آگ بجھائے بجھنے نہ پائے دنیا ہے حیران

میں بڑے ادب واحترام کے ساتھ چند معروضات آپ کی خدمت میں پیش کرنے پر مجبور ہوں،اس امید پر کہ ان کی طرف توجہ دیکر فوری طور پر سد باب کرنے کی کوشش کیجائے گی۔
میں آپ کی توجہ اس وقتـ اتر کاشی ضلع کے ـ پرولا قصبہ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی جمہوری ملک کا صدر عوام کے دل کی دھڑکن اور سارے مسائل کو دور کرنے کا ذمہ دار ہوتاہے، آپ تو جمہوریت کا اہم ستون ہیںبلکہ آپ سراپا جمہوریت ہیں ایسے وقت میں آپ کی ذمہ داری دوگنا ہوجاتی ہے مگر میں دیکھ رہاہوں کہ آج ایک ڈیڑھ ماہ سے مسلمانوں کو اس قصبہ سے در بدر کرنے کی سازش چل رہی ہے بلکہ بر سر عام چیلنج کیا جارہا ہے مگر ابھی تک وزیر اعظم کو لب کشائی کی توفیق نہیں ہوئی اور نہ وزیر داخلہ کی کوئی کوشش اور نہ بلڈوزر سرکار کی طرف سے کوئی اپیل۔
ان حالات میں جب کہ یہ قصبہ کو فرق واریت کے آگ میں جلنے پر مجبور کر دیا گیا ہے وہاں مسلم باشندوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے ، یہ سب رات کی تاریکی میں نہیں بلکہ دن کے بارہ طجے اجالے میں انجام دیے جارہے ہیں اس کی وجہ سے ایک مخصوص طبقہ نقل مکانی پر مجبور ہو چکا ہے یہ صورت حال ملک میں جہاں خانہ جنگی کی دعوت دیتی ہے وہیں ہماری جمہوریت پر دن دہاڑے یلغار ہے، تو پھر آپ کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ فوری طور پر مداخلت کر کے ان حالات پر قابو پانے کی کوشش کریں۔
چند سوالات آپ کی خدمت میں۔
(۱) کیا مسلمان اس ملک کا معزز شہری نہیں ہے؟
(۲) کیا مسلمانوں نے اس ملک کو آزاد کرانے میں غیر معمولی قربانیاں پیش نہیں کی ہیں؟
(۳) کیا اسی کو رام راج کہتے ہیں؟
(۴) یہ کون لوگ ہیں جو ہمارے ملک عزیز کو اس ناگفتہ بہ حال سے دوچار کیا ہے اوایک طبقہ کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ان کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں؟
(۵) کیا ہماری عدالتیں جیسے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اس ظلم و ستم کے خلاف کوئی کاروائی کر رہی ہیں؟
(۶) اگر یہ دہشت گردعناصر فورس کے کنٹرول میں نہیں آ رہے ہیں تو ان کے خلاف فوج کیوں نہیں لگائی جاتی اور مسلمانوں نقل مکانی سے کیوں نہیں روکا جاتا؟
(۷) اس وقت ہمارے سیاسی لیڈران کو سانپ سونگھ گیا ہے کہ اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہی ہیں۔
ان حالات میں بس آپ کا در ہے جس کو کھٹکھٹایا جانا ضروری ہے۔
اسلئے یہ فقیر آپ کی خدمت میں چند معروضات پیش کرنے پر مجبور ہواہے امید ہے کہ ان فاششت طاقتوںکے خلاف کاروائی
کیجائے اور دہشت گردی کا مقدمہ قائم کرکے ان کو پابند سلاسل بنایا جائے اور مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت کا فوری طور پر انتظام کیا جائے۔

آگ بجھائے بجھنے نہ پائے دنیا ہے حیران

مولانا اے۔کے۔رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا
کشی نگر، یوپی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے