قابل اساتذہ کی مدد سے طلبہ قومی امتحانات میں نمایاں نتائج حاصل کرتے ہیں: جیسے نیٹ، ای ایم سیٹ، جے ای ای وغیرہ.. نمایاں کامیابیاں یہ ہیں: ایس ایس سی میں اعلیٰ کامیابی، طب میں مفت داخلے، جے ای ای ایڈوانسڈ کوالیفائی کرنا، روبوٹکس ورکشاپ میں شرکت، ناسا کا دورہ، اور فیول فری بائیک ایجاد کرنا وغیرہ اہم کامیابیاں ہیں.
      اساتذہ کی تربیت اور اشتراک بی شفیع اللہ نے جدید تدریسی طریقے اور شراکت کو فروغ دینے کے لیےمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے باہمی اشتراک کے ذریعہ اساتذہ خصوصاً اردو اساتذہ کو جدید تدریسی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات کئے گئےاور اس معاہدے کے تحت اساتذہ کی تربیت اور تحقیقی پروگرام انجام دئیے جاتے ہیں جدید لیبارٹری اور تعلیمی وسائل کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی میں طلبہ کی استعداد بڑھائی جاتی ہے. شمولیتی داخلے اور سماجی اثرات ٹی ایم آر ای آئی ایس میں داخلے کے مواقع کو زیادہ سے زیادہ اقلیتی طلبہ کے لیے یقینی بنایا جاتا ہے، دیہی اور شہری علاقوں میں مساوی نمائندگی دی جاتی ہے. ادارے سماجی شعور، قیادت اور مثبت اقدار پیدا کرتے ہیں، طالب علموں کے لئے "گھر سے دور ایک گھر” کا ماحول فراہم کرتےہیں.
  قیادت اور حوصلہ افزائی
بی شفیع اللہ کی قیادت اور طلبہ کے لیے حوصلہ افزائی قابل ذکر ہے، وہ اسکولوں کے دورے کرتے اور بچوں کو مثبت پیغامات دیتے ہیں. اساتذہ کی کارکردگی کو جانچتے ہیں اور انہیں ضروری ہدایات فراہم کرنے ہیں. ٹی ایم آر ای آئی ایس کو اقلیتی تعلیم کے لیے قومی سطح پر ماڈل ادارے کا درجہ ملا ہے. پڑوسی ریاستوں کے وفد تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولس اور ان کا طرزِ کارکردگی دیکھنے تلنگانہ کا دورہ کرتے ہیں. تاہم بی شفیع اللہ، آئی ایف ایس، ٹی ایم آر ای آئی ایس اداروں کی ترقی، جدت اور شمولیتی وژن میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، جس سے ہزاروں طلبہ کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئی ہے. اس کے علاوہ بی شفیع اللہ سکریٹری ٹمریس، اپنے اداروں میں کام کرنے والے تمام تدریسی و غیر تدریسی عملہ کو خاندان کے ایک فرد کی طرح سمجھتے ہیں. گزشتہ دنوں محکمہ اقلیتی بہبود سے جیسے او نمبر 1437 جاری کیا گیا تھا. جس کے مطابق ٹمریس میں کام کرنے والے آؤٹ سورسنگ ملازمین کی تنخواہوں میں بھاری کٹوتی ہورہی تھی. یہ جی او جاری ہوتے ہی آؤٹ سورسنگ ملازمین بہت پریشان ہوگئے تھے. تاہم سکریٹری صاحب نے محکمہ فینانس سے جاری اس جی او کو اندرون 12 گھنٹے منسوخ کروایا اور دوسرا جی او نمبر 1459 جاری کرواتے ہوئے سابق تنخواہ کی بحالی کی ضمانت دی گئی. اس طرح یہ کارنامہ انجام دے کر آؤٹ سورسنگ ملازمین کو سکریٹری صاحب نے ایک راحت فراہم کی ہے. جو ان دور اندیشی اور انسانی ہمدردی کی عمدہ مثال ہے۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے