محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

۱۔چغلی نہیں  
اس نے اعلان کردیا کہ ’’میں یہ لکھناوکھنا چھوڑ رہاہوں‘‘ مجھے حیرت ہوئی ۔ میں نے کہا’’وہ کیوں ؟‘‘ اس نے ایک سگریٹ سلگائی اور اس کا کش لیتے ہوئے کہا’’لکھنے میں ایسالگتاہے کہ کسی نہ کسی چغلی ہورہی ہے۔ اس لئے چھوڑرہاہوں ‘‘ مجھے اس کی اس چھوٹی سوچ پرحیرت ہوئی ۔ میں نے استفسار کیا’’اگر کسی پر ظلم ہورہاہے اور آپ موبائل کے ذریعہ پولیس کو اطلاع دے رہے ہیں کہ فلاں جگہ ظلم ہورہاہے براہ کرم جاکر مددفرمائیں تو کیا وہ چغلی کہلائے گا‘‘اس نے فوری کہا’’نہیں ۔ یہ تو ظالم کے خلاف کھڑے ہونا اور مظلوم کی مدد کرناہے ‘‘ میں نے کہا’’میاں تیرا بھی لکھناوکھنا کسی نہ کسی مظلوم کی مدداور ظالم کے خلاف کھڑا ہوناہے ۔ اس کو چغلی نہیں کہاجاسکتا‘‘اس نے میری طرف سے نگاہ ہٹاکر آنے جانے والے افراد پر گاڑھ دی ۔ کش پر کش لگائے جارہاتھا۔
۲۔ نماز جانا ہے 
نما زبھی پڑھنا تھامیں ذرا جلدی میں تھا۔ اسی اثناء میں موبائل بجنے لگا۔ مجھے موبائل نہیں اٹھانا تھالیکن اٹھانے کانتیجہ یہ ہواکہ آدھاگھنٹہ تک بات چیت ہوتی رہی ۔ میں یہ نہیں کہہ سکاکہ مجھے نماز جانا ہے۔ خود پر افسوس کرتے ہوئے گھر پر نما ز اداکرلی ۔
۳۔ نہ ماننے والے 
بارشیں بہت زیادہ تھیں ۔ اپنے پختہ مکان اور ہمیشہ چلنے والے کاروبار پربیٹھا حبیب احمد افسوس کررہاہوں کہ آج کل دھندا مندا ہے۔ اس کو کیاپتہ کہ بارشیں ہوتی ہیں تو روزمرہ کاکاروبار ٹھپ ہوکر رہ جاتاہے۔ اس کاتو ہمیشہ چلنے والا کاروبار ہے۔ میںنے حبیب احمد سے کہاکہ ’’کبھی اپنے کاروبار سے اٹھ کر سروے کرلیاکرکہ روزمرہ ٹھیلہ بنڈیوں پر یا فٹ پاتھ کنارے بیٹھ کر کاروبار کرنے والوں کا بارشوں کے دوران کیاحال ہوتاہوگا؟ گھر میں ان کے چولہا جلتاہے تو اس چولہے پر پکتا کیاہے ؟ تو تو روزانہ کھچڑی ، تہاری ، بگھارا اور گوشت کھارہاہے‘‘ کوئی مانے تب نا، حبیب احمد بھی ان میں سے ایک ہے ۔
۴۔متاثرہ پروسیس 
عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ دے دیاتھا۔ ہم خوش تھے ۔ اورکچھ دن بعد غافل بھی ہوگئے تھے۔ ہمیں پتہ نہیں تھاکہ عدالتیں موقع محل کی مناسبت سے فیصلے دیتی ہیں۔ جب ملک کے حالات دگرگوں ہوگئے تب ایسے وقت ہمارے خلاف فیصلہ آیا۔ ہم قومی سطح پر بھی بیانات دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکے۔ اب نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ہمارے لوگ بھی عدالتی پروسیس اور اس کے فیصلوں سے بدظن ہوچکے ہیں اور جین زی نسل کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
۵۔ حاضری 
وہ آیا اور غریبوں کا مسیحا بن کر چھاگیا۔ دوسرے قائدین جو 40_40سال سے پارٹی میں کام کررہے تھے ، پیچھے رہ گئے۔ آج 20سال بعد وہ قائدین برملااظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی تو ہمارے پاس 20سال پہلے ہی آچکاتھا۔ وہ چیٹ جی پی ٹی بن کرآیا اور اس نے ہماری قیادت کو تہس نہس کردیا۔ آج ہم اس کے ایک ایک اشارے کے محتاج ہیں۔ صرف ہم ہی نہیں شہر کی مختلف سیاسی اور سماجی جماعتوں کی قیادت اس کے پاس حاضری دیتی ہے۔اوراپناکام کرلے کرواپس جاتے ہوئے اس کی صحت مندی اورلمبی عمر کی دعا دی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے