سدھارتھ نگر: ١٤ ستمبر کو منائے جانے والے یوم ہندی کے سلسلے میں پچھلے دنوں ایک شعری نشست ڈاکٹر جاوید کمال کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن "نئی آواز” کے زیر اہتمام ہونے والی اس ١٥٣ ویں شعری نشست میں ضلع کے کئی شعراء اور کویوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر جاوید کمال نے اردو غزل میں ہندی کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزل کے لیے ہندی اور اردو دونوں کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ یوں کہہ لیجئے کہ دونوں بہنوں کی طرح ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل غزلوں میں ہندی کا استعمال بھی ہونے لگا ہے، وہیں ہندی کویتاؤں میں اردو کے الفاظ بھی استعمال ہونے لگے ہیں۔ نشست کا آغاز سنبل ہاشمی گورکھپوری کی ایک نعت پاک سے ہوا ۔

گل تو کیا مدینے کی پتیاں مہکتی ہیں، اس دیار اقدس کی وادیاں مہکتی ہیں۔ مدتیں ہوئیں گزرے اس طرف سے آقا کو، آج بھی وہ طائف کی بستیاں مہکتی ہیں۔

 امجد رحمانی- شیشے کا اک مکان پتھر کے شہر میں، گونگا میں آ گیا ہوں سخنور کے شہر میں۔

 مونو سنگھ – دیح سے نیح کا آکلن ہوگا جب ،روپ سے سنیح کا آکلن ہوگا جب، کیوں نہ تتلی کو بھنورے کچل ڈالیں تب، گندھ سے پھولوں کا آکلن ہوگا جب۔

سنگھ شیل جھلک-

اپنی تقدیر لیے چلتا ہوں, دل یہ امیر لیے چلتا ہوں, تیری یادوں کا پیر کیا مجھ کو, تیری تصویر لیے چلتا ہوں .

ڈاکٹر نوشاد اعظمی-

 تجھے دل سے بھلا کر کے میں زندہ رہ نہیں سکتا، تیری یادیں مٹا کر کے میں زندہ رہ نہیں سکتا۔

 ریاض قاسد –

کتنی دشوار ہے چاہت کی نظر جانتے ہیں، ناصحا جا کے ہم انجام سفر جانتے ہیں۔

 خان افسر فیض-

 ذرا ٹھہرے رہو جناب ہوگا، ہر لمحہ تم پر عذاب ہوگا، آستین میں بیٹھے ہوئے زہریلے سانپوں، وقت آنے دو پورا حساب ہوگا۔

 شو ساگر سحر- لکھے جو لیکھ اور کوتا انہیں آبھار ہندی میں، زمیں سے آسماں تک جو کرے وستار ہندی میں۔

 شاداب شبیری ایڈوکیٹ۔-

 وہ سیہ زلف شب تار سے ملتی جلتی، ایک تصویر میرے یار سے ملتی جلتی، پیالہ مے سے ہیں لبریز وہ نیلی آنکھیں،ابروے خنجر و تلوار سے ملتی جلتی۔

 ڈاکٹر فضل الرحمن شاد-

 دل گرفتہ ہوں اک نظر کر دے، بحر ظلمات میں سحر کر دے، اک ترے لمس کی ضرورت ہے، سنگ بے مایہ ہوں گہر کر دے۔

 ڈاکٹر جاوید کمال-

 سوپن کچھ ساکار ہونا چاہیے کنتو کچھ آدھار ہونا چاہیے، پریم میں گھاٹا کبھی ہوتا نہیں، اس کا بھی ویاپار ہونا چاہیے،

 نشست کے اخر میں صدارت کر رہے سنبل ہاشمی گورکپوری نے کہا-

 جو تیرے ہم خیال ہوتے ہیں، بس وہی باکمال ہوتے ہیں، جب بھی ہوتے ہیں ملک پر حملے، ہم سے کتنے سوال ہوتے ہیں۔

 یوم ہندی پر انہوں نے کہا ہندی دوس پہ دوستوں محفل سجائیں گے، خوشیوں کے گیت گائیں گے اور مسکرائیں گے۔

اس کے علاوہ عبدالحکیم نے بھی اپنے اشعار پڑھے۔صدارت سنبل ہاشمی گورکھپوری نے اور نظامت ڈاکٹر جاوید کمال نے کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے