ازڈاکٹر محمد نعمت اللہ ادریس ندوی
ذی الحجہ کے یہ دس دن جو یکم ذی الحجہ سے شروع ہوکر دس ذی الحجہ کو ختم ہوتے ہیں، اللہ تبارک و تعالی نے ان ایام کو منفرد و بیش بہا خصوصیات و فضائل سے نوازا ہے۔ بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ فضائل و برکات کے اس سلسلہ زریں کی ابتداء رمضان المبارک سے ہی ہو جاتی ہے؛ کیوں کہ اللہ تبارک و تعالی نے عبادتوں کے درمیان عجیب و غریب ترتیب رکھی ہے ۔
سب سے پہلے رمضان المبارک آیا جس کے روزے فرض کئے گئے، پھر رمضان المبارک ختم ہونے پرفورا اگلے دن سے حج کی تمہید شروع ہو گئی ، اس لئے کہ اللہ کے فرمان : ’’ الحَجُّ أَشْہُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ ‘‘(البقرۃ :۱۹۷) ( حج کے مہینے مقرر ہیں)کی تفسیر کے مطابق حج کے تین مہینے ہیںجو کہ شوال ، ذیقعدہ اور ذ ی الحجہ ہیں (ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت،مؤطأ الإمام مالک : ۱۲۴۹، ص۳؍ ۴۹۹ ، بتحقیق ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی ) اور حج کے مخصوص ارکان گرچہ ذی الحجہ ہی میں ادا ہو تے ہیں، لیکن حج کے لئے احرام باندھنا شوال سے جائز ہوجاتا ہے ۔ پھر فریضۂ حج گویاذی الحجہ کے پہلے عشرہ میں ہی انجام پاتاہے؛اس لئے کہ حج کا سب سے بڑا رکن ’’وقوف عرفہ‘‘ ہے جو ۹؍ذی الحجہ کو ادا کیاجاتا ہے اور جس کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’حج تو عرفہ ہی ہے ‘‘(جامع الترمذی :۸۸۹، بروایت عبد الرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ)۔
یہ دن اللہ کی رحمتوں اور عنایتوںکی برسات کادن ہے ؛چنانچہ باری تعالی میدان عرفات میں موجود حجاج کرام اور ساری دنیا کے سبھی مسلمان جن کی توبہ قبول ہوئی اور اعمال اچھے ہوئے ان کو رحمت ومغفرت سے نواز کر جہنم سے چھٹکارا دیتا ہے ۔
اب ایک طرف حج کے سب سے اہم رکن کی ادائیگی کی توفیق ملی کہ گویا حج ادا ہو گیااور دوسری طرف اللہ کی بخشش و کرم کا جھونکا حاجی وغیر حاجی سب کے حصہ میںآیا؛ لہذا اللہ نے اگلے دن یہ ضروری قرار دیا کہ اس کے حضور شکر کا نذرانہ پیش کیا جائے جو کہ قربانی ہے اور یوں دس ذی الحجہ عید قرباں کا پہلادن طے پایا ۔اسی دن حجاج کے لئے رمی کے بعد ذبح و حلق اور طواف افاضہ کوافضل بتایا گیا۔
عبادتوں کے تسلسل کی ان تفصیلات سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ عشرۂ مبارکہ کو ہی اللہ نے اعمال حج اورقربانی کے لئے اختیارفرمایا ہے۔
اس کی امتیازی شان اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے سورۂ فجر کی ابتدائی آیات میںاس کے دس راتوں کی قسم کھائی ہے، فرمان الہی ہے : ’’وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ‘‘(الفجر : ۱ و ۲) (میں قسم کھاتا ہوں فجر کی اور دس راتوں کی)۔ اللہ تعالی کو کسی بات کا یقین دلانے کے لئے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ، لیکن کسی چیز پر اللہ تعالی کا قسم کھانا اس چیز کی عظمت و فضیلت پر دلالت کر تا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ان دس ایام کی اہمیت
وافضیلت یوں بیان فرمائی ہے:
’’مَا مِنْ أَیَّامٍ العَمَلُ الصَّالِحُ فِیْہَا أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنْہُ فِیْ ھٰذِہِ الأیََّامِ ‘‘ یعنی أیام العشر
( اللہ تعالی کو اعمال صالحہ کسی دوسرے دنوں میں اتنے محبوب نہیں ہیں جتنے ان دنوں میں )یعنی ان دس دنوں میں ۔
دریافت کیا گیا کہ کیا اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ وَ لَا الْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَ مَالِہِ فَلَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذٰلِکَ بِشَیْئٍ‘‘(البخاری : ۹۶۹ ، بروایت ابن عباس رضی اللہ عنہ ۔الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔)
( اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں،الا یہ کہ کوئی شخص جہاد میں نکل کر جان و مال دونوں کی قربانی دیدے)۔
اس حدیث نبوی سے عشر ۂ مبارکہ کی قدرومنزلت اور اس میںاعمال صالحہ کی اہمیت و برتری صاف ظاہر ہے کہ سوائے جہاد فی سبیل اللہ کے کسی عمل کو مستثنی نہیں فرمایا۔ ان دنوں کی کوئی سی بھی نیکی دوسرے دنوں کی نیکیوں سے بدرجہا بہتر ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ افضل وقت میں کم درجے کا عمل بھی بیش قیمت بن جاتا ہے ۔ اس طرح گویا اللہ نے حج نہ کر سکنے والوں کے لئے بھی مرتبۂ بلند پالینے کا انتظام فرما دیا ۔
ان ایام کی اس سے بڑی فضیلت اور کیاہو گی کہ وہ عبادتیں جو سال بھر کے دوسرے ایام میں انجام نہیں دی جاسکتیں ،ان کے لئے اللہ نے اسی زمانے کومنتخب کیا اور وہ عبادتیں جیسا کہ بتایا جا چکا ہے حج اور قربانی ہیں ۔ اگر ان عبادتوں کی انجام دہی مقررہ ایام میں ہوئی، تو اللہ کے یہاں قبول ہو ںگی اور ثواب ملے گا ، ورنہ ان کا شمارعبادتوں میں نہیں ہو گا اور اگر کوئی انجام دے تو رائیگاں اور بے سود ہے ، مطلوبہ عبادت ادا نہ ہو گی۔
عشرہ ٔ ذی الحجہ کی فضیلت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میںاہل علم کے مختلف اقوال نقل کئے ہیں ۔کسی نے رمضان المبارک کے عشرۂ اخیرہ کو زیادہ افضل کہا ہے تو کسی نے عشرۂ ذی الحجہ کو ، لیکن تیسرے فریق کی رائے زیادہ اچھی اور معتدل معلوم ہوتی ہے اور اسی کو علامہ نے تمام دلائل کا مجموعہ ہونے کی بنا پر پسند فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ عشرۂ ذی الحجہ کے دن زیادہ افضل ہیں جب کہ رمضان المبارک کے عشرۂ اخیرہ کی راتیں زیادہ افضلیت رکھتی ہیں( تفسیر ابن کثیر ، سورۃ الحج ، آیت نمبر ۲۸ کی تفسیر کے ضمن میں)۔
ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میںلکھا ہے کہ عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت کا سبب یہ معلوم ہو تا ہے کہ اس میں ساری بنیادی عبادتیں جمع ہو گئی ہیں اور یہ نماز ، روزہ ، صدقہ اور حج ہیں، جو کہ حوسرے ایام میں اکٹھا نہیں ہو تیں( فتح الباری، گذری ہوئی حدیث نمبر ۹۶۹ کی تشریح کے ضمن میں )۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ عشرہ ذی الحجہ کے کی فضائل و امتیازات کے پیش نظر وہ کون سے اعمال ہیں جن کااہتمام ہمیں کرنا چاہئے اورکن چیزوںکی ہماری شریعت میں ترغیب آئی ہے تا کہ انہیں انجام دے کر ہم انعام خداوندی کے مستحق بن سکیں:
۱۔ حج و عمرہ : حج کے بارے میں تو یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس کی ادائیگی انہی ایام میں ہوتی ہے۔یوم الترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ سے اس کی ابتدا ہوتی ہے،اگلا دن وقوف عرفہ کا ہے اور پھر یوم النحریعنی دس ذی الحجہ کو مزیدبنیادی اعمال ادا کئے جاتے ہیںجن کی تفصیل گذر چکی ہے، ایام تشریق میں تو گویا حج کی تکمیل ہوتی ہے ۔ جہاں
تک عمرے کا تعلق ہے تواعمال صالحہ کی عمومی ترغیب میں اس کی شمولیت ایک بدیہی
امر ہے ۔، ارشاد نبوی ہے :
’’ تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَ الْعُمْرَۃِ فَإِنَّہُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرََ
وَ الذُّنُوْبَ کَمِا یَنْفِی الْکِیِْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ وَ الذَّہَبِ وَ الْفِضَّۃِ ‘‘(سنن الترمذی: ۸۱۰، بروایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ)۔
(حج اور عمرہ پے درپے کیا کرو کیوں کہ یہ دونوںغربت و افلاس اور گناہوں کو اس طرح دھل دیتے ہیں جس طرح لوہار اور سونار کی بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے)۔
۲ ۔روزے: ان ایام کے مطلوبہ اعمال میں روزے کا شمار یقینا سر فہرست عبادتوں میں ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ ذی الحجہ کے ان دس دنوں کے روزے بہت زیادہ مستحب ہیںاور خاص طور پرنویں ذی الحجہ یعنی یوم عرفہ کاروزہ ( شرح مسلم از نووی ، حدیث نمبر ۱۱۷۶کی تشریح کے ضمن میں)۔
اس دن اللہ تعالی نے حجاج کے لئے حج کا عظیم الشان رکن یعنی وقوف عرفہ تجویز فرمایا ہے، جب کہ عام مسلمانوں کے لئے نویں تاریخ کانفلی روزہ پسند فرمایا گیا۔ اس روزے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے:
’’صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِیْ قَبْلَہُ وَالسَّنَۃَ الَّتِی بَعْدَھُ‘‘(مسلم : ۱۱۶۲، بروایت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ)۔
( عرفہ کے دن جو شخص روزہ رکھے تو مجھے اللہ تبارک و تعالی کی ذات
سے امید ہے کہ اس کے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ
معاف ہو جائیں گے)۔
۳۔ تکبیر : ان ایام میں ہر جائز جگہ چاہے وہ گھر ہو یا بازار یا مسجد تکبیربلند کرنا سنت ہے جس کی دلیل اللہ سبحانہ و تعالی کا یہ قول ہے: ’’وَیَذْکُرُواسْمَ اللّٰہِ فِیْ أَیَّامٍ مَّعْلُوْمَاتٍ‘‘(الحج : ۲۸ ) (اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں) ۔ ان ’’ مقررہ دنوں‘‘سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں جیساکہ بخاری نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے تعلیقا روایت کیا ہے(کتاب العیدین، باب فضل العمل فی أیام التشریق )۔حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما کی روایت کردہ ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ایام میںکثرت سے تکبیر و تہلیل اور حمد وثنا کی ترغیب فرمائی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے :
’’مَا مِنْ أَیَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ وَ لَا أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنَ الْعََمَلِ فِیْہِنَّ مِنْْ ھٰذِہِ الأیََّامِ الْعَشْرِ، فَأَکْثِرُوْا فِیْہِنَّ مِنَ التَّہْلِیْلِ وَ التَّکْبِیْرِ وَ التَّحْمِیْدِ ‘‘( الفتح الربانی لترتیب مسند الإمام أحمد از ساعاتی۶؍۱۶۸،أبواب العیدین، باب الحث علی الذکر و الطاعۃ )۔
( اللہ تعالی کے نزدیک نہ تو دوسرے ایام اتنے پرعظمت ہیںاور نہ ہی اعمال ان میں اتنے محبوب ہیں جتنے ان دس دنوں میں،لہذا ان میں تکبیر و تہلیل اور حمدو ثنا کی کثرت کرو)۔
چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس تکبیر کااہتمام اس درجہ کر تے تھے کہ
حضرت ابن عمر و ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ان دنوں میں بازار میں نکل کر تکبیر پڑھا کر تے تھے،
ان کی تکبیریں سن کر تمام لوگ تکبیریں بلند کیا کرتے تھے (البخاری ،کتاب العیدین، باب فضل العمل فی أیام التشریق)۔حضرت عمررضی اللہ عنہ منی میں اپنے خیمے میں تکبیر پڑھتے تھے تو مسجد میں موجود لوگ اس کو دہراتے اور ان کی تکبیر سن کر سارے اہل منی تکبیر بلند کر تے اور یوں پورا منی تکبیر تشریق سے گونج اٹھتا۔ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ کا بھی منی میں یہی معمول تھا، وہ اس پر ہر فرض نماز کے بعد،اپنے خیمہ میں بستر پر ، اٹھتے بیٹھتے ،چلتے پھرتے ، ہر وقت اور ہر جگہ اس پر عمل کرتے تھے( البخاری ،کتاب العیدین، باب التکبیر أیام منی)۔
اس تکبیر کی دو قسمیں ہیں : تکبیر مطلق و تکبیر مقید۔
(۱) تکبیر مقید: یوم عرفہ کی فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن یعنی تیرہ ذی الحجہ کی عصر تک فرض نمازوں کے بعد تکبیریں کہی جائیں گی۔ اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد ہے:
’’وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِی أَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ‘‘(البقرۃ: ۲۰۳)۔
(گنتی [یعنی قیام منیٰ]کے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو)۔
تکبیر کے الفاظ یہ ہیں:
’’اللّٰہُ أَکْبَرُ، اللّٰہُ أَکْبَرُ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ،وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، اللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ‘‘(شرح فتح القدیر از ابن الہمام ۲؍۸۰)۔
(۲)تکبیر مطلق: اس کاکہ کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ وہ بھی انہی الفاظ کے ساتھ عیدین کی راتوں میں، عیدگاہ جاتے ہوئے ،عید گاہ میںاور اس کے علاوہ عشرۂ ذی الحجہ کے تمام دنوں میں ہر جائزجگہ چاہے وہ گھر ہو یا بازاریا مسجد ہر وقت بہ آواز بلند مسنون ہے ( الملخص الفقہی از ڈاکٹر صالح الفوزان ۱/ ۲۷۷،۲۷۸ )۔
۴- نمازعیدالاضحی : علماء محققین کے نزدیک یہ نماز واجب ہے جس کی دلیل اللہ کا یہ قول ہے:’’فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ‘‘( الکوثر : ۲)( اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو)۔ آیت کریمہ میں نماز و قربانی دونوں کا حکم ایک ساتھ دیا گیا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کی ادائیگی پر ہمیشگی کی ہے اور حکم بھی دیا ہے ، حتی کہ عورتوں کو بھی گھروں سے باہر آکر اس میں شریک ہونے کی تاکید فرمائی ہے(البخاری : ۹۷۱)؛کیوں کہ یہ اسلامی شعائر کے اظہار کا ایک ذریعہ اور اس کا مظہر ہے جس سے ایمان اور تقوی کا پتہ چلتا ہے ۔
اس کی ادائیگی کا وقت سورج کے ایک نیزہ کے بہ قدر اونچا ہونے سے شروع ہو تا ہے اور زوال تک باقی رہتا ہے۔افضل یہی ہے کہ صلاۃ الاضحی کی ادائیگی اول وقت میں ہو؛ تا کہ لوگ جلداز جلد قربانیوں کے لئے فارغ ہوسکیں۔
۵- قربانی : یہ ا للہ کے نزدیک یوم النحرکا سب سے محبوب اور پسندیدہ عمل ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ مَا عَمِلَ آدَمِیٌّ مِنْ عَمَلِ یَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَی اللّہِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ إہْرَاقَِ الدَّمِ ‘‘(جامع الترمذی : ۱۴۹۳)۔
(دسویں ذی الحجہ کواللہ کے نزدیک انسان کا سب سے بہتر عمل خو ن بہانا ہے )۔
نماز عید الاضحی ہی کی طرح قربانی کا بھی شرعی حکم وجوب کا ہے جیساکہ سورۂ کوثرکی آیت مذکورہ سے ثابت ہوتاہے ؛چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ قربانی کا معمول رہاہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اس کی پابندی کی ہے ۔
قربانی کیلئے مخصوص جانور بھیڑ،بکری،گائے،بھینس اوراونٹ ہیں،بشرطیکہ وہ
مطلوبہ عمر کو پہونچ جائیں اور امراض و عیوب سے پاک ہوں ۔ایک بھیڑ یابکری کی قربانی ایک شخص کی طرف سے ہو گی اور ثواب میں گھر والے بھی شریک ہو ں گے اور گائے، بھینس، اونٹ کی قربانی سات آدمیو ں کی طرف سے ہوگی ۔
قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہئے اور تقسیم بھی کرنا چاہئے کہ یوم عید و ایام تشریق خوشیاں منانے ،کھانے پینے اور اللہ کو یادکرنے کے دن ہیںجیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان دو بچیوں کو ڈانٹے جانے پر جوکہ عید کے دن دف بجا بجا کر گارہی تھیں ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :
’’دَعْہُمَا یَا أَبَا بَکْرٍ، إِنَّہَاأَیّامُ عِیْدٍ وَ ہُنَّ أَیّامُ مِنٰی‘‘(سنن النسائی : ۱۵۹۷)۔
(اے ابوبکر! دونوں کو چھوڑ دو ، یہ عید کے دن ہیں اور یہی ایام منی ہیں)۔
نیز فرمایا :
’’أَیّامُ التَّشْرِیْقِ أَیّامُ أَکْلٍ وَ شُرْبٍ وَ ذِکْرِ اللّٰہِ ‘‘(مسلم :(۱۱۴۱)۔
(ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں )۔
۶۔ عام نیک اعمال: حضرت ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ جو دونوں حدیثیں صفحہ ۳ ۱ور ۶ پر پیش کی گئیں، وہ اس بات کی شاہد ہیں کہ عشرۂ مبارکہ کے دوران کئے گئے شریعت میں مطلوب کسی بھی عمل کی ،اللہ کے نزدیک محبوبیت، ان اعمال کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے جو دوسرے ایام میں انجام دئے جاتے ہیں۔
یہ حدیثیں جس طرح ان ایام کو اشرف وافضل ثابت کررہی ہیں اور ان میں بلا تفریق و تحدید اعمال صالحہ کی ترغیب دے رہی ہیں ہے؛اس کی بنا پر ہر مسلمان کو چاہئے کہ ا ن محترم و بابرکت ایام میںبالعموم ہرچھوٹی بڑی نیکی کے لئے اپنی کوششیں تیز تر کردے، چاہے وہ نماز ہو یا صدقہ وخیرات، ذکر و تلاوت ہو یا دینی علم کا حصول ، والدین کے ساتھ حسن سلوک ہو یارشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی، یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری ہو یا بیماروں کی مزاج پرسی ،غریبوں اور مسکینوں کی اعانت ہو یا ضعیفوں اور لاچاروں کی اعانت ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہو یا خدمت خلق و ملت، وغیرہ و غیرہ۔غرضے کہ فرائض و واجبات کے علاوہ ہر جائز و مستحسن فعل کو ان ایام مبارکہ میں جذبۂ صادق کے ساتھ انجام دینا قربت الہی کا زریں موقعہ ہے ۔
اللہ تعالی ہمیں عشرۂ ذی الحجہ کا قدر داںبناکر تمام مطلوبہ اعمال کی توفیق سے نوازے، آمین۔
