مضمون نگار: مفتی نذیر احمد صاحب حسامی ظہیرآباد

        اولیاء کرام اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔ ان کی زندگیاں چراغ ہدایت، ان کے اخلاق آئینۂ سیرت، اور ان کے افعال ایک امت کے لیے نمونہ ہوتے ہیں۔ اللہ نے ان کے وجود کو زمین پر رحمت بنایا ہے تاکہ گم گشتہ قافلہ انسانیت ان کے نقوشِ قدم سے منزل کا راستہ پاسکے۔ اولیاء کے دل اللہ کی محبت سے سرشار اور ان کے اعمال حضور اقدس ﷺ کی سنتوں کا پرتو ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اولیاء اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون اور معاشرے کو حیات ملتی ہے۔
      انہی اولیاء میں سے ایک وہ عظیم المرتبت ہستی ہیں جنہیں پیرانِ پیر، محبوب سبحانی اور قطب ربانی کہا جاتا ہے، یعنی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کی ولادت باسعادت 470ھ بمطابق 1078ء کو ایران کی بستی "گیلان” میں ماہِ رمضان المبارک میں ہوئی۔ آپ کی پیدائش کے ساتھ ہی ایک کرامت ظاہر ہوئی کہ بچپن میں رمضان کے دنوں میں آپ دن بھر دودھ نہ پیتے تھے۔ جب لوگوں کو عید کا چاند دیکھنے میں اشتباہ ہوتا تو وہ آپ کی طرف دیکھتے، اگر آپ دودھ پیتے تو سمجھ لیتے کہ رمضان ختم ہو چکا ہے، ورنہ یقین کر لیتے کہ روزے ابھی باقی ہیں۔ گویا اللہ نے آپ کو گہوارے ہی سے "صدق و تقویٰ” کا چراغ بنایا۔
     آپ ایک نہایت برگزیدہ اور دینی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ والد ماجد حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ جہاد فی سبیل اللہ کے مردِ میدان تھے اور نانا حضرت عبداللہ صومعی رحمۃ اللہ علیہ زہد و تقویٰ کے تاجدار تھے۔ والدہ ماجدہ "ام الخیر فاطمہ” ایک پرہیزگار، تہجد گزار اور متقیہ خاتون تھیں۔ یہ صالح ماحول آپ کی تربیت کے لیے ایک باغ کی مانند تھا، جہاں سے آپ نے ولایت کے خوشبو دار پھول چُنے۔
    ابتدائے عمر ہی سے آپ کی طبیعت دنیاوی کھیل کود کی طرف مائل نہ تھی۔ دوسرے بچے کھیلتے تو آپ ذکرِ الٰہی کرتے، "لا الٰہ” پڑھتے اور ساتھ کے بچے "الا اللہ” دہراتے۔ یہ منظر اس بات کا اعلان تھا کہ یہ بچہ عام نہیں بلکہ”پیدائشی ولی” ہے۔ آج کے بچوں کے لیے اس میں عبرت ہے کہ وہ موبائل گیمز اور بے فائدہ مشاغل میں وقت برباد نہ کریں بلکہ ذکر و عبادت اور علم و عمل کے میدان کے شہسوار بنیں۔
    پانچ برس کی عمر میں والد کا سایہ اٹھ گیا اور آپ کی پرورش والدہ و نانا نے کی۔ جب اٹھارہ برس کے ہوئے تو تحصیلِ علم کے لیے بغداد کا سفر کیا۔ ماں نے چلتے وقت چالیس اشرفیاں کپڑوں میں سی کر دیں اور نصیحت کی: "بیٹا! ساری زندگی کبھی جھوٹ نہ بولنا۔” سفر میں ڈاکوؤں نے قافلہ لوٹ لیا۔ جب انہوں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے سچ سچ بتا دیا کہ میرے پاس چالیس اشرفیاں ہیں۔ ڈاکو حیران رہ گئے اور سردار کے سامنے لے گئے۔ سردار نے پوچھا: "بیٹے! ہم تو ڈاکو ہیں، تمہیں معلوم بھی تھا، پھر کیوں سچ کہا؟” آپ نے فرمایا: "ماں سے وعدہ کیا ہے کہ جھوٹ نہ بولوں گا۔” یہ سادگی اور سچائی ڈاکوؤں کے دل میں اتر گئی۔ سردار توبہ پر آمادہ ہوا اور اس کے ساتھ پورا قافلہ ڈاکو بھی ہدایت یافتہ ہوگیا۔ یہ واقعہ ہمیں سچائی کی برکت کا درس دیتا ہے کہ اگر ایک نوجوان ماں کے عہد کو نباہ سکتا ہے تو ہم اللہ اور رسول کے عہد کو کیوں نہ نباہیں؟
    بغداد میں تعلیم کے دوران آپ نے سخت فاقے اور کٹھن آزمائشیں برداشت کیں۔ کبھی دریا کے کنارے گھاس اور پتے کھاکر بھوک مٹاتے، کبھی کئی کئی دن بھوکے رہتے۔ لیکن یہ سب کچھ علمِ دین کے حصول کے لیے سہہ گئے۔ ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ علم دین آسانی سے نہیں ملتا، اس کے لیے قربانی اور مجاہدہ درکار ہے۔
     علمِ ظاہر کے بعد آپ نے علمِ باطن کے لیے ریاضت و مجاہدہ کا راستہ اختیار کیا۔ پچیس برس تک جنگلوں میں مجاہدے کیے، شیطان کے جال سے بچے اور اللہ کے فضل سے کامیاب ہوئے۔ ایک مرتبہ وضو کرتے وقت آسمان پر روشنی ظاہر ہوئی اور آواز آئی: "اے عبدالقادر! ہم نے تجھ سے نماز ساقط کر دی ہے۔” مگر آپ نے فوراً فرمایا: "لاحول ولا قوۃ الا باللہ! یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو چیز نبی ﷺ پر فرض تھی وہ مجھ پر معاف ہو؟” یوں شیطان کا فریب ناکام ہوگیا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کبھی اپنی عقل یا روحانی کیفیت پر گھمنڈ نہ کریں بلکہ ہر حال میں شریعت کے تابع رہیں۔
     پھر خواب میں حکم ہوا کہ بغداد جاکر وعظ و نصیحت کریں۔ آپ نے فرمایا: "یا رسول اللہ! میں عجمی ہوں، زبان فصیح نہیں۔” نبی کریمﷺ نے اپنے لعابِ دہن سات بار آپ کے دہن میں ڈالا اور حضرت علیؓ نے چھ بار ڈالا۔ اس سے آپ کو وہ فصاحت و بلاغت عطا ہوئی کہ بغداد کے ہزاروں مجمعے آپ کے بیان سے جھوم اٹھتے۔ ایک ایک مجلس میں ستر ہزار سامعین شریک ہوتے اور لوگ اپنے گریبان پھاڑتے ہوئے گناہوں سے تائب ہوجاتے۔ لاکھوں گنہگار آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتے، یہودی و عیسائی اسلام قبول کرتے۔
    آپ غریب پرور اور مہمان نواز تھے۔ مسافر و محتاج آپ کے در سے کبھی خالی نہ لوٹے۔ کبھی کسی بیمار کی عیادت، کبھی کسی مسکین کی دستگیری، کبھی کسی مہمان کی خاطر داری۔ آپ کا اخلاق قرآن کا عملی ترجمہ تھا۔ آپ حلال رزق پر اتنا اہتمام فرماتے کہ اپنی زمین پر خود گندم بوتے اور اسی سے روٹی پکواتے۔ بازار کا آٹا تک استعمال نہ کرتے تاکہ ذرا سا بھی شبہ نہ رہے۔ آج کے معاشرے کے لیے یہ سبق ہے کہ حلال کمائی کے بغیر نہ عبادت میں لذت ہے نہ دعا میں تاثیر۔
    آپ کی وفات 561ھ (1166ء) میں بغداد میں ہوئی۔ جنازے میں ہزاروں لاکھوں کا ہجوم تھا اور آپ کے فرزند سید عبدالوہاب نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ نے علمی و روحانی خزانے امت کے لیے چھوڑے، جن میں  غنیۃ الطالبین، فتوح الغیوب جیسی کتابیں آج بھی چراغِ راہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے