(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: ضلع ہیڈکوارٹر سے متصل شہر کے مرکز میں واقع سدھارتھ نگر پولیس اسٹیشن سے کچھ ہی فاصلے پر محلہ کھجوریا وارڈ نمبر 12، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نگر، نگر پالیکا پریشد سدھارتھ نگر، پولیس اسٹیشن و ضلع سدھارتھ نگر میں پیر کی رات تقریباً 2 بجے چور ایک گھر میں گھس گئے اور چاقو کی نوک پر ایک خاتون کے پہنے ہوئے زیورات اور اس کے تین ماہ کے شیر خوار بچے کے گردن پر چھری رکھ کر تمام قیمتی سامان اور زیورات لوٹ لے گئے اور راشن وغیرہ تتر بتر کر دیا۔
کھجوریا کے رہائشی جمال نے بتایا کہ پیر کی رات 2 بجے جب اس کے گھر کے سب لوگ نیند کی آغوش میں تھے تبھی تین نامعلوم نقاب پوش افراد گھر میں داخل ہوئے انہوں نے اس کی بھابھی شمیمہ کے تین ماہ کے شیر خوار بچے کے گلے پر چھری رکھ کر اور اس کا منہ کپڑے سے دبا دیا جس سے اس کی بھابھی شور و غل نہیں کر سکی۔ اس نے بتایا کہ انہوں نے اس کی بھابھی کے تمام زیورات ایک سونے کا ہار، بالیاں، ایک منگل سوتر اور چاندی کی پازیب کو زبردستی لوٹ لیے اور گھر کا تمام سامان برتن، راشن وغیرہ بکھیر کر فرار ہو گئے۔
اس واقعے کی اطلاع فوری طور پر 112 نمبر پولیس کو دی گئی جس کے فوراً بعد مقامی تھانے کی پولیس پہنچی۔ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور اسے شکایت درج کرانے کے لیے صبح پولیس اسٹیشن واپس آنے کا کہہ کر چلی گئی۔
جمال نے واقعہ کی اطلاع ایک تحریری درخواست کے ذریعے سدھارتھ نگر پولیس اسٹیشن انچارج کو دوسرے دن صبح دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کا تحقیق کرکے کارروائی کرے گی۔
جمال نے بتایا کہ شام سے کئی بار بجلی کی سپلائی منقطع ہوئی تھی جس سے چور موقع کا فائدہ اٹھا کر گھر میں داخل ہو گئے۔
اب سوال یہ ہے کہ محکمہ پولیس پورے ضلع میں ہونے والی چوریوں کو بے نقاب کیوں نہیں کر رہی ہے جس سے عوام غم و غصے سے دوچار ہو رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس معاملے کا پردہ فاش نہیں کرے گی تو عوام کا غصہ تشدد میں بھی بھڑک سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مبینہ چور کہیں عوام کی گرفت میں آجاتے ہیں تو عوام اپنے حساب سے اُن کی خوب خاطر داری کرتی ہے۔
تاہم افسوس کا مقام ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ تاحال ان چوریوں کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
حیران کن اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ان دنوں پولیس پٹرولنگ کا راز بھی فاش ہو رہا ہے اتنا ہی نہیں گاؤں اور محلوں میں اپنے فرائض سرانجام دینے والے0 چوکیداروں کی تعداد قابل اعتراض ہے۔ ایسے میں شہر کے باسی اور محلے کے مکین سارا دن کام کرنے اور پھر رات کو پہرہ دینے پر کیوں مجبور ہیں؟ پولیس انتظامیہ نے چوری کی وارداتوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں افواہیں قرار دیتے ہوئے چوروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جیسے ورنہ رات 2 بجے کوئی چور محلے کے وسط میں واقع کسی کے گھر میں داخل نہ ہوتا اورتین ماہ کے شیر خوار بچے کے گلے میں چھری رکھ کر خاتون کا منہ کپڑے سے باندھ کر اُس کا سارا زیورات لوٹ کر یوں ہی نہیں کے جاتے۔
تھانہ انچارج نے مذکورہ واقعہ کے تناظر میں تحقیقات اور کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
